بیوقوف قوم ۔۔۔ مہوش احسان

شکوہِ ظلمِت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوٸی شمع ہی جلاتے جاتے

مجھے تو آج حد درجہ افسوس باقی رہا ہے نا کوئی حیرت نے جکڑا ہے۔ ارے ہم سب ہیں ہی دوغلے جس طرف گنگا کو بہتا دیکھتے ہیں اسی طرف چل پڑتے ہیں ہاتھ دھونے۔  ارے تم لو گے انصاف تم زینب فرشتے یا میرے ملک پاکستان جس کا مطلب ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ میں سرعام بیٹیاں دفنائی گئیُ مذہب کے رکھوالوں کے ہاتھوں اور آج پاش پاش ہو رہی ہے آبرو ان کی،   ان کا بدلہ یا ان کے لیے انصاف۔ آج میں یہاں مسلمانوں کی غیرت سے بات شروع کروں گی اور سیاست پہ اس کا اختتام کروں گی۔ پچھلے کتنے سالوں سے دیکھ رہی ہوں سب سپر سٹار بن کے آجاتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں نیتوں کا دارومدار عمل پہ ہے زبان پہ نہیں۔ ارے تم مسلمان کیا دلاؤ گے انصاف دوغلے ہو تم دوغلے دودھ میں ملاوٹ مسلمان کرتے ہیں گھی میں ملاوٹ مسلمان کرتے ہیں حلیم میں چکن کے متبادل کاٹن کا استعمال مسلمان کرتے ہیں۔ جس قوم کی تعلیم کا مقصد حصوِل نوکری ہو وہ قوم نوکر ہی رہے گی ہیں ہم۔۔۔

یا اللہ یہ زمین کیوں نہیں پھٹتی؟ پروردگار ہم پر قیامت کیوں نہیں برستی؟ سنا تھا کہ بے وقوف کی دوستی سے سمجھدار دشمن اچھا۔ ہم تو سرے سے ہی بے وقوف ہیں۔ شروع سے ہمارا حال اس سردار کے جیسا ہے جس نے دیکھا دیوار پہ لکھا ہوا تھا:
“پڑھنے والا گدھا”
سردار جی کو پڑھ کر بہت برا لگا، مٹا کر لکھ دیا ۔۔”لکھنے والا گدھا” ۔

آہ ہم ہیں علم والے شعور والے، گلی گلی بیٹھے موٹیویشنل۔  سپیکر ہم ہیں، لکھاری ہم ہیں، کالم نگار ہم ہیں، جرنلسٹ ہم۔ کیسے نا سینہ پھٹ جائے ہم پہ؟ ظلم نہیں مذہب پہ ظلم تو ہم مسلمان صدیوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ بنو عباس کے عہد کا سب سے مشہور لونڈی، کنیز، غلام فروش “اِبن زمن” تھا۔ اُس نے ایک کنیز “ربیعہ” ایک لاکھ میں، دوسری “سعدی” نوے ہزار میں، تیسری “زرقا” اسی ہزار درہم میں بیچی تھی۔ خلیفہ بنو عباس ہارون الرشید نے “ذات الخال” (خال والی) کنیز کو ستر ہزار درہم میں خریدا تھا۔
خلیفہ بنو عباس ہارون الرشید کی ماں “خیزراں” اور مامون الرشید کی ماں “مراجل” عجمی لونڈیاں تھی۔ خلیفائے بنو عباس کی غالب اکثریت لونڈیوں کے بطن سے تھی۔
اطالیہ کے شہر وینس میں نُوعمر لڑکوں کو ہیجڑے بناکر اسلامی ملکوں کو برآمد کیا جاتا تھا۔ علاؤ الدین خلجی نے اپنے دور حکومت میں اسپیشل دوسرے اجناس کی طرح لُونڈیوں، غلاموں کی قیمتیں مقرر کر رکھی تھی۔
عربوں نے ایران، شام، فلسطین کے علاقے جب فتح کیے تو ہزاروں غلاموں، کنیزوں کے قافلے مدینہ پہنچے۔ جو بنو امیہ کے زمانے میں گانے اور ناچ کا سب سے بڑا مرکز بن گیا، جنگی غلاموں کو انکے کندھوں میں سوراخ کرکے تسمے ڈال کر اونٹ یا گھوڑے کی دم سے باندھ دیتے تھے اور وہ پیچھے پیچھے دوڑتے جاتے تھے۔ ہندوستان سے محمود غزنوی، تیمور لنگ، نادر شاہ افشاد، اور احمد شاہ ابدالی لاکھوں لونڈیاں اور غلام خراسان اور ایران لے گئے جہاں انہیں کوڑیوں کے مول بیچا گیا۔ محمد غوری اور فیروز شاہ تغلق کے ہزاروں ذاتی غلام تھے۔آباؤاجداد کی حالتوں کے تناظر میں اگر آج کل کی محرومیوں کو وجہ بناتے ہوئے چند وحشی جانور جب جب کسی ننھی کلی کو مسلتے ہیں تو زمانۂ گزشتہ کے احوال و واقعات کے ذمہ داران پر بھی لعنت بھیجنے کو من چاہتا ھے ۔
اک تسلسل ہی ہے جو رواں ہے۔  یہاں تو بدلا کچھ بھی نہیں۔ ہم بھی نہیں۔  بالکل درست سوال اٹھایا تھا جمیل خان نے کہ ایک دن میں سو شیعوں کے قتل پر بھنگڑے ڈالنے والوں کے سانحہ نیوزی لینڈ مسجد پر آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے۔
جب لاہور مین نوے احمدیوں کا قتل کیا گیا تو مسلمانوں نے بجائے اس ظلم پر مذمت کرنے کے احمدی عقائد پر بحث کرنا شروع کردی۔
جب چرچ کو ٹارگٹ کرکے پچاس عیسائیوں کو قتل کیا گیا مسلمانوں نے توہین رسالت پر بحث چھیڑ دی۔
شیعہ زائرین کو بسوں سے اتار کر مارا گیا تو توہین صحابہ کا رونا دھونا شروع کر دیا گیا
اور آج جب نیوزی لینڈ میں مسجد پر ایک درندے نے قتال شروع کیا تو سب کو مسلمانوں کو انسانیت یاد آگئی ہے۔
ان منافقوں سے پوچھوں کہ کبھی ایک ہزار مسلمانوں کو نہر کنارے ذبح کرنے والی داعش کے خلاف ایک لفظ مذمت کا بولا۔
یہ ہیں ہم مسلمان بڑے آئے انصاف مانگنے والے۔ ارے میں بتاؤں ہم مسلمانوں کا مذاق کیسے اڑایا جاتا ہے؟ میں بتاتی ہوں پڑھو غور سے۔

ایک تاجر نے سستی سی نیل پالش درآمد کر لی جو تھوڑی دیر کے بعد ہی اتر جاتی تھی۔ اس کا بہت زیادہ نقصان ہو گیا۔ وہ پریشان حال فیس بک پر مصروف تھا کہ اچانک ابن رشد سے متعلق ایک پوسٹ سامنے آئی۔
“اگر جاہلوں پر حکمرانی کرنا ہو تو ہر باطل پر مذہبی غلاف چڑھا دو”
وہ بے حد خوش ہوا ۔ اس نے اشتہار دیا کہ اللہ کے فضل سے ہم نے شرعی نیل پالش منگوائی ہےجسے وضو کرتے وقت بآسانی اتارا جا سکتا ہے۔ پھر کیا تھا۔ عورتیں اس پر ٹوٹ پڑیں اور تاجر کا کاروبار چمک اٹھا۔
اس نے بہت زیادہ مال کما کر ایک محل تیار کیا جس پر لکھا:

“ھذا من فضل ربی”

با خدا روح نہیں کٹ مرتی ہماری ہم نے تو مذہب کو ہی نگل لیا اپنی حیوانیت سے۔  ارے شعور تو سیکھ لو مذہب اور نظریات کے فرقے کا سہی سے پھر بات کرنا مسلمان ہونے کی، انصاف کی۔ جس قوم کی تعلیم کا مقصد حصوِل نوکری ہو وہ قوم نوکر ہی رہے گی اور نوکروں کو انصاف کی دہائ نہیں جچتی۔
کچھ برا لگا ہو تو معذرت خواہ ہوں میں بھی وہی لکھتی ہوں جو دیکھتی ہوں۔

اے مسلمان تیری جنت کی راہ
ہم اہلِ قلم کا خون ہی سہی

 

Avatar
مہوش احسن
رائٹر، جرنلسٹ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *