اب تو خاکی لبادہ ہی پہن لیجیے۔۔ غیور شاہ ترمذی

مولانا روم اپنی ایک حکایت میں فرماتے ہیں کہ ‎‏ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے۔۔ دور سے ایک انسان آتا دکھائی دیا۔ ۔ چڑی نے چڑے سے کہا کہ اُڑ جاتے ہیں ورنہ یہ ہمیں مار دے گا۔ چڑا کہنے لگا کہ بھلی لوک دیکھو ذرا،اس کی دستار پہناؤا۔ ۔ اور شکل سے بھی شرافت ٹپک رہی ہے۔ بھلا، یہ ہمیں کیوں مارے گا؟۔ جب وہ شخص قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا مار دیا۔ چڑی اپنی مظلومیت کی فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ہو گئی۔۔ شکاری کو طلب کیا گیا اور اس نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنا جرم قبول کر لیا۔ بادشاہ انصاف پسند تھا، اس لئے اس نے چڑی کو سزا کا اختیار دیا کہ جو چاہے وہ سزا اس شکاری کو دے۔۔ ‎‏چڑی نے کہا کہ اس شکاری کو پابند کیا جاۓ کہ ‎‏اگر یہ شکاری ہے تو لباس بھی شکاریوں والا (خاکی رنگ کا) پہنے اور عام آدمیوں جیسا لبادہ اتار دے۔

مولانا روم کی حکایت تو یہاں تک ہی تھی مگر اس سے آگے اس شکاری کی کہانی یہ ہے کہ بادشاہ نے اسے پابند کیا کہ وہ شکاریوں جیسا خاکی لباس پہنا کرے تاکہ جو اسے دور سے دیکھ کر پہچان کر سکتا ہو، وہ اپنی جان بچا سکے۔۔ شکاری کو چڑیا کی یہ سزا بہت بری لگی مگر بادشاہ کے آگے کیسے چوں و چرا ں کرتا لہذا اس نے پینترا بدلا کہ اسے خاکی رنگ کے علاؤہ کسی دوسرے رنگ میں لبادہ بنانے کی اجازت دی جائے۔ بادشاہ نے اس کی یہ درخواست اس طرح قبول کی کہ خاکی کے علاؤہ وہ کسی دوسرے رنگ میں بھی اگر لبادہ بنائے گا تو وہ رنگ ہتھیار رکھنے والوں کے لئے مخصوص لباس کے رنگ جیسا ہی ہونا چاہیے۔ چڑیا کی خواہش یہی تھی کہ شکاری کو خاکی رنگ پہنایا جائے کیونکہ خاکی رنگ والے دور ہی سے پرندوں کی نظر میں آ جاتے تھے۔ اور وہ اس لئے کہ اس ملک میں شکاریوں کے علاوہ کوئی دوسرا شخص خاکی رنگ پہنتا ہی نہیں تھا۔

شکاری خاکی رنگ کی بجائے دوسرا رنگ کا لبادہ ہی اختیار کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ خوب جانتا تھا کہ چڑیا اپنے جیسے پرندوں کو اس شکاری سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔ شکاری کے پاس زیادہ بجٹ بھی نہیں تھا اور جتنے پیسے اس کے پاس تھے ان سے صرف ایک ہی لبادہ بنوا سکتا تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا وہ بازار گیا تاکہ خاکی کی بجائے کوئی دوسرا لبادہ خرید سکے۔ بازار میں اسے ہر دکان والے نے خاکی رنگ میں ہی شکاریوں کا لباس دکھایا۔ دوسری طرف شکاری کے من پسند گہرے سبز رنگ کے لبادہ میں یہ خوبی تھی کہ وہ اسے پہن کر جنگل کی ہریالی اور سبز جھاڑیوں میں خود کو کیموفلاج کر سکتا تھا۔ یہ اس کی بدقسمتی کہ پورے بازار میں اسے مطلوبہ گہرا سبز رنگ کہیں سے نہیں مل سکا۔ تھک ہار کر اس نے اپنی آخری جمع پونجی سے سفید رنگ کا لباس خریدا اور اسے ایک رنگ ساز کے پاس لے گیا تاکہ اس سے سفید لباس کو گہرا سبز رنگ کروا سکے۔

اس پورے بازار میں رنگ ساز بھی اتفاق سے ایک ہی تھا اور اسے شکاری کی سزا کے بارے میں بھی معلوم تھا کیونکہ وہ چڑیا اسے سارا قصہ سنا چکی تھی۔ کپڑے رنگنے کےکام میں اس کی ساری زندگی گزری تھی اور جیسا بھی چاہتا وہ اس سفید کپڑے کو رنگ دے سکتا تھا۔ لیکن وہ چڑیا اس رنگ ساز کی دوست تھی۔ اس لئے اس نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ وہ شکاری کے کپڑے کو گہرے سبز رنگ کی بجائے خاکی رنگ میں ہی رنگے گا۔ شکاری نے بعد دعا سلام کے اس سے  درخواست کی کہ لباس کو گہرے سبز رنگ میں رنگ دے۔ اب رنگ ساز نے تو قسم کھائی ہوئی تھی کہ شکاری کو خاکی رنگ ہی رنگے گا۔ لہذا اس کو کیا مطلپ گہرے سبز رنگ سے۔ وہ شکاری سے کہنے لگا کہ باؤ جی دفعہ مارو گہرے سبز کو، تم خاکی رنگ کروا لو ۔ یہ تم پر بہت اچھا لگے گا۔

شکاری بولا کہ چچا گہرا سبز رنگ میرے مزاج کے ساتھ میچ کرتا ہے اور میرے صوبہ کے محافظوں کے لبادہ کا بھی وہی رنگ ہے۔ شکاری تھوڑا چپ رہ کر بولا بیٹا خاکی کروا لو خاکی رنگ ٹھنڈا ہوتا ہے۔ شکاری تھوڑی تیز آواز میں بولا چچا آپ گہرا سبز رنگ ہی کرو۔ اور پھر اپنے دل میں بولا کہ مجھے چڑیا کی مرضی کے مطابق خاکی رنگ نہیں کروانا۔ رنگ ساز بولا دیکھو بیٹا جی یہ جو خاکی رنگ ہوتا ہے نا یہ بڑا پکا ہوتا ہے باقی سارے رنگ کچے ہوتے ہیں۔ اب شکاری نے وہ سفید لباس غصے سے چھین لیا اور بولا  چاچا لگتا ہے تمھیں باتوں کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا ،میں کسی اور شہر سے رنگ کروا لوں گا۔ رنگ ساز نے غصے سے لباس واپس چھینا اور مزید غصے سے بولا لاؤ ادھر میں گہرا سبز رنگ ہی کروں گا مگر یاد رکھنا سوکھ کر اس نے پھر خاکی ہی ہو جانا ہے۔

شکاری سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور اسے سمجھ آ گئی کہ اب اسے چڑیا کی خواہش کے مطابق خاکی رنگ کا لبادہ ہی پہننا پڑے گا۔۔ اس نے مایوسی سے رنگ ساز کی طرف دیکھا تو اسے ایسا لگا کہ رنگ ساز بھی اپنی گہری آنکھوں سے اسے کہہ رہا ہو کہ اپنے اوپر سے شرافت، ایمان داری، ہمدردی کا لبادہ اتار دے اور چپ چاپ وہ لباس پہن لے جسے دیکھ کر ہر کوئی یہ سمجھ لے کہ یہ کوئی انقلابی لیڈر نہیں بلکہ ایک شکاری ہے جو معصوموں کا شکار کرنے نکلا ہے۔

مولانا روم کی حکایت کے ساتھ منسلک اس کہانی کو ایک کہانی کی طرح ہی انجوائے کیجیے۔ اس کہانی کے کرداروں کی مقامی سیاست اور انقلابی حکمرانوں سے کسی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہی تصور کی جانی چاہیے ۔ راقم کا ایسا ہرگز کوئی ارادہ نہیں ہے اور یہ محترم قارئین کی اپنی صوابدید ہے کہ وہ اس حکایت اور کہانی کو کس طرح لیتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *