تنخواہ اس ادائیگی کا نام ہے جو ملازم یا نوکری پیشہ افراد کو ان کے کام کے بدلے ملتی ہے۔ یورپین ممالک میں تو گھنٹے اور ہفتے کی اُجرت ملتی ہے جب کہ ہمارے ملک کا نظام دن بہ دن مزید بد حالی کی طرف گامزن ہے ۔ اوّل تو بیروزگاری اور اگر نوکری مل بھی جائے تو تنخواہ کاحصول بحال ہونے میں مہینوں لگ جاتے ہیں ۔ بہت سے اداروں میں وقت پر یا پھر پورے پورے مہینے ہی تنخواہ گول کردی جاتی ہے اور سفید پوش نوکری پیشہ افراد جن کا گھر اور دیگر نظام ِ زندگی صرف اور صرف اسی برائے نام تنخواہ کے تحت چلتا ہے ، تنخواہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہر دن نت نئی مشکلات سے جوجتے ہیں ۔
شاید انہی فیکٹریوں، مِلوں ، اسکولوں اور دیگر پرائیوٹ سیکٹرز کے مالکان یہ بات جاننے کو تیار ہی نہیں کہ اس تنخواہ سے کسی مریض کی دوائی، کسی بچے فیس اور کتابوں کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں ۔ کسی کے گھر کے یوٹیلٹی بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے گھر کے بجلی اور گیس کے کنکشن منقطع تک ہوجاتے ہیں۔ اپنے اس فرسودہ اور بیمار نظام کو دیکھ کر دل یہ کہتا ہے کہ کاش میں حضرت عمر کے دورِ حکومت میں پیدا ہُوا ہوتا جو اپنی رعایا کے حالات معلوم کرنے کے لیے رات کو بھیس بدل کر چکر لگاتے تھے کہ میری حکومت کی سرحد پر اگر کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو اس کا جواب دہ عمر ہو گا۔ جب کہ ہمارے حکمرانوں کو روزِ روشن اور زکوٰۃ کی تقسیم میں بھگدڑ کی وجہ سے شہید ہونے والے افراد تک کی پرواہ نہیں کہ ان غریبوں کے خون کا حساب کون دے گا؟

موجودہ دور میں ہر ملازمت پیشہ فردآمدنی کے حصول کی پریشانی میں مبتلا نظر آتا ہے ۔ کئی جگہوں پر، اضافہ تو دور کی بات مہینوں سے تنخواہ کے منتظر افراد کو صرف ایک مہینے کی تنخواہ یہ کہہ کر دے دی جاتی ہے کہ ہمارے پاس فی الحال فنڈ ز ہی موجود نہیں ہیں ۔ خصوصی عبادات کرتے کرتے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی مجبور اور حقدار کو اس کا حق دلانا بھی عبادت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردی جائے یہ اس کا حق اور مالک کا فرض ہے۔ کاش ہم صرف اتنا ہی یاد رکھیں ، کہ ہم کس نبی کی اُمت ہیں ،کاش!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں