چین اور روس کا صدی کی سب سے بڑی تبدیلی لانے کا اعلان

چین اور روس کے مغرب کے خلاف متحدہ محاذ قائم کرتے ہوئے اپنے تعلقات کے ’نئے دور‘ کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ چین کو روس اور یوکرین کے درمیان بطور غیرجانبدار ثالث نہیں دیکھتا۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے وطن واپسی کیلئے ائیر پورٹ روانگی کے وقت روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کو مسکراتے ہوئے کہا کہ ایسی تبدیلی آ رہی ہے جو گذشتہ 100 برس میں نہیں آئی اور اسے ہم مل کر آگے بڑھائیں گے ۔

صدر شی کے الفاظ نے مغرب میں خطرے کی گھنٹیاں بجادیں۔

رپورٹ کے مطابق چین اور روس کے رہنماؤں نے ماسکو میں متحدہ محاذ قائم کرتے ہوئے اپنے تعلقات کے ’نئے دور‘ کا خیرمقدم کیا۔

چینی صدر نے منگل کو روس کا دورہ کیا اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی جس میں یوکرین کی جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

روسی صدر نے کہا کہ وہ یوکرین کے معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے تنازع پر بیجنگ کے 12 نکاتی پوزیشن پیپر کو سراہا جس میں تمام ممالک کی علاقائی خودمختاری کے لیے بات چیت اور احترام کا مطالبہ شامل ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مغرب پر الزام لگایا تھا کہ وہ یوکرین کے تنازع کو ختم کرنے کے لیے بیجنگ کی تجاویز کو مسترد کر رہا ہے۔

صدر پوتن نے چینی رہنما شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا تھا کہ ’چین کی طرف سے پیش کردہ امن منصوبے کی بہت سی شقوں کو پُرامن تصفیے کی بنیاد سمجھا جا سکتا ہے جب کیئف اور مغرب اس کے لیے تیار ہوں گے تاہم، اب تک ہم نے ان کی طرف سے ایسی تیاری نہیں دیکھی۔‘

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ کیئف نے چین کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور وہ بیجنگ کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ چین کو کسی بھی طرح ایک غیرجانبدار ثالث کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ چین نے یوکرین پر روسی حملے پر تنقید سے گریز کیا ہے اور اُس نے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھی ہوئی ہے حالانکہ مغرب نے ماسکو کے توانائی سیکٹر پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

جان کربی نے کہا کہ چین اس ’روسی پراپیگنڈے میں ہم زبان‘ ہے کہ امریکہ اور مغرب کے دیگر ممالک اس جنگ کے ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ یوکرین کے مضبوط حمایتی ہیں۔ جس کی وجہ سے روس کو خطرہ محسوس ہوا اور وہ مداخلت کرنے میں حق بجانب ہے۔

جان کربی نے کہا کہ ’روس اور چین اس کھیل کے قوانین کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔‘

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’اس کے باوجود امریکہ چین کے ساتھ رابطے کے ذرائع کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔‘

julia rana solicitors london

جان کربی کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ چین نے روس کو فوجی امداد فراہم کی ہے۔

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply