لنچ باکس اور عرفان خان/مسلم انصاری

بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ 29 اپریل سن 2020 میں فقط لیجنڈری اداکار عرفان خان ہی اس دنیا سے نہیں گئے بلکہ عرفان خان کی موت سے چار روز قبل 25 اپریل کے دن جے پور میں ان کی والدہ سعیدہ بیگم بھی انتقال کرگئیں تھیں۔
عرفان خان نے 1995 میں لیکھک سوتاپا دیویندر سکدر سے(جو ان کی این ایس ڈی میں کلاس فیلو تھیں) شادی کی اور سوتاپا وہ تیسری فرد تھیں جن کا انتقال بھی 2020 میں ہی ہوا۔
حقیقی زندگیوں میں بھی عرفان خان جیتا ہی!
ہارا نہیں!
فلم دی لنچ باکس کے تین مرکزی کرداروں میں سے نواز الدین کا مسلم، ایلا کا ہندو اور عرفان خان کا عیسائی دکھایا جانا اپنے آپ میں یہ وضاحت ہے کہ بڑے شہروں میں دکھ اور تنہائی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

7 جنوری 1967 بھارت کے شہر ٹونک میں پیدا ہوا سعیدہ بیگم اور یاسین علی خان (جے پور کے مسلم نواب خاندان) کا بیٹا صاحب زادہ عرفان علی خان ایک دن سچ مچ اپنے نام میں سے نوابی لقب ہٹاکر غلط ٹرین کے ذریعے صحیح جگہ پہنچ گیا۔
وہ آنکھیں جو اب ہمیشہ کے لئے بند ہوچکی ہیں اور وہ آواز جو پھر حقیقت میں کبھی نہیں سنی جا سکتی پردے پر اب بھی گھومتی پھرتی دکھائی پڑتی ہے تو یقین نہیں ہوتا کہ  نیرواینڈروکرائن ٹیومر سے جوجتا عرفان خان اب سچ مچ جا چکا ہے۔

عرفان خان کا سفر محدود نہیں تھا۔۔
وہ ہالی ووڈ، بالی ووڈ، کمرشل، نان کمرشل اور دوسرے درجے کی بلکہ ہر درجے کی فلموں میں اپنی منفرد چھاپ چھوڑتا چلا گیا۔
یہ وہ چہرہ تھا جس کے پاس باڈی، 6 ایبس، رنگ روپ اور بناوٹی خدوخال جیسا کچھ نہیں تھا لیکن اس کے پاس لگن، محنت، سچی اداکاری اور اپنے دیکھنے والوں سے محبت بٹورنے کا فن بخوبی بھرا ہوا تھا۔
اس تمثیل کے اعتبار سے عرفان خان نے اپنے جیسے اور بعد میں آنے والے لوگوں کے سبھی راستے اور راہیں ہموار کر دیں۔
جس کی  بولتی کہانی نوازالدین، وجے راز، منوج پائی، راج کمار راؤ اور پنکج ترپاٹھی ہیں۔۔

یہ کہنا بالکل غلط نہیں کہ 2013 سے قبل ڈائریکٹر رتیش بٹرا کو ان کی کسی شارٹ فلم کی وجہ سے نہیں جانا گیا مگر 2013 میں lunchbox فلم اور عرفان خان نے رتیش بٹرا کو بھی ایک نامور مقام پر لا کھڑا کیا۔۔
اس کے لئے عرفان خان کو ایشیائی فلم اعزاز برائے بہترین اداکار سے بھی نوازا گیا۔

فلم لنچ باکس کے ذریعے انڈیا نے 2015 میں BAFTA ایوارڈز میں آفیشل انٹری لی ،بعد میں یہ فلم برٹش کولمبیا، کینیڈا میں وینکوور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی دکھائی گئی۔

ہم میں سے کتنے ہی لوگ جو روز سوشل میڈیا کے ذریعے نامعلوم افراد کے انباکس میں سچی محبت کی تلاش میں پیغامات ارسال کرتے ہیں عین اسی طرح ایک انہونی کی مانند فلم لنچ باکس میں کسی دوسرے کے کھانے کا ٹفن عرفان خان کو پہنچ جاتا ہے اور پھر بِنا دیکھے ، ایک دوسرے کی آواز سنے بغیر ایک ایسا تعلق جنم لیتا ہے جو دیکھنے والے کو جکڑ لیتا ہے۔

فلم میں نوازالدین نے دراصل اپنی زندگی کی بڑی مایہ ناز فلموں میں سے ایک کے اندر حصّہ لیا۔۔
اور پھر وہ اداکارہ ایلا جو ایک روزمرہ کی زندگی سے جوجتی گھریلو خاتون ہیں وہ بھی اس اداکاری پر بخوبی  پوری اُتریں۔

رتیش بٹرا نے اپنی فلم فوٹوگراف کے اختتام میں بھی اپنی مرضی کا اینڈ چننے کا حق فلم دیکھنے والوں کو بخش دیا تھا اور شاید یہی ایک خوبی بہت کم جگہ پائی جاتی ہے۔

کیٹگری ڈرامہ اور رومانس میں شامل یہ فلم قریب مختلف28 ایوارڈز جیتی اور 44 جگہ نومینیٹ ہوئی اور اسے IMDb پر 59 ہزار ووٹوں سے 7.8 کی ریٹنگ ملی۔
میرے لئے یہ فلم ہمیشہ میری ٹاپ ٹین کی فہرست میں تیسرے نمبر پر رہے گی۔

کینسر سے لڑتے عرفان خان کو 28 اپریل 2020 کوکیلا بین ہسپتال میں داخل کیا گیا۔۔
ان کی بیماری کے ایام میں ان کے لکھے آخری خط جس کی سطریں کچھ یوں تھیں کہ
“ٹکٹ کلیکٹر نے پیٹھ تھپتھپا کر کہا : آپ کا وقت آگیا ہے اُتر جائیں!”
اور پھر 29 اپریل 2020 کے دن عرفان خان ٹرین کے ڈبے سے چپ چاپ اُتر گیا۔

julia rana solicitors london

ان ہی کی ایک فلم کا ڈائیلاگ ہے
(ہم جیسوں کا جب وقت آتا ہے تو موت بیچ میں آجاتی ہے)
الوداع لیجنڈ نواب عرفان علی خان
وی مس یو اگین اینڈ اگین اینڈ ۔۔۔۔۔۔ اگین
ریسٹ ان لووو !

Facebook Comments

مسلم انصاری
مسلم انصاری کا تعلق کراچی سے ہے انہوں نے درسِ نظامی(ایم اے اسلامیات) کےبعد فیڈرل اردو یونیورسٹی سے ایم اے کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی پہلی کتاب بعنوان خاموش دریچے مکتبہ علم و عرفان لاہور نے مجموعہ نظم و نثر کے طور پر شائع کی۔جبکہ ان کی دوسری اور فکشن کی پہلی کتاب بنام "کابوس"بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ مسلم انصاری ان دنوں کراچی میں ایکسپریس نیوز میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply