بیلاروس کی مارینا اور تاتار آلسو/ڈاکٹر مجاہد مرزا

مثل برگ آوارہ’سے

 

 

 

 

ذوالفقار ان ایرانیوں کی سرگرمیوں سے متاثر تھا اور مسلسل پیسے مارنے کی مشق کیے جاتا تھا۔ ویسے بھی وہ پنجاب کے اس علاقے سے تھا جہاں زمینداریاں چند ایکڑوں کی ہوتی ہیں اس لیے دشمنیاں کرنا، دھوکہ، فریب دینا، کمائی کی خاطر کوئی حربہ اختیار کر لینا یہ سب عام زندگی کا حصہ ہوتا ہے۔ میں اسے تنبیہہ تو کرتا رہتا تھا لیکن جانتا تھا چونکہ ذوالفقار میری تعظیم کرتا ہے اس لیے ہاں ہاں تو کہے گا مگر نتیجہ ڈھاک کے تین پات کی مانند ہوگا۔ بہر حال مجھے بھی ذوالفقار پسند تھا خاص طور پر اپنی حاضر جوابی اور جگت بازی کے باعث مثلا” ایک روز اس نے کہا تھا “ڈاکٹر صاحب دیکھیں لڑکی کتنی اچھی ہے”۔ میں نے کہا تھا،” ہاں اچھی تو ہے مگر دانت اچھے نہیں”۔ ذوالفقار نے پنجابی زبان میں ترنت جواب دیا تھا،” آپ نے دانتوں سے چنے چبانے ہیں کیا؟” ایسے ہی ایک روز میں نے کسی بات پر کہا تھا،”شیر بھوکا مرے پر گھاس نہ چرے” اس پر بھی وقار نے فوری فقرہ کسا تھا “مگر آپ نے تو گھاس چر لی” ۔ میں نے پوچھا تھا کہ کیسے؟ تو اس نے کہا تھا اس لیے کہ
آپ ہماری سطح کے لوگوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ذوالفقار
میری فکر و دانش کا قدر دان تھا۔

ایک روز میری ذوالفقار
کے ساتھ اسی ہوٹل کی لابی میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ایک پیاری سی دھان پان بوٹا سے قد کی لڑکی تھی جو تھی تو انیس بیس برس کی مگر لگتی پندرہ سولہ سال کی تھی۔ ذوالفقار نے کہا تھا،” آئیں جناب کچھ پیتے ہیں” ہم لابی کے دائیں جانب واقع کیفے میں جا بیٹھے تھے اور چائے کا آرڈر دیا تھا۔ چائے پیتے ہوئے آپس میں باتیں کرنے لگے تھے۔ اس لڑکی کا نام یولیا تھا۔ یولیا ہنس مکھ لڑکی تھی۔ اس کی آنکھوں میں جنسی ہوس ٹھاٹھیں مارتی دکھائی دیتی تھی۔ وہ اس پوری ملاقات کے دوران ذوالفقار کی بجائے مجھ میں زیادہ دلچسپی لیتی دکھائی دی تھی۔ بار بار میری آنکھوں میں جنس سے گاڑھی ہوتی اپنی آنکھیں گاڑ دیتی تھی۔ باقاعدہ ایسے لگتا تھا جیسے دعوت گناہ دے رہی ہو۔ میں آنکھیں چرا لیتا تھا کیونکہ میرا وتیرہ نہیں تھا کہ کسی شناسا کے معاملات میں دخیل ہوں۔

بات آئی گئی ہو گئی تھی۔ مجھے معلوم تک نہیں تھا کہ وہ لڑکی ذوالفقار کے ساتھ شب بتا کر گئی تھی۔ وہ اکثر ایسے اوقات میں فون کرتی تھی جب دفتر میں میں تنہا ہوتا تھا۔ ہم دونوں کی شناسائی ہو گئی تھی۔ میں ہوٹل سے باہر اس کے ساتھ کئی بار مل چکا تھا اور ہم اکٹھے گھومے پھرے تھے۔ جب وہ بہت دن ذوالفقار کے ساتھ دکھائی نہیں دی تھی تو ایک روز میں نے باقاعدہ ذوالفقار سے اجازت مانگی تھی کہ اگر میں اس لڑکی کو بلا لے تو کیا اسے برا تو نہیں لگے گا؟ ذوالفقار نے کھلے دل سے کہا تھا،” خوشی سے بلا لیں، مجھے بھلا کیوں برا لگے گا”۔ میں نے ایک رات اسے بلا لیا تھا۔ میری وہ رات اتنی اچھی گذری تھی کہ میں نے یولیا کو “ماستر” یععنی ماسٹر مطلب یہ کہ ماہر کا لقب دے دیا تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ اس عمل میں ماسٹر ہونے کا جس کی خاطر اس نے میرے ساتھ رات بتائی تھی۔ یولیا کو بھی میں شاید بہت پسند آیا تھا۔ میں نے اسے بتایا تھا کہ میں متاہل ہوں، اس پر اس نے کہا تھا کہ کوئی بات نہیں، ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لے لو، میں کبھی کبھار وہاں آ جایا کروں گی، اس سے زیادہ میرا اور کوئی تقاضہ نہیں ہوگا۔ میں نے اس کی اس تجویز پر کان نہیں دھرے تھے۔ جس روز یولیا آئی تھی، اس روز ذوالفقار شام ڈھلے پہنچا تھا۔ اس کو شاید ریسیپشن والی نے بتا دیا تھا کہ یولیا کے نام پر کمرہ بک ہوا تھا۔ ذوالفقار نے بڑے سپاٹ انداز میں مجھ سے پوچھا تھا،”ڈاکٹر صاحب، یولیا کو آپ نے بلایا ہے؟”۔ میں نے کھسیانا سا ہو کر کہا تھا کہ تم نے ہی کہا تھا کہ چاہیں تو بلا لیں۔ اس پر ذوالفقار بولا تھا “میں نے کوئی اور بات کی ہی نہیں”۔ یہ کہتے ہوئے ذوالفقار غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھا۔ جب میں نے یولیا کو اس بارے میں بتایا تھا تو وہ بولی تھی کہ میری اپنی مرضی ہے، جب اور جس سے جیسا تعلق چاہے بناؤں۔

جب میں اگلے روز گھر پہنچا تھا تو نینا کا مزاج بگڑا ہوا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ تم کل رات ایک لڑکی کے ساتھ تھے۔ چخ چخ کے بعد نینا نے کہا تھا کہ اسے کسی نے بتایا تھا۔ ظاہر ہے اس بارے صرف ذوالفقار کو پتہ تھا اور ذوالفقار کے پاس میرے گھر کے فون کا نمبر بھی تھا۔ وہ نینا سے بھی متعارف تھا۔ میں نے عام مردوں کی طرح اپنی بیوی کی بات کو دروغ پر مبنی قرار دے دیا تھا۔ البتہ میں نے جب ذوالفقار سے استفسار کیا تھا تو اس نے بہانہ گھڑا تھا کہ اس نے پی لی تھی جو اسے چڑھ گئی تھی اس لیے اسں نے بتا دیا تھا۔ میں نے اس سے کہا تھا “میں نے تو آج تک نشے میں تمہاری بیوی کو فون کرکے تمہارے کرتوتوں سے مطلع نہیں کیا” اس پر ذوالفقار نے سرجھکا لیا تھا چنانچہ میں نے بھی مزید ناراحتی ظاہر نہیں کی تھی۔

ان ہی دنوں ریسیپشن سے کوئی لڑکی کمرے کی چابی لے کر گذری تو مجھے وہ بہت اچھی لگی تھی۔ میں نے ریسیپشنسٹ سے پوچھا تھا کہ ابھی جو لڑکی چابی لے کر گئی ہے وہ کس نمبر کے کمرے میں ہے تو اس نے بتانے سے انکار کر دیا تھا۔ مجھے ٹوہ لگ گئی تھی۔ بالآخر دو روز کے بات میں نے کسی طرح معلوم کر لیا تھا کہ وہ کونسے کمرے میں مقیم ہے۔ میں بئیر کی چار بوتلیں لے کر اس کے کمرے کے باہر پہنچا تھا اور دروازے پر دستک دی تھی۔ ماہ جبیں نے دروازہ کھولا تھا تو میں نے معذرت کرتے ہوئے اجازت چاہی تھی کہ کیا میں اس کے ساتھ بیٹھ کر بیئر پی سکتا تھا۔ لڑکی نے دروازے کے پٹ سے ہاتھ اٹھا لیا تھا یعنی اذن مل گیا تھا۔ میں نے ایک بوتل پینے کے بعد جب بیلاروس کے درالحکومت سے آئی مارینا نام کی اس لڑکی کا ہاتھ پکڑا تھا تو اس نے ہاتھ چھڑائے بغیر کہا تھا کہ وہ اس قسم کی لڑکی نہیں اور میں نے “آئی ایم سوری” کہتے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔ مارینا نے کسی کو فون کرنا شروع کر دیا تھا۔ گفتگو میں اس نے کہا تھا کہ اس کے پاس فون کا بل ادا کرنے کے بھی پیسے نہیں ہیں۔ 2 نے یہ سن کر جیب سے دو تین سو روبل نکال کر میز پر رکھ دیے تھے۔ مارینا نے فون پر گفتگو ختم کرنے کے بعد پیسوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا،”یہ کیا ہے؟” میں نے مسکرا کر کہا تھا “فون کا بل ادا کر دینا”۔ وہ ایک ادا کے ساتھ اٹھی تھی اور جھک کر میرے گلے میں بانہیں ڈال کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں میں پیوست کر دیے تھے۔ طویل بوسے کے بعد مارینا نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کرسی سے اٹھایا تھا اور پلنگ پر لے گئی تھی۔ طویل القامت، ہالی ووڈ کی اداکاراؤں کی سی حسین مارینا سپردگی اور شراکت عمل میں بھی باکمال تھی۔ میں خود حیران تھا کہ تین سو روبل سے دگنا تو اس کے کمرے کا کرایہ ہوگا پھر اتنی مہربانی کیوں۔ مگر انسان بھی عجیب مخلوق ہے کبھی چھوٹی سی بات پر بے حد خوش ہو کر اپنا آپ پیش کر دیتا ہے اور کبھی بیش بہا پیشکش پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اب میری تینوں گھی میں تھیں یعنی نینا، یولیا اور مارینا، چوتھی انگلی کو ابھی گھی میں جانا تھا اور پھر پانچویں کو بھی، مگر بہت عارضی مدت کے لیے۔

فلور مینٹیننس کے لیے عموما” ادھیڑ عمر خواتین متعین ہوتی تھیں مگر ایک نئی خاتون کو یہ جاب دیا گیا تھا جو ستائیس اٹھائیس برس کی تھی۔ دبلی پتلی تاحتٰی اس کے سرین بھی لڑکوں کے سے تھے لیکن جنسی کشش پوری پوری تھی۔ میں نے اس کے ساتھ نظریں چار کی تھیں وہ بھی بلا وجہ مسکرانے لگی تھی بلکہ ایک بار تو جب وہ میرے آفس کی ویکیوم کلینر سے صفائی کر رہی تھی تو میری بیوی نینا دفتر پہنچی تھی۔ اسے میرا اور آلسو کا ایک دوسرے کو خاص انداز میں دیکھنا مشکوک کر گیا تھا۔ اس نے آلسو کے جانے کے بعد مخھ سے پوچھا تھا کہ اس خاتون کے ساتھ تمہارا کیا سلسلہ ہے؟ چونکہ ابھی کوئی سلسلہ تھا ہی نہیں، تو میں نے کہا تھا کہ کوئی سلسلہ نہیں۔ نینا نے تنبیہا” کہا تھا “دیکھنا”۔

فلور وومن کے پاس جو کمرہ ہوتا تھا، اس میں بس ایک کرسی اور ایک میز ہوتی تھی۔ ایک روز میں نے اس کے دفتر میں گھس کر دروازہ بند کیا تھا اور کرسی پر بیٹھ کر کہا تھا “کم آن”۔ آلسو نے کہا تھا ” پتہ نہیں کیوں لیکن میں آپ کو انکار نہیں کر سکتی” یوں کرسی ہمارے لیے سیج بن گئی تھی۔ آلسو روس میں طغرل کی واحد دوست خاتون تھی جو میرے لیے “آپ” کا صیغہ استعمال کرتی تھی کیونکہ وہ بنیادی طور پر کازان کی تاتار تھی وگرنہ روس میں تو “آپ” کہہ کرغیر کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ والدین تک کو تم سے پکارا جاتا ہے۔ آلسو پھر ایسی کھلی تھی کہ رات کو فلور کا کوئی بھی کمرہ کھول دیتی تھی بلکہ ایک بار تو جم میں ایکسرسائز سائیکل کی گدی اور ہینڈل نے ہی سیج کا کام دیا تھا۔ جم میں چاروں طرف اوپر سے نیچے تک آئینے تھے۔ نیم شب کو جم شیش محل ثابت ہوا تھا۔ آلسو کا گھر بھی فرلانگ سے زیادہ دور نہیں تھا۔ گھر میں دو کمرے تھے اور اس کا دس سال کا بیٹا۔ خاوند شرابی تھا جو گھر پھٹکتا تک نہیں تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors

مارینا سے ملاقات گاہے بگاہے ہوتی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ایک بار میں ریسپشن میں مارینا سے روبرو ہوا تو میں نے اسے ہائی بولا تھا لیکن وہ بیگانہ بنی کھڑی رہی تھی۔ میری تو لگتا تھا کہ ریسپشنسٹ کے سامنے ہیٹی ہو گئی تھی اس لیے میں وہاں سے کھسک لیا تھا۔ کوئی پانچ چھ گھنٹے بعد مارینا نے اپنے کمرے سے فون کیا تھا اور مجھے یہ کہہ کر بلایا تھا کہ مجھے تم سے اہم بات کرنی ہے۔ مجھے غصہ تو بہت تھا مگر میں چلا گیا تھا۔ مارینا نے وضاحت کی تھی کہ اس وقت جو لڑکی ریسپشنسٹ کے سامنے کھڑی تھی وہ اس کی ہم جنس پرست دوست تھی جو ماسکو میں اس کے قیام کا سارا خرچ برداشت کر رہی تھی۔ وہ بہت حاسد ہے، میں اس کے سامنے کسی مرد سے اپنا تعلق ظاہر نہیں کر سکتی۔ یہ کہنے کے بعد وہ میرے ساتھ لپٹ گئی تھی، جب تک میرے ست کا آخری قطرہ اپنے حلق سے نیچے نہیں اتار لیا تھا، اس نے مجھے نہیں چھوڑا تھا۔ میں خود کو آزاد کرانے کی خاطر اس کو دوسری جانب دھکیل رہا تھا مگر اس نے کسی آکٹوپس کی طرح مجھے جکڑا ہوا تھا اور سب کچھ چوس لینے کے بعد ہی اس نے اپنی گرفت ڈھیلی کی تھی۔ مجھے زندگی بھر نہ تو اس سے پہلے اور نہ کبھی بعد میں ایسی سسکاریاں بھری سرشاری کا احساس ہوا تھا جس سے اس روز مارینا نے اپنی ہم جنسی کے معاوضے کے طور پر متعارف کرایا تھا۔

Facebook Comments

ڈاکٹر مجاہد مرزا
ڈاکٹر مجاہد مرزا معروف مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ وائس آف رشیا اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی "سپتنک" سے وابستہ رہے۔ سماج اور تاریخ آپکے پسندیدہ موضوع ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply