گناہگار نور جہاں اور تبلیغی جماعت۔۔ حافظ محمد صفوان

میں نے نوکری شروع کی تو وہی مسائل پیش آئے جو نئی نئی نوکری میں آتے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ کہ سارے دفتر میں نئے طریقے چلانے کی کوشش اور اس سے پرانے ملازمین میں اٹھنے والا شدید ری ایکشن۔ اس دور میں دفاتر میں کمپیوٹر نیا نیا آیا تھا۔ بڑے افسروں کے کمروں میں کمپیوٹر پر گھونگھٹ کی طرح کور ڈال کے رکھا ہوتا تھا اور اس کور کی ماہانہ صفائی کی جایا کرتی تھی۔ کیا دور تھا کہ کمپیوٹر بند ہوتا تھا لیکن کام چلتے رہتے تھے۔ آج ہر ایک کے پاس کمپیوٹر ہے تاہم کام خدا کی مرضی سے ہوتا ہے۔

افسروں سے پھڈے ہوتے کہ فلاں کام اس طرح کیا جائے یا اس طرح کیا جائے۔ وہ بتاتے کہ قانون اس طرح ہے لہٰذا کام اسی طرح کیا جائے۔ یوں “اچھی کتابوں” میں شامل ہونا ذرا کم ہی رہتا۔ ایک بار یہ مسئلہ تبلیغی جماعت کے ایک پرانے بزرگ سے ڈسکس کیا جو مرکزی حکومت میں سیکرٹری ریٹائر ہوئے۔ انھوں نے چھوٹتے ہی کہا کہ حافظ صاحب، آپ کا اپنے افسران سے پھڈا اس لیے رہتا ہے کہ آپ نے ان کو دعوت دینے کی نیت ہی نہیں کی۔ عرض کیا’ کیا مطلب؟ فرمایا کہ اگر آپ نے کبھی سوچا ہوتا کہ فلاں افسر کو تبلیغی کام میں کس طرح لگانا ہے اور ان کو کبھی کبھی شبِ جمعہ جانے کی دعوت دیتے ہوتے تو آپ کا ان سے ڈیلنگ کا طریقہ ہی مختلف ہوتا۔ وہ کبھی آپ کے ساتھ تبلیغی مرکز جاتے یا نہ جاتے، آپ ان کے ساتھ ضرور اچھا رویہ رکھتے اور تبلیغی ترتیب کے مطابق ان کے لیے دعا بھی کرتے۔ اس طرح آپ کا دفتر میں کسی افسر سے خوامخواہ پھڈا نہ ہوتا۔ میرے لیے یہ نصیحت بہار کا جھونکا ثابت ہوئی۔ میں نے اپنا فریم آف ریفرنس تبدیل کر لیا۔

ملکہ ترنم نور جہاں ایک ممتاز فنکار اور باصلاحیت عورت تھیں۔ ان سے پروفیشنل جیلسی اور ان کی ناموری کی وجہ سے ان کی مخالفت شروع دن سے چلتی رہی اور آج تک جاری ہے۔ وہ ویسی ہی ایک انسان تھیں جیسے سب ہوتے ہیں، خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ۔ اللہ نے ان کو جسم دیا تھا، جس کا انھوں نے ویسے ہی بھلا اور برا استعمال کیا جیسے سب لوگ کرتے ہیں۔ قیامت کے دن جیسے باقی سب لوگوں کی زبانوں پر مہر ہوگی اور ان کے اعضا کے افعال کی گواہی ان کے ہاتھ پاؤں دے رہے ہوں گے بالکل ویسے نور جہاں کے افعال کا پورا log سامنے آ جائے گا۔ شوکت رضوی ہوں یا کوئی ناتحقیق مولانا مامور من اللہ، ان سب کو اپنی تحریروں میں باقی رہ جانے والی  کمی پورا کرنے کے لیے اس دن شائع ہونے والی logbook کا انتظار کرنا ہوگا۔ البتہ اللہ کی رحمت نور جہاں کی نیکی کو اس کے ہر گناہ پر بھاری کر دے، اس کا علم اور فیصلہ فقط اس مالکِ یومِ الدین ہی کے ہاتھ میں ہے۔

اواخر 1995 میں تبلیغی جماعت کے ساتھ لاہور میں تشکیل ہوئی۔ قریب ہی میڈم نور جہاں کا گھر تھا۔ ہم ان کے ہاں گشت کے لیے چلے گئے۔ ملازم چوکیداروں نے بھگانے والی کی۔ میں نے پرچی پر تعارف لکھ کر دیا تو میڈم نے فوراً بلوا بھیجا۔ ہم چند منٹ بیٹھے۔ وہ اللہ رسول اور پنجتن پاک کا ذکر کرتی رہیں اور آنکھیں بھیگتی رہیں۔ انھوں نے باصرار ہمیں بٹھایا اور چائے پلائی۔ مغرب کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ ہم نے اجازت چاہی تو کافی سارے نوٹ لفافے میں رکھ کر دینے لگیں۔ میں نے عرض کیا کہ ہم لوگ تو صرف یہ درخواست لے کر آئے ہیں کہ آپ کے گھر کے مرد کبھی اس مسجد میں بھی تشریف لایا کریں جہاں ہم اس وقت موجود ہیں۔ انھوں نے پیسے دینے پر اصرار کیا تو عرض کیا کہ ہم لوگ پیسے بالکل نہیں مانگتے۔ ان کے لیے یہ بات حیرت کی تھی کہ کوئی مذہبی لوگ ایسے بھی ہیں جو پیسہ نہیں مانگتے اور اس پر دیر تک حیران ہوتی رہیں۔ عرض کیا کہ ہمارا آنے کا مقصد یہی ہے کہ آپ گھر کے مردوں میں سے کسی کو مغرب کی نماز میں بھجوا دیجیے۔ جاتے وقت میں نے سر جھکایا اور ان سے سر پر ہاتھ پھروا لیا۔

القصہ مغرب کی نماز میں ان کا ایک ملازم آیا اور بیان کے بعد کہنے لگا کہ آپ کو میڈم بلا رہی ہیں اور گاڑی بھجوائی ہے۔ ہم دو ساتھی چلے گئے۔ انھوں نے جماعت کے لیے کھانا بھجوایا اور میرے نہ نہ کرتے ہوئے بھی اگلے تینوں دن ان کے ہاں سے مہمانی ہوئی۔ مجھے اور جماعت والوں کو دوپٹہ پھیلا پھیلا کر دعائیں دیتی تھیں۔ یہ منظر کبھی نہ بھول سکوں گا۔ خدا ان کی مغفرت فرمائے۔

اس واقعہ سے جسے معلومات کے اخفا کے ساتھ لکھا گیا ہے، سمجھنے کی بات یہی ہے کہ فرقوں میں بٹے مسلمان جو ساری ساری زندگی ایک دوسرے کی مسجد کا رخ نہیں کرتے، اگر خالص دین کے اعمال کی دعوت لے کر ایک دوسرے سے ملیں تو غیریت کی یہ دیواریں گر سکتی ہیں۔ میڈم نور جہاں کے ہاں پندرہ منٹ چائے پر کی جانی والی بات نے ان کو اپنے گھر کے رہنے والے مردوں کو اگلی نماز میں ایسی مسجد میں بھجوا دیا جہاں ان کے فرقے کے مسلمانوں کو کافر کہا جاتا ہے۔ اور پھر تین دن ان کے ہاں سے کھانا آتا رہا اور ان کے گھر کے لوگ آکر بیانات و ذکر کی مجالس میں شرکت کرتے رہے۔

لوگوں کے دل خدا کے قبضے میں ہیں۔ وہ جب چاہے دلوں کے حال کو بدل دے۔ جو متدین لوگ میڈم نور جہاں یا ان جیسے کسی اور انسان کے خلاف ہلکی باتیں لکھ کر اچھالتے ہیں، یہ وہ کم قسمت لوگ ہیں جنھوں نے کبھی ایسے کاموں میں لگے مسلمانوں کی اصلاحِ احوال کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہوتی۔

یاد رکھنے کی بات ہے کہ ہر انسان دنیا میں کوئی نہ کوئی حیلہ معاش کر رہا ہے۔ آپ کسی کے ذریعہ معاش کو غلط سمجھتے ہیں تو اسے مطعون کرنے کے بجائے متبادل ذریعہ معاش سے جوڑنے کی کوشش کیجیے۔ نبی کریم نے پیالہ لے کر مانگنے والے کو پیالہ بکواکر کلھاڑی خریدوا دی تھی۔ گناہگار کو گناہگار کہنا کوئی کمال نہیں، ہے کوئی جو گناہ کی زندگی میں غرق انسانوں کو متبادل مصروفیت دینے کا سوچے؟

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *