باقی نہ رہا عشق ترے حُسنِ بیاں میں
زیبا تو بہت، درد نہیں تیرے فغاں میں
لڑتا ہے کبھی مصلحتوں سے بھی کوئی جنگ
آہن ہی نہیں کچھ بھی ترے تیر، سناں میں
دنیا ہے بہت خوب، یہاں دین سے کیا کام
الله کو بھی توُ ڈھونڈ ترقی کے سماں میں
جدّت ہے کبھی اصل تو تہذیب کبھی نصّ
قرآن تھا میزان کسی اور زماں میں
طاقت کی ہوس یہ کہ ہے شہرت کی بھی خواہش
ہے بیچ رہا دین کو عالِم ہی جہاں میں
اخلاق کا معیار ہے بس اب یہی دنیا
پھٹکار ہے دیں کے دیے ہر سرِّ نہاں میں
آصف ؔ توُ پکارے ہے کسے درد سنانے
سنتا ہے بھلا کوئی تجھے تیرے جہاں میں؟
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں