اس پارے میں سورۃ الاعراف کی آیات، آیت 88 سے اختتام تک ہے اور سورۃ انفال کی ابتدائی چالیس آیات ہیں۔
گزشتہ پارے کے آخر میں بعض انبیاء کے واقعات ذکر کیے گئے تھے اور ان کی بعض خاص برائیوں کا ذکر کیا گیا تھا، مقصد یہ تھا کہ یہ امت ان سے اجتناب کرے۔ ان میں آخری واقعہ شعیب علیہ السلام کا تھا، وہی تسلسل اس پارے میں ہے۔ ان کی برائی یہ بتائی گئی کہ وہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔ چنانچہ اس کی بدولت ان پر خوفناک زلزلہ آیا اور وہ برباد ہوگئے۔ اس سے اس عمل کی کی خطرناکی واضح ہوتی ہے۔
ان واقعات سے ایک اہم چیز یہ سامنے آتی ہے کہ ہر نبی کی مخالفت اس قوم کے امراء نے کی، اور اپنے تکبر کے سبب برباد ہوگئے۔ چناچہ تکبر سے بچنا چاہیے، حتی کہ نیکیوں اور تقوی پر تکبر بھی ممنوع ہے۔ تکبر ہدایت کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ لہذا اپنی نیکیوں پر بھی تکبر نہیں کرنا چاہیے یہی انبیاء اور صالحین کا طریقہ ہے۔ یہ بھی واضح ہوا کہ اللہ تعالی کسی قوم میں نبی بھیجتا ہے تو اس کو تکلیف میں ڈالتا ہے تاکہ وہ دین کی طرف آئے۔ ایمان اور تقوی پر کاربند رہنے سے نعمتیں برقرار رہتی ہیں۔ اچانک پکڑ عذاب کی علامت ہوتی ہے، گناہ کے نتیجے میں مصیبت آتی ہے اور دل سخت ہو جاتے ہیں۔
اس کے بعد مفصل تذکرہ موسی علیہ السلام اور فرعون کا آیا ہے۔ دعوت دی گئی کہ غوروفکر کرو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں بیان کیا گیا کہ کس طرح موسیٰ علیہ السلام نے قوم فرعون کو دین کی دعوت دی، روشن معجزات دکھائے، جادوگروں سے مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں وہ مسلمان ہوگئے، فرعون نے ان کو برے انجام سے دھمکایا لیکن مومنین صبر کرتے رہے اور اللہ سے مدد مانگتے رہے لہذا کامیاب قرارپائے۔ موسی نے اپنی قوم کو ہدایت کی کہ سختی میں صبر سے کام لو اور اللہ سے مدد مانگو۔ یہ زمین اللہ کی ہے وہ جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور آخرت متقین ہی کے لیے ہے۔
قوم فرعون کو پے درپے آزمایا گیا کہ شاید پلٹ آئیں لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہے آخر کار اللہ تعالی نے انتقاما ان کو سمندر میں غرق کردیا۔ اللہ تعالی نے واضح کیا کہ ان کے عذاب کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور اپنی غفلت میں مست تھے۔ بنی اسرائیل کو ان کے صبر کی بدولت انعام ملا۔ لیکن بنی اسرائیل اس انعام کی قدر نہ کرسکے۔
پھر وہ واقعہ بیان کیا گیا کہ کس طرح موسی علیہ السلام نے چالیس راتیں طور پر گزاری اور تورات حاصل کی۔ اس دوران ایک دن موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے خواہش کی کہ میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالی نے پہاڑ پر تجلی کی تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور موسی علیہ السلام بھی تاب نپارےاتے ہوئے ہوش ہوگئے۔ جب افاقہ ہوا تو اللہ کی حمد بیان کی، توبہ کی اور کہا کہ مجھے ایسا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے تپا(پس ثابت ہوا کہ دنیا میں اللہ کا دیدار کسی کے لئے بھی ممکن نہیں کیا، یہ آخرت میں انعام کے طور پر اہل جنت کو حاصل ہوگا)۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
الصلاۃ والسلام کے ماننے والوں کی تعریف کی گئی کہ وہی کامیاب لوگ ہیں۔ نبی کریم کا تعارف ان صفات کے ذریعے سے کرایا کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو حرام کرتے ہیں، لوگوں پر بوجھ کم کرتے ہیں اور ان کے لئے آسانی پیدا کرتے ہیں۔ خوشخبری سنائی گئی کہ جو لوگ ایمان لائے، اس نبی کی مدد کی اور آپ کی لائی ہوئی ہدایت کی پیروی کی کامیاب اصل میں وہی لوگ ہیں۔
یہ بھی واضح کردیا گیا کہ آپ کی رسالت قیامت تک کے لیے ہے اس سے پہلے تمام انبیاء اپنی اپنی اقوام کی طرف بھیجے گئے تھے لیکن آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو پورے عالم کی طرف بھیجا گیا۔
یہاں سے بات دوبارہ موسیٰ علیہ سلام کی قوم کی طرف مڑگی۔ اللہ تعالی نے ان کے چند اور واقعات بیان کیے اور بتایا گیا کہ ان کے ناشکرے پن کی وجہ سے ہر خیر ان سے واپس لے لی گئی لہذا نعمت پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکر سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کی سرکشی اور تکبر کی وجہ سے انہیں مسخ کیا گیا اور بندر بنا دیے گئے۔ جن لوگوں نے اس خاص عمل (سبت کے روز مچھلی کا شکار) سے لوگوں کو روکا تھا وہ عافیت میں رہے ہیں باقی سب عذاب کا شکار ہوئے۔ فرمایا کہ ان کے اعمال کی وجہ سے قیامت تک کے لئے ذلت اور رسوائی ان کا مقدر بن گئی۔
ان کی سب سے بڑی برائی یہ تھی کہ رشوت کے عوض غلط فتوے دیا کرتے تھے۔ لیکن ان میں سے بھی جن لوگوں نے کتاب کو صحیح حق سے پہچانا، نماز کی پابندی کی، وہ اجر پائیں گے۔
پھر اللہ تعالی نے اس عہد الست کا ذکر کیا جو اللہ تعالی نے تخلیق آدم سے پہلے تمام روحوں کو جمع کرکے ان سے لیا تھا۔ اس دن اللہ تعالی نے تمام لوگوں سے پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے بالاتفاق گواہی دی کہ بے شک آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ قیامت کے دن یہ حجت کے طور پر دہرایا جائے گا چنانچہ انسان کے لاشعور میں حق کی پہچان اور فطرت میں خیر رکھ دی گئی ہے۔ (شعور میں اس لیے نہیں رکھا کہ پھر ایمان بالغیب کی اہمیت باقی نہ رہتی)۔
اس کے بعد ایک عالم کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا کہ جس کو اللہ نے اپنی آیات کا علم دیا تھا مگر شیطان نے اس کے دل میں دنیا کی محبت ڈال دی، اور وہ گمراہ ہوکر دنیا کے پیچھے دوڑ پڑا۔ چناچہ اللہ کی کتاب کا علم ہونے کے باوجود اس سے رو گردانی کرنا اور دنیا کی محبت میں بہک جانا یہ شیطانی عمل ہے اور اس کی مثال کتے کی طرح ہے، جیسے کتے کا لالچ ختم ہونے میں نہیں آتا اسی طرح دنیا کی محبت بھی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اللہ کے دین کا انکار اللہ کو نقصان نہیں دیتا، انکار کرنے والا خود محروم رہ جاتا ہے۔
یہاں اللہ تعالی تنبیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت سے ایسے جن اور انسان ہیں جنہیں جہنم کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ ہدایت پاتے ہیں اور نہ ہی اپنا نفع نقصان پہچانتے ہیں گویا عقل سمجھ ہی نہیں رکھتے۔ یہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔
نیز ہدایت کی گئی کہ اللہ کے اچھے اچھے نام ہے اس سے اسے پکارو۔ ان لوگوں کی تعریف کی گئی جو حق کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں انہیں ڈھیل ملتی ہے۔ یہ اللہ کی تدبیر ہے۔
پھر غور و فکر کی دعوت دی گئی کہ نبی کے آمد میں اس کی ذات میں آسمان و زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرو۔ واضح کیا کہ قیامت کا علم صرف اللہ کو ہے، وہ بہت بھاری دن ہوگا جو اچانک آئے گا۔
واضح کیا گیا کہ ہر قسم کے نفع نقصان کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ حتی کہ نبی کو بھی یہ اختیار نہیں۔ وہ تو صرف ایک بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں۔ اللہ ہی نبی اور سب صالحین کا سرپرست اور دوست ہے۔
ایک اہم چیز جو خاندانی نظام کے حوالے سے بیان کی گئی وہ یہ ہے کہ عورت کو شوہر کے لئے باعث سکون بنایا۔ لہذا گھر کو پرسکون رکھنا بیوی کی ذمہ داری ہے۔
پھر ان معبودوں کی کمزوری بیان کی گئی جن کو یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں پوجتے ہیں، حاجت روا مشکل کشا سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے یہ تو خود پیدا کیے ہوئے یہ کسی کی حاجت روائی کیا کرسکتے ہیں۔ یہ بت تو ان بزرگوں سے بھی گئے گزرے ہیں یہ تو اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے۔
اس سورت کے آخر میں چند بہت اہم نصیحتیں کی گئیں۔ امر بالمعروف کے ساتھ درگزر اور جاہلوں سے کنارہ کشی کا حکم دیا گیا۔ نیکی کے حکم کے ساتھ جاہلوں سے اعراض اور درگزر کی ہدایت اس لئے دی گئی کیونکہ جب دین کی دعوت دی جاتی ہے تو لوگ بلاوجہ الجھتے ہیں۔ لہذا ایسے وقت میں بجائے الجھنے اور جھگڑا کرنے کے ان نصائح پر کاربند رہنا۔
ہدایت کی گئی کہ جب حق کے بارے میں شیطان کے وسوسے آئیں تو اللہ سے پناہ مانگو۔ یہ متقین کی صفت ہے۔ ذکر شیطانی وسوسوں سے بچنے کا مضبوط ہتھیار ہے۔ وساوس کی جب بھی کثرت ہونے لگے ذکر کو بڑھا دینا چاہیے۔ ایک اہم ہدایت یہ دی گئی کہ جب قرآن کی تلاوت ہو رہی ہو تو خاموش ہو کر توجہ سے سنو۔ نبی کریم کو ہدایت کی گئی کہ صبح شام اپنے رب کو خوف اور عاجزی کے ساتھ چپکے چپکے سے یاد کیا کرو، یہ ہدایت تمام مومنین کے لیے بھی ہے کہ حاضر دل سے دعا کریں۔ ذکر کی قلت غفلت کی نشانی ہے۔ اور اسی مناسبت سے فرشتوں کی صفت یہ بیان ہوئی کہ فرشتے کبھی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اس کی تسبیح کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ سورۃ الاعراف ختم ہوتی ہے۔
سورۃ الانفال مدنی سورت ہے اور یہ جنگ بدر سے متعلق ہے۔ انفال سے مراد مال غنیمت ہے۔ جنگ بدر وہ پہلی جنگ تھی جو مسلمانوں اور کفار کے درمیان ہوئی اور نتیجے میں مال غنیمت اکٹھا ہوا۔ اس وقت یہ سوال پیدا ہوا کہ اس کا کیا کیا جائے۔ چونکہ پہلی دفعہ تھا اس لئے تھوڑی کشمکش بھی ہوئی کہ کس کو کتنا حصہ ملے گا۔ اس پر اللہ تعالی نے تنبیہ کی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے، باہمی تعلقات اس کی وجہ سے خراب مت کرو۔ اللہ اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ سچا مومن وہی ہے جس کا دل اللہ کے ذکر سے کانپ اٹھتا ہے، اس کی آیات سن کر اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے، اللہ پر توکل کرتا ہے، نماز قائم کرتا ہے اور اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتا ہے، تو انہیں کے لیے اونچے درجات ہیں۔
پھرجنگ پر تبصرہ کیا گیا بتایا گیا کہ تم آسان راستہ چاہتے تھے لیکن اللہ کافروں کی جڑ کاٹنا چاہتا تھا اس لئے جنگ کا سماں بنا دیا تاکہ کافر نیست و نابود ہوجائیں۔ اس موقع پر نبی کریم مسلسل مناجات میں لگے رہے۔ چناچہ اللہ تعالی نے فرشتے مدد کے لیے بھیجے اور فرمایا فرشتوں کا بھیجنا محض اطمینان کے لیے تھا۔ ورنہ مدد تو اللہ تعالی کی طرف سے ہی آتی ہے وہ بغیر اسباب کے بھی مدد کر سکتا ہے۔ کافروں کے دل میں رعب ڈال دیا گیا اور وہ پسپا ہو گئے۔ یہ انجام اس لئے ہوا کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ ہدایت کی گئی کہ جب بھی جنگ ہو ثابت قدمی سے مقابلہ کرنا۔ جنگ سے پیٹھ پھیرنا کبیرہ گناہ ہے سوائے اس کے کہ جنگی تدبیر کے لیے ایسا کیا جائے۔ بتایا گیا کہ فتح اللہ کی طرف سے ایمان والوں کے لیے ہے۔ کافروں کے لئے عبرت ناک شکست ان کے کفر کی وجہ سے ہے۔ مومنین کو ہدایت کی گئی کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اسی کے پاس قیامت کے دن سب جمع ہوں گے۔ یہ ہدایت بھی دی گئی کہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اور آپس میں امانت میں خیانت مت کرو۔ یہ مال اولاد فتنہ و لآزمائش کا سبب ہیں انہی کی محبت میں انسان حق سے منہ موڑتا ہے۔ لہذا تقوی پر چلنا چاہیے اس سے حق کی سمجھ بوجھ پیدا ہوتی ہے، گناہ معاف ہوتے ہیں اور مغفرت ہوتی ہے۔ استغفار عذاب سے بچانے کا سبب ہے، اللہ نے واضح کیا کہ جب تک استغفار کرتے رہوگے عذاب نہیں آئے گا پھر ان لوگوں کا انجام بتایا کہ جو لوگ اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے اپنا مال خرچ کرتے ہیں وہ قیامت کے دن شدید حسرت کا شکار ہونگے۔ لیکن اس ساری مخالفت اور ایذا رسانی کے بعد بھی بشارت ہے کہ اگر اب بھی باز آجائیں تو مغفرت کے حقدار ہوں گے۔ اس سے اللہ تعالی کی رحمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حکم دیا گیا کہ جنگ اس وقت تک کرو جب تک کہ دین اللہ کے لیے خالص نہ ہوجائے اور فتنہ مکمل طور پر ختم ہوجائے۔ آخر میں مومنین کو تسلی دی گئی کہ اللہ ہی تمہارا مولا اور سرپرست ہے، اور وہ کیسا ہی اچھا سرپرست اور مددگار ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں