چودھویں صدی میں جرمنی کا ایک شہر تھا ہیملن۔ وہاں کے شہری خوشی خوشی اپنے پتھر کے مکانات میں رہتے تھے۔ مگر چوہوں کی آفت نے آن گھیرا اور طاعون کی وبا پھیل گئی۔ چوہوں نے شہر کو ایک عذاب میں ڈالا، وہ گوداموں اور غلہ گھروں میں پھیل گئے، لکڑی اور کپڑے کو کتر ڈالا۔ لوگوں نے بہت کوشش کی مگر اِس وبال سے جان نے چھڑوا سکے۔
پھر ایک روز ایک پراسرار پائپر کی شکل میں راہِ نجات نظر آئی۔ اس نے ایک پراسرار نغمہ چھیڑا اور چوہوں کو مسحور کر کے دریا میں لے گیا۔ مگر شہر والوں نے اُسے وعدے کے مطابق معاوضہ نہ دیا۔ پائپر نے انتقام لینے کی ٹھان لی۔ وہ دوبارہ شہر میں آیا اور اپنا نغمہ چھیڑا۔ اِس بار شہر والوں کے بچے مسحور ہوئے۔ پائپر اُنھیں لے کر ایک غار میں بند ہو گیا۔ پھر کبھی نہ بچے دکھائی دیے نہ پائپر۔
بعد کی صدیوں نے اِس کہانی کو اپنی ضروریات اور حالات کے مطابق بدلا۔ کہانیوں کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ وہ بدلتی رہتی ہیں۔ یورپ کا رابن ہُڈ تھا تو ہمارے ہاں جگا تھا۔ مگر ہمارے کہانی لکھنے والوں کو ہستی کی گہرائیاں کھرچنے کا شوق ہے، وہ گہرائیاں جو ہیں ہی نہیں۔
ہماری کہانی کون لکھے گا؟ کیسے ہماری بستیوں میں چوہے چھوڑ دیے جاتے ہیں، پھر طاعون پھیلتا ہے تو ٹیکس خور بانسری پکڑ کر آ جاتے ہیں؟ کیسے وہ ہم پر موت سے بھی بڑا معاوضہ لاگو کرتے ہیں؟ وہ اپنے مقدس کارندوں کے ذریعے کیسے ہمیں باور کرواتے ہیں کہ یہ طاعون ہمارے گناہوں کی سزا ہے، اور وہ خود ہمارے نجات دہندہ ہیں؟ اور پھر کیسے بچوں کو گھیر کر غار میں بند ہو جاتے ہیں؟
اُن کے لیے ہمارے بچے کیکر کے پھول ہیں۔ بقول شیو کمار بٹالوی، کیکر کے پھولوں کی راکھی کون کرتا ہے؟ اگر ہتھیلی پر مرچوں کے پتے پیس کر لگا دیے گئے ہوں تو پھر مہندی کا رنگ کیسے چڑھے گا؟
بہت سے دوست نئے بنے ہیں اور پرانی تحریریں اُنھوں نے نہیں پڑھ رکھیں۔ سو شیئر کر رہا ہوں۔ یہ تحریر خود مجھے بھی بہت پسند تھی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں