میرٹھ چھاؤنی ،کیمپ نمبر 28 میں گزارے 22 ماہ (3)–گوہر تاج

خانہ بدوشی کے کچھ ماہ، میر پور، ڈھاکہ میں 

ایک خیمہء  اُمید لیے خانہ بدوشی

عرصے سے ہے کیوں در پئے  آزار نہ پوچھو

(خورشید حسنین)

ہمارا اگلا پڑاؤ میرپور کا علاقہ تھا جو مین ڈھاکہ سے کچھ فاصلہ پہ واقع تھا۔ جہاں کی آبادی اُردو بولنےوالے بہاریوں پہ مشتمل تھی ۔اس لحاظ سے یہ نسبتاً محفوظ علاقہ تھا۔ جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ ہم میرپور آنے سے پہلے ابّی کے مہربان دوست اور انکی کمپنی کے مالک، مشرف صاحب کے گھر رہے جو کہ ایک نیک دل اور با رسُوخ بنگالی آدمی تھے۔ ہم لوگوں کو انکی اتنی مہمان نوازی سے کچھ شرمندگی سی محسوس ہورہی تھی ۔ انکا کہنا تھا آپ یہیں رہیں اور ہمارے گھر سے ہی آفس جائیں ۔مگر ابّی نے کہا ہم کس طرح دفتر جائیں گے۔ جگہ جگہ تو چیک پوسٹ بنائی ہوئی  ہے۔ نکلنا خطرے سے خالی نہیں ۔ پھر طے یہ پایا کہ 7مارچ کو ڈھاکہ میں شیخ مجیب کی تقریر ہے 4 بجے اس وقت لوگ اس تقریر میں مصروف ہونگے لہٰذا 4سے 7 بجے کے دوران کا وقت میرپور روانہ ہونے کے لیے مناسب ہوگا۔

ہم سات بہن بھائی، امّی، ابّی اور ہمارے گھر کا پرانا ملازم لقمان ،کُل دس افراد تھے۔ہمارے لیے مشرف صاحب نے ایک فوکس ویگن نیلے رنگ کی مِنی بس منگوا دی ۔ ساتھ ہی اپنی جان پہچان کے دو با اعتماد آدی بھی بھیج دیے، تاکہ ہم بحفاظت میرپور پہنچ جائیں۔جہاں ہمارے بہت سارے رشتہ دار رہتے تھے۔وہ علاقہ 6 نمبرپلاٹ کہلاتا تھا۔ ہمارے ابّا کے کزن، میرے حسین چچا، جن کا بیٹا سرور تھا وہ ہم سے پہلے ہی یہاں منتقل ہوچکے تھے۔حسین چچا دبنگ آدمی تھے ایک دن انہوں نے اپنے گھر سے کسی آدمی کو ایک دوسرے کو قتل کرتے دیکھا تو وہ فوراً  بھاگ کے گئے اور اسکی ناصرف   جان بچائی  بلکہ ہسپتال بھی پہنچایا۔

ہم اپنے رشتہ داروں کے گھر صرف ایک ہفتہ ہی رہے تھے۔ اسکے بعد ابّی نے قریب ہی میں گھر لے لیا تھاجس میں چار کمرے اور ایک کشادہ ڈرائنگ روم تھا۔ محلّہ اچھا تھا۔ جلد ہی سب سے دوستی ہوگئی تھی۔ڈھاکہ میں ہمارا گھر مخلوط آبادی والے علاقہ میں تھا جبکہ میرپور میں سب اُردو بولتے تھے۔

محلّے میں میری عمر کے لڑکے کم تھے۔ البتّہ رشتہ کے ظفر ماموں کا بیٹا ضیا ء میرا ہی ہم عمر تھا۔ جس سےدوستی ہوگئی تھی۔ہمارے ایک ملک چچا بھی تھے جن کے بیٹے عیش ملک تھے جو میٹرک کے بعد ڈھاکہ گئےتھے، مزید پڑھنے مگر کبھی واپس نہ لوٹے۔مجھے وہیں محلے کے اسکول میں داخلہ مل گیا۔ اسکول کا نام” نیشنل ہائی اسکول” تھا۔ جومیرپور 2 نمبر میں تھا۔ وہیں میرے ایک دوست سراج انور بھی تھے جن کا میراساتھ بعد میں کیمپ اور پھر ڈاؤمیڈیکل کالج میں بھی ہوا۔انکے  والد رفیع احمد فدائی  تھے جو روزنامہ جنگ سے وابستہ تھے۔

میرپور آنے کے بعد تو لگا یہاں توامن وامان ہے۔کوئی  شور شرابا نہیں، نہ ہنگامہ، نہ کوئی  مار کٹائی ، اور نہ ہی کوئی  پولیس یا فوج نظر آتی تھی۔ہاں البتّہ لوگوں نے اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار مثلاً رائفل رکھے ہوۓ تھےتاکہ اگر کوئی  حملہ ہو، تو حفاظت کرسکیں۔

میر پور میں بڑے اور کُھلے میدان تھے جہاں فٹ بال اور ہاکی کھیلی جاتی   اور ہم سب شوق سے اس میں حصّہ لیتے۔

ابّی نے ایک بار پھر گھر کے لیے فرنیچر خریدا کیونکہ پرانے گھر سے سواۓ کپڑوں کے کچھ نہ آسکا تھا۔

آہستہ آہستہ سب معمول کے مطابق نارمل ہونے لگا۔ ابّی کا آفس ڈھاکہ میں تھا۔ محلے کے کچھ اور لوگ مل کرآفس کی کانٹریکٹ بس میں جاتے تھے۔

محلّہ کے لوگوں میں مجھے کلّن چچا اور انکے بھائی  عباس صاحب یاد آرہے ہیں۔ ایک دن پتا چلا کہ کلّن چچابس سے گر گئے ۔ پچھلی جانب سے گاڑی آرہی تھی جو ٹانگ پہ چڑھ گئی۔ اس طرح بعد میں انکی ٹانگ گھٹنے سے کاٹنی پڑی۔ انکے بیٹے سخی عباس ہمارے دوست تھے ۔ایک پڑوسی ملک چچا تھے جن کا بیٹانشاط ملک۔ جو بعد میں کراچی میں اسپورٹس میڈیسن کا ڈاکٹر بنا۔جنہوں نے کراچی کی ایک سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ پھر بعد میں کسی نے انکے گھر کے سامنے انہیں گولی مار کے ختم کردیا۔ اسی طرح بڑے بھائی  کے ساتھ کے ایک دوست عارف مصطفیٰ  تھے جو بعد میں مجھے ڈاؤمیڈیکل کالج کراچی میں ملے ۔ وہ مجھ سے دو سال سینئر تھے جنہوں نے نا  صرف وہاں گائیڈ کیا۔بلکہ کراچی سے کینیڈاآکر بسنے میں بھی رہنمائی   کی۔

میر پور میں ایسا لگتا ہی نہیں تھا کہ باقی شہر میں لسانیت اور نفاق کی آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ ہمارامحلّہ پُرسکون اور ہمارے گھر کا ماحول بہت خوشگوار تھا۔ مغرب کے بعد کوئی  بچہ باہر نہ کھیلتا۔ یہ ہمارےگھر کا اُصول تھاکہ ہم سب رات کا کھانا ساتھ کھاتے اور چھٹی والے دن صبح کا مخصوص ناشتہ بہت اہتمام سے ہوتا تھا۔ میٹھا دہی جو پیلے رنگ کی مٹی کی ہنڈیا میں ہوتا جس میں رات کو سفید چیوڑا بھیگو دیاجاتا اور صبح ٹپالی گُڑ کے ساتھ کھایا جاتا۔ جبکہ شام کی چاۓ چینی کے پیالوں میں توس بسکٹ کے ساتھ پی جاتی ۔

امّی کی نگاہ سخت ہوتی گو دل کی نرم تھیں۔ابّی البتہ خاصے نرم مزاج تھے۔ چھٹی والے دن میری ان سےایک فرمائش ہوتی تھی کہ ہمیں پھوپھی کے گھر موتی جھیل لے چلیں۔ جہاں سرکاری ملازمین کے مکانات تھے۔ ہمارے پھوپھا پی  PWD میں کام کرتے تھے۔ ابّی ہمیں ساتھ ساتھ رکھتے۔ شاپنگ کراتے اور گھر میں ہمارے ساتھ کیرم اور لو ڈو بھی کھیلتے تھے۔

اس محلے میں علاقے کے بی ڈی ممبر کا تین منزلہ اونچا بڑا سا گھر تھا۔ وہ عباس چیئرمین کے نام سےمشہور تھے۔میر پور کے بعد جو علاقہ تھا اسکو پلابی کہتے ہیں۔ جہاں کی اکثریت بنگالیوں پہ مشتمل تھی جس کی وجہ سے میر پور والوں کو خدشہ رہتا کہ کہیں حملہ نہ ہوجاۓ۔اس لیے حفاظت کے لیے ایک منظّم نظام ترتیب دیا گیا تھا ۔ ہر رات لوگوں کی ڈیوٹی لگتی تھی  کہ اگر حملہ ہو تو رات میں پول بجا دیں۔عباس چیئرمین صاحب کے گھر کی اُوپر ی منزل پہ لوگ بندوق لے کے بیٹھتے تھے تاکہ حملے کی صورت میں نمٹ سکیں۔

جاری ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply