ہر دور میں بزرگی کو پہنچتی نسل یہ کہتی آئی ہے کہ گزرے زمانے کیا شاندار ہوا کرتے تھے، وقت کے ساتھ زندگی انسان کو بد سے بدتر محسوس ہوتی ہے، فرد اپنے لڑکپن اور جوانی کی یاد سے محظوظ ہوتا ہے کہ جب ہر رنگ شوخ، ہر ذائقہ لذیز ، تعلقات لائق تحسین ، موسم قابلِ تعریف ، خواب دیدہ ذیب اور صحت وجۂ رشک ہوا کرتی تھی، زندگی امنگوں اور اطمینان کا پیکر تھی، اب ہر گزرتے دن ویسے ہی واقعات ان احساسات کو نہیں ابھارتے جیسا پہلے ہوا کرتا تھا، کیا یہ سب جوانی کے بھرپور رنگ تھے جو بڑھاپے میں مدھم پڑ جاتے ہیں یا دنیا واقعی کسی تاریک گڑھے کی طرف محوحرکت ہے؟
تنزلی کا یہ سفر اجتماعی نہیں بلکہ ہر شخص کا انفرادی ہے، دنیا بحیثیتِ مجموعی ایسی بدرنگی کا شکار نہیں، کسی دکان کی سامنے والی دیوار کو اگر دنیا کی بڑی سکرین مان لیا جائے جو کہ سب کیلئے ایک جیسی ہے تو اس دیوار کے ساتھ ، ایک دوسرے کے اوپر رکھے مختلف رنگ کے کپڑوں کے تھان انفرادی سکرین کہلائیں گے، ان رنگوں میں کالے ، سفید، نیلے اور پیلے رنگ کے تھان موجود ہیں، اب جس رنگ کے کپڑے کی آپ تلاش میں ہیں ، دکان کے اندر نظر پڑتے ہیں آپ اسی رنگ کو ہر جگہ دیکھیں گے۔
پیدائش کے بعد بچہ دنیا کو ایسا ہی دیکھتا ہے جیسی وہ ہے، بچپن جیسا بھی ہو بچے کیلئے خوشی کے کئی سامان موجود ہوتے ہیں اور بہتر سے بہترین کیلئے وہ دنیا کو دریافت کرتا جاتا ہے، لطف اور امید کا یہ سفر تب تک جاری رہتا ہے جب تک بچے کا سامنا کسی بڑی ناکامی سے نہیں ہوتا، وہ سمجھنا شروع کر دیتا ہے کہ کچھ خواب بس خواب ہی ہوتے ہیں، دنیا میں کروڑوں لوگ اس سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں اور کسی سماجی مقام کا حصول سخت محنت اور مقابلے کا متقاضی ہے ۔ یہاں سے اس کا اضطراب بڑھنا شروع ہوتا ہے، شکایت اور رونے دھونے کی عادت ہی وہ منفی طاقت ہے جو فرد کو گھسیٹ کر زندگی کی نچلی سطح پر لے آتی ہے۔ یہ منفی انرجی جو اس کے دل و دماغ سے خارج ہو رہی ہے بالآخر ایک منفی پیرامیٹر پر جا ٹکتی ہے، یہ حضرتِ انسان ہی کا خاصہ ہے کہ برے حادثے کو مسلسل ذہن میں دہراتا رہتا ہے ،باقی جاندار اس برائی سے پاک ہیں ، ایسے میں فشار خون بڑھتا ہے، انسان غصے اور چڑچڑے پن کا اظہار کرتا ہے، اور اس غصے کو وہ غلطی سے اپنی طاقت سمجھتا ہے، حالانکہ یہ رویہ کسی مکھی کے پھڑپھڑانے جیسا ہے جب وہ مکڑی کے جالے میں پھنسی ہو، غصہ اور اضطراب حالات کو صرف سنگین تر بناتے ہیں ۔اس کا اظہار جتنا زیادہ ہوگا ، دلدل کی گہرائی بڑھتی جائے گی ۔
ایسے میں آپ کو لگتا ہے کہ اب وہ دور نہیں رہا، اچھے زمانے لد چکے، لیکن آپ کے ہمسائے کے لڑکے کو لگتا ہے کہ زندگی نہایت خوبصورت ہے، کیا ایسا اس لئے ہے کہ وہ ابھی عمر کے اس حصے میں جس حصے میں آپ پر بھی قدرت مہربان تھی؟ لیکن تب، یعنی آپ کے لڑکپن یا نوجوانی میں جو نسل آپ سے عمر میں بڑی تھی، وہ بھی تو ایسے ہی شکوہ شکایت کیا کرتے کہ اب وہ دور نہیں رہا، معاملہ یہاں صرف انسانی نفسیات کے اس پہلو تک محدود نہیں کہ ماضی بعید کا اچھا وقت یادداشت میں دیر تک برقرار رہتا ہے ، شکوہ تو اب کی حالت پہ کیا جا رہا ہے ،گویا کہ موجودہ حالت ماضی کی نسبت ابتر ہے، ایسے میں یہ دعویٰ کہ دنیا مجموعی طور پر پہلے جیسی اچھی نہیں رہی باطل ہے کہ اگر ہر نسل کی شکایت پر کان دھرتے ہوئے یقین کر لیا جائے تو دنیا کو اب تک جہنم کی دہلیز پہ ہونا چاہیئے تھا۔
دنیا کا سٹیج سب کیلئے ایک جیسا ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قسمت ہر ایک نے مختلف پائی ہے، اس میں کئی مختلف فیکٹرز اس کی وجہ ہو سکتے ہیں لیکن ایک ایسا فیکٹر جس کی طرف کم توجہ دی جاتی ہے وہ اس سٹیج کی ڈیکوریشن ہے، اگرچہ سٹیج کے کردار بھی مختلف ہوا کرتے ہیں لیکن کرداروں سے زیادہ اہمیت ڈیکوریشن کی ہے، مثلاً ایک ہی بارش کو ایک شخص کوڑے کے ڈھیر پر سر کو شاپر سے ڈھانکے دیکھ رہا ہے جبکہ دوسرا شخص اپنی بالکنی سے ہاتھ میں کافی کے مگ کے ساتھ انجوائے کر رہا ہے، ایک شخص خوبصورت نوجوانوں کے ٹولے کو بھرپور زندگی سے لطف اندوز ہوتے دیکھ رہا ہے ،جبکہ دوسرا آدمی اسے لفنگوں کا گروہ سمجھ رہا ہے، یہی اس سٹیج کی ڈیکوریشن ہے کہ آپ سٹیج پہ کیا دیکھ رہے ہیں ۔
ہر شخص اپنی زندگی میں اچھے اور برے وقت سے گزرتا ہے، ایسے بھی افراد موجود ہیں جو بڑھتی عمر کے ساتھ زندگی جینا شروع کرتے ہیں، ہر سال ان کیلئے نئی خوشی اور کامیابی لا رہا ہے، یہ معاملہ سوچ اور تخیل کا ہے کہ آپ کے دماغ سے نکلی انرجی مثبت ہے یا منفی، آپ دکان پہ کالے رنگ کا تھان ڈھونڈھ رہے ہیں یا سفید رنگ کا ، اب یہ تھان چونکہ ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہیں اور ان کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں تو جان لینا چاہئیے کہ زندگی میں مشکلات اور آسانی ایک دوسرے سے ایسے ہی جڑے ہیں، معاملہ ہماری سوچ، ہماری خواہش اور ہمارے رویوں کا ہے کہ ہم کیا تلاش رہے ہیں، پیچیدگی صرف یہ ہے کہ ہماری شعوری تلاش سفید تھان کی ہو سکتی ہے لیکن فرد نہیں جانتا ہوتا کہ لاشعور کالے تھان پہ توجہ مرکوز کئے ہیں، ایسے میں سفید رنگ چاہنے کے باوجود خریدا کالا تھان ہی جائے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں