سیکولرازم تفرقہ بازی کا اکلوتا حل۔۔عمار کاظمی/پہلا حصہ

کیا ہم کوئی معاشی نظام دے سکتے ہیں؟
آج جب علمائے اکرام یا ان سے جڑے معاشی ماہرین سے سود کے حرام ہونے کے جواب میں یہ سوال پوچھا جائے کہ ’’بلا شبہ سود تو حرام ہے مگر افراطِ زر (روپے کی قدر میں کمی)کا کیا علاج ہے؟ ‘‘ (یعنی میں نے کسی کو بیس لاکھ روپے بیس سال پہلے اُس وقت قرض دیا جب سونا پانچ ہزار روپے تولہ ہوا کرتا تھا اور بیس لاکھ میں ایک علاقے میں بیس کنال زمین مل جاتی تھی مگر آج روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سےبیس لاکھ میں ایک کنال زمین بھی بمشکل ملے گی اور سونا پانچ ہزار روپے فی تولہ سے بڑھ کر پچاس یا ساٹھ ہزار فی تولہ ہوگیا تو خود ہی حساب لگا لیجیے کہ کل آپ اس بیس لاکھ سے کتنے تولہ سونا خرید سکتے تھے اور آج کتنا لے سکتے ہیں) یہ عدم برابری اور نا انصافی اسلام میں پیش کیے گئے عدل و انصاف اور مساوات کے بنیادی اور راہنما اصولوں کے مطابق کیونکر سمجھی جائے گی؟

تو آگے سے ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ’’پیپر کرنسی کا خاتمہ کر کے سونے چاندی وغیرہ میں واپسی ہی افراط ِزر کا حل ہے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں :  داستاں سود خوروں کی

مان لیا کہ اس سے افراطِ زر ختم ہو سکتا ہے،بہت سے مغربی یا غیر مسلم معاشی ماہرین بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر خسارے کی سرمایہ کاری (ریاست کا موجود سونے کے  ذخائر سے زیادہ نوٹ چھاپنا) نہ کی جائے تو افراطِ زر پیدا نہیں ہوگا۔ یا پھر اگر آپ لین دین سونے چاندی کی شکل میں کریں گے تو بھی افراطِ زر پیدا نہیں ہوگا اور کسی کا کسی کو قرض کی مد میں دیا گیا پیسہ ڈی ویلیو نہیں ہوگا۔ لیکن کیا کسی نے کبھی  پیپر کرنسی کے خاتمے اور سونے چاندی میں لین دین یعنی تجارت کی عملی صورت کے بارے میں سوچا کہ آج دنیا کی ٹوٹل آبادی کو دیکھتے  ہوئے یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہو سکتا ہے؟ کہاں سے اتنے سونے چاندی کے سکے آئیں گے؟ کس کے پاس اتنے    ذخائر ہیں؟ہمارے جیسی  ریاستیں جو سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی آئی ایم ایف سے قرض لیکر ادا کرتی ہیں وہ خسارے کی سرمایہ کاری کیے بغیر گردشی قرضے کیسے ختم کریں گی؟ ترقیاتی منصوبے کیسے چلائیں گی؟ لیبر سے لیکر پروفیشنلز تک کو ادائیگیاں کیسے کریں گی؟ آج آپ کے پاس میٹرو، اورنج لائن ٹرین جیسے بلین ڈالرز کے  منصوبے مکمل ہو چکے، اگر پیپر کرنسی نہ ہوتی تو اندازہ لگا کر بتائیں کہ ان کی ادائیگیوں کے لیے کتنا سونا درکار ہوتا؟ کیاسٹیٹ بینک کے پاس سونے چاندی کے اتنےذ خائر موجود تھے کہ ریاست ایسے منصوبوں پر عملدرآمد کر سکتی؟

یقیناًان منصوبوں کی تکمیل کے لیے پیسہ آپ کو چائنہ نے دیا ہے مگر کس شکل میں؟ سونے چاندی کی شکل میں؟ یا پھر پیپر کرنسی کی شکل میں؟ ملک کا بجٹ ہر سال خسارے کا بجٹ ہوتا ہے، آپ ترقیاتی بجٹ کہاں سے لاتے ہیں؟یقیناً اس ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے سرمایہ داری نظام میں خسارے کی سرمایہ کاری کا چور دروازے والا حل موجود ہے اور اگر آپ یہ نہ استعمال کریں تو پیپر کرنسی میں بھی افراط زر کنٹرول ہو جاتا ہے۔اگر افراطِ زر نہیں ہوگا اور روپے کی قدر مستحکم ہوگی تو قیمتیں بھی آپ کے کنٹرول میں  رہیں گی اور مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوگا۔ یعنی آپ کے پاس دو علاج ہیں یا تو آپ خسارے کی سرمایہ کاری روک کر افراط  زر کنٹرول کر یں ، روپے کی قدر کو مستحکم رکھ کر قیمتوں میں استحکام لائیں اور ترقیاتی منصوبوں کی قربانی دیں یا پھر اضافی نوٹ چھاپ کر ترقیاتی منصوبے جاری رکھیں۔

بلا شبہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے جس میں نوے فیصد سے اوپر آبادی مسلم ہے۔تو جناب جائیے کسی بھی نجی بینک کے بینکر سے اسلامک بینکنگ بارے پوچھ کر ان کا ردعمل جان لیجیے۔ وہی آپ کو بتائیں گے کہ کیا حقیقت کیا افسانہ ہے، کن کا مفاد ہے اور کیا فرق ہے۔(یہاں ایک وضاحت کرتا چلوں کہ سیکولرازم کا براہ راست سرمایہ داری نظام یا سود سے کوئی لینادینا نہیں ،نہ ہی یہ کسی مخصوص معاشی نظام کے لیے آپ کو مجبور کرتا ہے۔ اس کی بنیادی تعریف گزشتہ کالم میں  بیان کر چکا ہوں)

گزشتہ کالم کا  لنک :  ریاست کو سب کے رہنے لائق بنائیں۔۔عمار کاظمی

سچ تو یہ ہے کہ خود میں  نے جتنے بھی بینکرز سے اسلامی بینکاری کے بارے میں معلوم کیا تو انھوں نے مذاق کے انداز میں جواب دئیے اور اسے مکمل طور پر فریب نظر قرار دیا۔ درحقیقت آج تک کی تاریخ میں سرمایہ داری نظام کے مقابلے میں کوئی قابل عمل نظام پیش ہی نہیں کیا جا سکا جو اسے ٹکر دیتا۔ اگر کوئی متبادل ہوتا تو شاید غیر مسلم ممالک کی ایک کثیر تعداد بھی اس استحصال سے بھرپور نظام کو ترک کرنے میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتی۔ مگربد قسمتی سے ابھی تک ایسا کچھ بھی عملی طور پر موجود نہیں۔ چنانچہ جب تک سرمایہ داری نظام کا کوئی متباد ل سامنے نہیں آئے گا تب تک اسی نظام کے پیمانوں پر دنیا کا لین دین جاری رہے گا۔ چاہے وہ عرب ممالک ہوں یا پھر ایران یا پاکستان۔ جب دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کو اس کے ساتھ چلنے کے لیے انہی کو فالو کرنا پڑے گا جو اس نظام کو چلا رہے ہیں۔ یعنی آپ کوٹ کو بٹن تو لگوا سکتے ہیں بٹن کو کوٹ نہیں۔ خالی کہہ دینے اور باتیں بنا لینے سے کچھ نہیں ہوتا،آپ ایک مکمل متبادل نظام دیں ،ممکن ہے دنیا مغربی سرمایہ داری نظام چھوڑ کر آپ کے پیچھے لگ جائے۔سوال تو یہ بھی ہے کہ آپ نے اسلام کے بنیادی راہنما اصولوں کے سامنے آنے کے بعد سےچودہ سو سال میں ان سے استفادہ کتنا کیا؟ کتنی ترقی کی؟ ان بنیادی راہنما اصولوں سے آگے کتنے اصول وضع کیے؟آج ہمارے پاس کسی بھی نظام کو رد کرنے کے لیے علمی اور فکری دلائل کیا ہیں؟ مقابلے میں دینے کے لیے کیا ہے؟
 جاری ہے!

عمار کاظمی
عمار کاظمی
عمار کاظمی معروف صحافی اور بلاگر ہیں۔ آپ سماجی مسائل پر شعور و آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *