ہیگل کا تصور ارتقائی شعور اور ابجیکٹ کی حقیقت ۔۔مراد سوات

ہیگل کے مطابق شعور حقیقی (رئیل) ہے اور خارج بھی حقیقی ہے . خارج ہمارے شعور سے باہر تمام ابجیکٹس یا مظہر ہیں جس کا مشاہدہ اور تجربہ شعور کو ہوتا ہے . شعور خارج ابجیکٹ کو جانتا ہے.
جاننے کا مطلب کیا ہے ؟
یاد رہےکہ ہیگل کا ابجیکٹ اندرونی دنیا ہے، جس کو شعور گرفت میں لینے کے لیے حسی تیقن، ادراک اور انڈرسٹنڈنگ کو بروئے کار لاتا ہے . ہیگل کے ابجیکٹ میں حس تیقن ( sense certainty ) پارٹیکولرز خصوصیات کا فوراً ظہور شعور پر کرتا ہے .اس کے بعد حسی ادراک ( perceptions ) ابتدائی مرحلے میں نفی کا مقولہ اپلائی کر کے یونیورسل صفات سامنے لاتا ہے . حسی تیقن اور حسی ادراک سے ابجیکٹ کے ملنے والی  صفات چونکہ ایک دوسرے کے ساتھ میکس رہتی  ہیں اور یونیورسل صفات، پارٹیکولرز صفات سے آزاد نہیں ہوتے، اس لیے ہیگل ابجیکٹ کے ان یونیورسل صفات کو sensuous universality کا نام دیتا ہے … وجہ یہ ہے کہ یہ یونیورسل صفات، حس پر فی الحال انحصار کرتے ہیں گویا حس کی کنڈیشن یا شرط ان یونیورسل صفات کا اہم جز ہے، اور یہ یونیورسل صفات حس کے پارٹیکولرز صفات سے مکمل ازاد نہیں ہیں .
اب اگلا مرحلہ انڈرسٹنڈنگ کا آتا ہے کیونکہ یہ آگاہی جب انڈرسٹنڈنگ کو ہو جاتی ہے کہ یونیورسل صفات آزاد نہیں ہے تو ابجیکٹ کے یونیورسل صفات کو Unconditional universality صفات بنانا انڈرسٹنڈنگ کا کام ہوتا ہے . اب جب انڈرسٹنڈنگ یونیورسل صفات کو مکمل حس ( مادی صفات، پارٹیکولرز صفات) سے آزاد کرتا ہے تو یہ خالص یونیورسل صفات بن جاتے ہیں . ہیگل کے مطابق کسی ابجیکٹ کی حقیقی سچائی (ٹرو نالج) اس کے یونیورسل صفات میں موجود رہتا ہے گویا ان خالص یونیورسل صفات کا علم ہی ابجیکٹ کی ٹرو حقیقت ہے، اس لیے ہیگل ابجیکٹ کی ان خالص یونیورسل صفات کو سامنے لانا چاہتا ہے اور شعور ان خالص یونیورسل صفات کو گرفت میں لینے کی متلاشی رہتا ہے.
ہیگل کے مطابق ابجیکٹ کے یہ یونیورسل صفات بذات خود ایک الگ دنیا ہے . اور یہ خالص یونیورسل صفات، حسی آمیزش سے آزاد ہوتے ہیں. یہ بات یاد رہے کہ ہیگل کے مطابق آزاد سے مطلب اپنے آپ کو مہمیز رکھنا ہے نہ کہ کھلی آزادی…
یونیورسل صفات کا وہ دنیا (ورلڈ) جس کو انڈرسٹنڈنگ گرفت میں لیتا ہے، ان یونیورسل صفات کا ظہور appearance کہلاتا ہے جب کہ اس اپیرنس سے آگے (beyond ) ابجیکٹ کے خالص یونیورسل صفات کی دنیا کو ہیگل inner world of being کہتے ہیں… یہ انر ورلڈ فورسز اور لاز کے  ذریعے appearance ورلڈ سے پرویا ہوا ہے . ابجیکٹ کے اندر شعور کی رسائی اپیرنس یا انر ورلڈ اف بینگ کو انڈرسٹنڈنگ اپنی گرفت میں لیتی ہے البتہ ان کنڈیشنل یونیورسل صفات، فورسز و لاز، انر ورلڈ اف بینگ سب مابعد الطبعیاتی بحث ہے .
ضمنا سوال:
ہیگل کے مطابق ایک اوبجیکٹ حقیقت میں موجود ہے۔۔ اس کے لیے کیا دلیل ہے؟ ہیگل سے پہلے ہم ابجیکٹ کو ایز اے ہول تصور کرتے تھے … مثلاً  ایک درخت، ریڈ بال وغیرہ کو میں senses سے وصول کر رہا ہو…. یا ابجیکٹ کو ان کی پرائمری اور سیکنڈری صفات میں تقسیم کرتے تھے ۔پرائمری صفات حسی اور سیکنڈری صفات عقل سے گرفت میں لیتے ہیں.
اب اگر غور کیا جائے تو ابجیکٹ کو ایک مکمل ہول یا جامد شئے مانتے تھے اور اس ابجیکٹ کو حس سے گرفت میں لینا ایک قسم static طریقہ تھا.کانٹ نے تو یہ کہہ دیا ابجیکٹ فی النفسہ گرفت میں نہیں لیا جا سکتا.
یہی سب فلاسفرز کے افکار ہیگل کے سامنے تھے.
اب ہیگل پر غور کیا جائے تو انہوں نے ابجیکٹ کو پرائمری و سیکنڈری صفات میں تقسیم نہیں کیا۔نہ ہی اس ابجیکٹ کو گرفت میں لینے کے لیے senses سے  آغاز کیا۔نہ ابجیکٹ کو گرفت میں لینے کو static عمل قرار دیا ہے کہ بس میں نے ریڈ بال دیکھ لیا اور یہ بال ہے،گول ہے اور ریڈ ہے ،کیونکہ اس طریقے سے وہ اوپر ذکر شدہ دوئی پیدا ہو رہی تھی.
ہیگل نے ابجیکٹ اور شعور کے درمیان  آغاز senses کی بجائے sense certainty سے کیا اور اس عمل یعنی ابجیکٹ کے صفات کا ریفلیکشن شعور پر ایک مسلسل ” پراسیس” قرار دیا.
اب ظاہری بات ہے جب ابجیکٹ کے باہر صفات یعنی حسی شعور پر فوراً  عکس بناتا ہے تو شعور ان صفات کے مطابق ہی اپنے اندر عکس بناتا ہے…. پھر ادراک ابجیکٹ کے اندر صفات نکلتی  ہیں تو شعور پر بھی وہی عکس پیدا ہوتا ہے….
گویا شعور اور ابجیکٹ کے درمیان back & forth پراسیس ہیگل نے شروع کیا۔
اور اس پراسیس کی دلیل پر ہیگل نے کہا کہ باہر ابجیکٹ رئیل ہے .اگر ابجیکٹ رئیل اور حقیقت میں نہ ہوتا تو شعور کے ساتھ یہ پراسیس ہی ناممکن ہوتا .کیونکہ یہ جدلیاتی پراسیس کے لیے دو پولز “شعور و ابجیکٹ” ضروری ہے،اگر ابجیکٹ نہ ہو حقیقت میں تو حسی تیقن کا شعور پر فی الفور ابجیکٹ کے صفات کا ظہور ممکن ہی نہیں ہے، ادراک، انڈرسٹنڈنگ  نے مزید ابجیکٹ کی رئیلٹی کا حتمی ثبوت دیا   کہ یقیناً  یہ پراسیس شعور و ابجیکٹ میں جاری ہے، چونکہ ابجیکٹ اور شعور اس پراسیس کے لیے لازم و ملزوم ہیں تو دونوں ہی حقیقت میں موجود ہیں.
اب تک کی گفتگو سے یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ ابجیکٹ ہیگل کے مطابق ایک بیرون و اندرونی ورلڈ ہے … شعور اور ابجیکٹ ایک ” جدلیاتی پراسیس ” کے تحت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں.
ارتقائی شعور :
جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ شعور ا بجیکٹ کو جانتا ہے . البتہ شعور ابجیکٹ کو  ” ایز  اے  ہول ”  جانتا ہے . مطلب  یہ  ہے  کہ شعور کو یہ معلوم ہے کہ ابجیکٹ حقیقی طور پر خارج میں موجود ہے اور ابجیکٹ کے حسی صفات ( ٹھوس پن، ذائقہ  وغیرہ)، اسی طرح یونیورسل صفات جانتا ہے .
جب ابجیکٹ کا حسی صفات اور یونیورسل صفات شعور کے سامنے آ جاتے ہے تو یہی ” نالج یا تجربہ ” اب شعور کا ابجیکٹ (تھیوریٹکل ) بن جاتا ہے.
خارج ابجیکٹ کو ہم ابجیکٹ فار سیلف کہتے ہے  جبکہ اس خارج ابجیکٹ کے نالج کو ” ابجیکٹ فار کانشس نس” کہتے ہے .
اب بات نوٹ کرنے  کی ہے، جب ہم نے پہلے کسی ابجیکٹ ( جس کی نالج ہمیں ملی ہے )، کی طرح کوئی دوسرا same ابجیکٹ یعنی other real object خارج میں دیکھ لیتے ہیں اور اس ابجیکٹ کی نالج یا تجربہ ہم پر واضح ہو جاتا  ہے جو کہ پہلے ابجیکٹ کی نالج یا تجربہ سے زیادہ درست اور حقیقی ہو تو ہم پہلے ابجیکٹ کی نالج میں سقم یا کمی پر حیران رہ جاتے ہیں  کہ یہ کیا ہوا ؟ اصل نالج تو اس ابجیکٹ کے بارے میں یہی تھا یہ پہلا نالج تو درست نہیں تھا، ابجیکٹ کے نالج یا حقیقت (ٹرو نالج ) کا یہ سلسلہ تاریخ سے چلا آ رہا ہے، اس وجہ سے ہیگل ابجیکٹ کے تجربے کو محض” تجربہ ” نہیں بلکہ Course of experience کہتے ہیں. ہیگل کے مطابق یہی کورس اف ایکسپیرینس “سائنس” ہے .
گویا ہر زمانے میں ہم اشیاء کے بارے میں سیکھ رہے ہیں، یہی کورس اف ایکسپیرنس ہے،
یہی ارتقاء علم یا سائنس ہے . یہی خارج کی ابجیکٹس جس کو بار بار ہم کانشس نس سے گرفت میں لیتے رہتے ہیں اور ان کے نالج کے ارتقاء سے ایک تسلسل سے گزر رہے ہیں، یہی “کورس اف ایکسپیرنس ” ہے .
اب بالفرض آج ایک ابجیکٹ کے بارے میں ہمارا ایک تجربہ بن جاتا ہے کہ یہی اس ابجیکٹ کی حقیقت ہے تو کل جب اس ابجیکٹ کے بارے میں ہمارا تجربہ تبدیل ہو جاتا ہے کہ ابجیکٹ کا  اصل حقیقی تجربہ کل والا نہیں بلکہ یہ دوسرا آج والا درست ہے تو مطلب یہ ہوا کہ کانشس نس کو اپنے  کل کے تجربے کی آگاہی ہو گئی ہے کہ وہ درست تجربہ نہیں تھا، اب “موجودہ کانشس نس” نے اپنی گرفت میں کل کا ابجیکٹ، اس کا تجربہ، اور آج وہی same ابجیکٹ اور اس کا نیا تجربہ گرفت میں لے لیا،گویا کانشس نس ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے۔
یہی کانشس نس کی گروتھ ہے . اسی طریقے سے ایک ابجیکٹ کے متعلق ہر زمانے میں کانشس نس نالج لیتا رہتا ہے اور آگے ارتقاء کرتا رہتا ہے لیکن تاریخ کے ابجیکٹ اور ان کے ہر دور کے مختلف تجربے کو زمانہ موجود کا کانشس نس اپنی بطن میں جگہ دے کر آگے بڑھتا رہتا ہے، یہی سائنٹیفک ارتقاء یا گروتھ ہے.
مختصر اًبجیکٹ کا تجربہ ٹو تجربہ صرف گروتھ نہیں ہو رہا ہے بلکہ شعور بھی ہر قدم آگے گروتھ کر رہا ہے . یہ شعور کا گروتھ یا ارتقاء ہم صرف ابجیکٹ کے بارے میں اپنی نالج اور تجربے کے  تغیر سے لگاتے رہتے ہیں  کہ شعور ارتقائی سفر پر ہے اور شعور کا ہر پچھلا تجربہ نئے ارتقائی شعور اور اس کے تجربے میں ضم ہوتا رہتا ہے.
ہیگل پچھلے شعور سے اگلے شعور پر   آنے کے پراسیس کو جدلیاتی زبان میں determinate negation کہتا ہے، کہ پچھلے شعور کی نفی ہو کر شعور اگلے سٹیج میں داخل ہو چکا ہے . یہی ہیگل کا پراسیس  آف Aufhebung ہے یعنی negate & preserve یعنی کسی شئے کو اس طرح نیگیٹ کیا جائے کہ وہ Nothing نہ بنے بلکہ نفی ہو کر محفوظ بھی رہے.
یہاں پچھلا کانشس نس اس طرح نیگیٹ ہو رہا ہے کہ ہر نئے دور کے ترقی یافتہ کانشس نس میں ضم ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو محفوظ رکھتا ہے . یہی بے قرار کانشس نس ہے کہ کورس آف ایکسپیرنس کے ساتھ ساتھ ارتقاء پذیر ہوتا رہتا ہے.غور کیا جائے تو ابجیکٹ کی ایسنس ہر نئے کانشس نس کے لیے پچھلے کانشس نس کے مقابلے میں متغیر رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کانشس نس تاریخی طور پر ایک sequence سے گزر رہا ہے اور ابجیکٹ کانشس نس پر نئے ڈومین کا ظہور کرتا رہتا ہے.
اہم نکتہ یہ یاد رہے کہ کانشس نس ہر سابقہ مراحل کو اپنی ذات میں ضم کرتا جاتا ہے اور یہی ابجیکٹ کا پچھلا تجربہ، پھر نیا تجربہ سب کا  سب مکمل پراسیس ہے اور یہ پراسیس نئے مرحلے پر ایڈوانس کانشس نس کے لیے ایک “ابجیکٹ ” بن جاتا ہے جس پر کانشس نس متجسس رہتا ہے.  اب  ہیگل  ایک ابجیکٹ اور اس کا تجربہ.پھر اگلے مرحلے میں  یہی same ابجیکٹ اور اس کا ایڈوانس تجربہ . پھر اس سے اگلے مرحلے میں یہی ابجیکٹ اور اس کا مزید ایڈوانس تجربہ.. اینڈ so on اس عمل کو ہیگل way of science کہتے ہیں . اور کانشس نس ہر وقت سائنس مشاہدہ کر رہا ہے .یعنی ہر وقت کانشس نس سائنٹیفک پراسیس ہی ہے اور ڈیولیپ ہو رہا ہے .
اب سوال یہ ہے کہ اس کانشس نس کی ڈیولیپ منٹ کا End point کیا ہے؟ ہیگل کے مطابق کانشس نس تاریخی طور پر مختلف اوقات، زمانوں اور مقامات پر کائنات میں رہ کر اپنے  آپ کو ڈیولیپ کر رہا ہے . کانشس نس اپنی سیلف کی یہی ایکسپیرنس notion ( کانسپٹس) سے گرفت میں لے رہا ہے . یہ ڈیولیپڈ کانشس نس کوئی سنگل سبجیکٹ نہیں ہے بلکہ ایک مکمل کائنات کے ساتھ ٹوٹلٹی میں جکڑا ہوا ہے.گویا یہ اعلی ڈیولیپڈ کانشس نس “مکمل سسٹم  آف کانشس نسز ” کا  ارتقائی سفر سے وجود میں  آئے گا . اور  آخر میں یہ ڈیولیپ کانشس نس تمام اشیاء کو کنکریٹ نالج کے طور پر گرفت میں لے گا یعنی اشیاء کے اندر کے نالج سے ایبسٹرکٹ نس ختم ہوتا جائے گا اور کانشس نس کے پاس ٹوٹلٹی یا ایز اے ہول کنکریٹ نالج ہوگی.
اس فائنل سٹیج پر شعور خارج (ابجیکٹس، مظہر) کی ٹرو ایسنس کو گرفت میں لے گا،گویا شعور کو اپنے  حقیقی ایسنس کا نالج مکمل ہو جائے گا اور اس مقام پر سبجیکٹ، ابجیکٹ کی  ایک ہی وحدت ہو جائے گی…گویا باہر ابجیکٹس، مکمل طور پر سبجیکٹ (شعور ) کا  حقیقی ایسنس بن جائے گا .
بشکریہ مضامین

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *