مجھے یاد ہے(قسط نمبر 4)۔۔۔حامد یزدانی

(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں)
(قسط نمبر 4)
یونیورسٹی گراونڈ میں محلے کی کرکٹ ٹیم پریکٹس کررہی ہے۔ گیارہ کھلاڑیوں میں سے چار تو ایک ہی گھرانے سے ہیں یعنی شاہد یزدانی، حامدیزدانی، راشد یزدانی اور ماجد یزدانی۔خبر یہ ہے کہ مجھے ٹیم کا کپتان چُنا گیا ہے۔ وجہ یہ نہیں ہے کہ میں کوئی اچھا باؤلر یا بیٹسمین ہوں۔ سچ یہ ہے کہ میں اس  ٹیم کا سب سے کمزور اور ’’نالائق‘‘ کھلاڑی ہوں۔ مجھے کپتان بنانے کا صرف ایک سبب ہے اور وہ یہ کہ ٹیم کے سبھی کھلاڑی ’’بھائی جان‘‘ کی یعنی میری عزت کرتے ہیں اور میری موجودگی میں ایک دوسرے سے بلّے یا گیند کے لیے چِھینا جھپٹی نہیں کرتے۔ اس ٹیم میں کھلاڑیوں کو نام بھی دل چسپ اور عجیب و غریب دیئے گئے ہیں۔مثلاً دو دُبلے پتلے بھائیوں کو لاکڑا اور کاکڑا کہا جاتا ہے۔ایک بھائی صاحب جن کے آؤٹ اور ناٹ آؤٹ کے اپنے ہی ضابطے ہیں انھیں ’’روندی‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ایک باؤلر کی ٹانگیں ذرا لمبی ہیں تو اسے ’’اونٹ‘‘ کے درجے پر فائز کردیا گیا ہے۔اور ایک کھلاڑی کو جانے کس پاداش میں “زٹلی” کے بے معنی خطاب سے نوازا گیا ہے۔

 اب ایک خاندان کے دوکھلاڑی آمنے سامنے ہیں۔ راشد کرِیز پر ہے بلّا سنبھالے ہوئے اور ماجد گیند سنبھالے اُس کا وکٹ گرانے کی تیاری کررہا ہے۔ یہ دونوں نفیس کھلاڑی ہیں۔ بلّے بازی بھی اچھی کرتے ہیں اور باؤلنگ بھی۔ ماجد میڈیم پیس کا عمدہ باولر ہے۔راشد ظہیر عباس کی طرح بیک فُٹ پر اچھا سٹروک کھیلتا ہے۔ اِدھر  ماجد نے گیند کروانے کے لیے فیلڈنگ ترتیب دی ہے اور اُدھر میری نظر گراونڈ میں داخل ہوتے منّوبھائی  پر پڑی ہے۔

سفید سفاری سُوٹ میں، بال سلیقے سے بنے ہوئے۔ناک پر ٹکی نظر کی عینک۔چہرے پر قدرتی مسکان۔ہاتھ میں  تھیلہ۔ میں اچھل کر  گھاس پر سے اٹھتا ہوں اور اگلے ہی لمحے ان سے ہاتھ ملا رہا ہوں۔ منّو بھائی یونیورسٹی گراؤنڈ سے دوسری طرف واقع ریواز گارڈن میں رہتے ہیں اور دفتر سے واپسی پر گھر جانے کے لیے شارٹ کٹ کے طور پر یونیورسٹی گراؤنڈ کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔یوں اکثر شام کو ان سے علیک سلیک ہوجاتی ہے، اور میں کچھ دیر کے لیے ٹیم کی کپتانی سے غیراعلانیہ سبک دوش ہوجاتا ہوں اور ان کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے ان کے گھر تک جاتا ہوں۔ ان کے تازہ ترین کالم یا ڈرامے پر اپنی بچگانہ سی رائے بھی دے دیتا ہوں اور وہ مسکرا کر سنتے رہتے ہیں۔ میں چُپ ہوتا ہوں تو مجھے یاد دلانے کے لیے کہتے ہیں:’’اچھا تو کرکٹ کھیل رہے تھے؟‘‘

“کھیل نہیں رہا تھا، کِھلا  رہا تھا ۔اس ٹیم نے مجھے اپنا کپتان بنا رکھا ہے۔”

“اچھا تو کپتان صاب۔ آپ کی ٹیم آپ کا انتظار نہ کررہی ہوگی؟‘‘ ایم اے او کالج کی طرف سے آتی سڑک کودائیں بائیں دیکھ کر عبور کرتے ہوئے پوچھتے ہیں‘‘۔ جی، بس آپ کو گھر تک چھوڑ کر واپس چلا جاؤں گا۔‘‘ میں ان کے قدم سے قدم ملانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیتا ہوں۔

 اچھا، یہ بتاو، یزدانی صاحب کیسے ہیں؟ وہ ہمارے سینئر ہیں۔ بہت محبت والے ہیں۔ ایک بڑے بھائی کی طرح شفیق بھی۔ اس اعتبار سے تم میرے بھتیجے ہو۔ خالد تو مجھے ملتا رہتا ہے۔ ہم ایک ہی اخبار میں تو کام کرتے ہیں۔‘‘ وہ گھر کے دروازے کے پاس رکتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’جی۔‘‘ میں کہتاہوں۔’’ تو اب میں واپس جاتا ہوں۔‘‘

“یزدانی صاحب کو میرا سلام کہنا۔” وہ دروازہ کھولتے ہوئے کہتے ہیں۔

جی۔ ضرور۔ ان شااللہ” میں گھر کا دروازہ بند ہونے تک وہیں کھڑا رہتا ہوں اور پھر واپس اپنی ٹیم کی طرف دوڑ لگا دیتا ہوں۔

راشد ابھی تک کریِز پر ٹِکا ہوا ہے اور ماجد اگلی بال کے لیے آہستہ آہستہ مارک کی جانب بڑھ رہا ہے۔

٭٭٭٭٭

ادارہِ ادب کے صدر شاعر و ادیب ڈاکٹرعبدالرشیدتبسم  مجھے کہتے ہیں کہ یزدانی صاحب کے لیے ایک خط خانہ فرہنگ ایران لاہور سے جاکر لے آؤں۔ مال روڈ پر واقع خانہ فرہنگِ ایران کے ڈائریکٹر خط میرے حوالہ کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ کیا مجھے فارسی پڑھنا آتا ہے؟ میرا جواب نفی میں پاکراس ٹائپ کئے گئے کُھلے مکتوب پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ ایران کے ایک شاعر آقائے بہار کی طرف سے موصول ہوا ہے جنھیں لاہور کے فارسی گو شعرا کی غزلوں کا انتخاب بھجوایا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ اس مجموعہ میں شامل آقائے یزدانی جالندھری کی غزل کے ایک شعر نے انھیں شب بھر بے چین رکھا اور وہ تب تک سو نہیں سکے جب تک اسی زمین میں غزل نہ کہہ لی۔ یزدانی صاحب کاوہ شعر یہ ہے

بارِ خرد بدوشِ جنوں خوش نما نہ بود

دامن فروختیم  و گریباں فروختیم

شعر تو کچھ سمجھ نہیں آیا مگر میں خوشی خوشی ان سے خط وصول کرتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں:

آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ اتنے بڑے شاعر کے بیٹے ہیں۔‘‘

میں جی ہی جی میں بہت خوش ہوں۔ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ریگل چوک اور ٹیمپل روڈ سے ہوتا ہوا گھر پہنچتا ہوں اور خط والد صاحب کے حوالے کردیتا ہوں۔ وہ خط پڑھتے ہیں۔ مسکراتے ہیں۔ مجھے شکریہ کہتے ہیں اور خط کو اپنے ہاتھ میں تھامے زرد کاغذی تھیلے میں رکھ لیتے ہیں۔

“میں فارسی پڑھوں گا”میں اچانک خواہش کا اظہار کرتا ہوں۔

“ہاں، ضرور۔  آپ کے دادی اور دادا جان بھی فارسی زبان و ادب کے استاد تھے اور اب آپ کی پھوپھی بھی فارسی ہی پڑھاتی ہیں۔میں  بھی ایک دور میں اردو کے ساتھ ساتھ فارسی کا لیکچرار رہا ہوں۔فارسی ضرور پڑھیں  مگر دھیان رہے کہ انگریزی پر توجہ کم نہ ہو۔” وہ دھیمی مسکان کے جِلو میں نرم لہجہ میں کہتے ہیں۔

٭٭٭٭٭

پندرہ روزہ طرحی مشاعرہ کا دعوت نامہ (پوسٹ کارڈ) موصول ہواہے۔ اس میں مصرع طرح درج ہے’’موسم یہ کہہ رہا ہے ابھی انتظار کر‘‘۔

موسم ‘‘ پھر سے سامنے ہے۔کوشش کر کے اس زمین میں چند اشعار موزوں کر لیتا ہوں اور مشاعرہ کےدن ماڈل ٹاؤن جا پہنچتا ہوں۔ والد صاحب پہلے سے وہاں موجود ہیں۔ مشاعرہ کے آغاز سے پہلے مجھے اپنی پہلی غزل انہیں دکھانے کا موقع مل گیاہے۔ اور یوں تبسم صاحب کی مُسکراتی مبارک باد کے ساتھ میں بھی یکے از شعرا اور ظریف کے الفاظ میں ’’مشاعرہ‘‘ بن گیاہوں۔ ظریف گاؤں سے نیا نیا لاہور آیا ہے۔ وہ  بسکٹ اور چائے سے مہمان شعرا کی تواضع تو خوب کرتا ہے تاہم ’’شاعر‘‘ اور ’’مشاعرہ‘‘ کوذرا گڈ مڈ کر جاتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ  والد صاحب اس کے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس کی بنائی چائے کی تعریف ضرورکرتے ہیں۔

٭٭٭٭٭      

گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ کا مرحلہ درپیش ہے۔داخلہ فارم کالج کے دفتر سے لینے میں  آج صبح پروفیسر طاہر تونسوی صاحب نے میری مدد کی تھی جن کے نام والدصاحب کا ایک رقعہ لے کر میں جی سی کے شعبہ اردو میں گیا تھا۔

اب میں داخلہ فارم میں درج مضامین کا انتخاب کررہا ہوں۔ والد صاحب سے مشورہ مانگتا ہوں۔ وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں اپنی دل چسپی کے مضامین کا انتخاب کروں۔میں سوشیالوجی کا مضمون بھی چُنتا ہوں۔ والد صاحب کے چہرے پر خوشی اور غم کے ملے جلے تاثرات ابھرتے ہیں اور غائب ہوجاتے ہیں۔ میں جانتا ہوں ان کے مرحوم چھوٹے بھائی ہمارے نصر چچا (سیدعبدالرحمٰن رضوانی) نے بھی سوشیالوجی میں ایم اے کیا تھا اور وہ کینیڈا سے واپس آکر امریکا گئے تھے پی ایچ ڈی کرنے اور وہیں اچانک انتقال کرگئے تھے۔ والد صاحب کو اپنے سبھی بہن بھائیوں  سے محبت  ہے مگر نصر چچا کے ساتھ خاص انسیت تھی۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے۔میں جانتا ہوں۔

٭٭٭٭٭

“آپ کا کالج کا پہلا دن کیسا رہا؟”والدصاحب گھر کے صحن میں امرود اور پپیتے کے پیڑوں کے درمیان بچھی چارپائی پر نِیم دراز ابنِ صفی کی عمران سیریز کے تازہ ناول پر سے نظر اٹھاتے ہوئے مجھ سے پوچھتے ہیں۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں ایف اے کے سالِ اوّل کا آج میرا پہلا دن تھا۔ میں کتابیں اور نوٹ بُک برآمدے اور صحن کو جدا کرنے والی موٹی دیوار پر رکھتے ہوئے کہتا ہوں کہ بس ٹھیک ہی رہا ۔

“بس ٹھیک ہی؟ ایسا کیوں؟ وہ ہاتھ میں کُھلے ناول کو اُسی طرح اُلٹا تکیے پر رکھتے ہوئے استفسار کرتےہیں۔

“ایک یہ کہ پروفیسر مرزا منور صاحب نے بُرے تلفظ کی وجہ سے دو طلبہ کو تو آج ہی اپنی کلاس سے نکال دیا تو میں ڈر گیا۔دوسرے یہ کہ سوائے اردو کے سبھی لیکچر انگریزی زبان میں ہوتے ہیں۔یہ بھی مشکل کام ہے۔ اور یہ بھی کہ بہت کچھ تو مجھے پتہ ہی نہیں۔‘‘

میں معصومیت سے اعتراف کرتا ہوں۔ “کیا نہیں پتہ آپ کو؟‘‘  والد صاحب دل جوئی کے انداز میں پوچھتے ہیں۔”

“مثلاً آج انگریزی کے پیریڈ میں پروفیسر شاہد ملک صاحب نے تعارفی مرحلے میں سب سے ان کے خصوصی شوق کے بارے میں پوچھا تو میں نے بس یونہی شاعری کہہ دیا۔ کہنے لگے کہ اپنا کوئی پسندیدہ شعر سنائیے۔ سوچنے کاتو وقت نہ تھا ۔ اس وقت احمدندیم قاسمی صاحب کا شعر

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاوں گا

سنا دیا۔

 پوچھنے لگے کہ” کیا اس شعر کا مطلب معلوم ہے؟ یہ سوال میرے لیے اور بھی غیر متوقع تھا۔ ہڑبڑاہٹ میں اگلے دومنٹ جانے کیا ہانکتا رہا۔ اس پر انھوں نے کہا کہ آسان لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وحدت الوجود کا شعر ہے اور آگے بڑھ گئے۔ اب یہ وحدت الوجود کی بَلا ہے؟ یہ بھی مجھے جاننا ہوگا ۔”والد صاحب یہ سب سنتے ہوئے حسبِ عادت دھیما دھیما مسکراتے رہتے ہیں۔میرے کالج بلیزر پر بائیں جانب ابھرے کالج ماٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ یہ کیا لکھا ہے؟
میں پڑھتا ہوں:

“Courage To Know”
” جاننا واقعی ہمت کا کام ہے اور میں جانتا ہوں آپ باہمت ہیں اور یہ سب جان کر رہیں گے۔ فکر نہ کریں۔
 وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے فلسفے کی سمجھ بھی آپ کو وقت پر آہی جائے گی۔ پریشانی کی بات نہیں۔‘‘ ۔ اور پھر آسان  الفاظ میں ان کا تعارف اور فرق سمجھاتےہیں۔

 (جاری ہے)

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply