• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • یوکرین خطے میں مغربی پراکسی کا شکار/ڈاکٹر ندیم عباس

یوکرین خطے میں مغربی پراکسی کا شکار/ڈاکٹر ندیم عباس

یوکرین روس جنگ یوکرین کی عوام کے لیے بڑی تباہی لائی ہے۔ بڑی تعداد میں عام لوگ اس جنگ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ مغرب نے خطے میں نیٹو کی اجارہ داری کو مستحکم کرنے اور روس کے گرد اپنا گھیرا تنگ کرنے کے لیے یوکرینی صدر زیلنسکی کو ناصرف شہ دی بلکہ اس قدر گمراہ کیا کہ وہ اپنی ہی زمینوں کو امریکی پراکسی کا مرکز بنانے پر آمادہ ہوگئے۔ مغربی سرمایہ دارانہ نظام اخلاقیات سے عاری نظام ہے، اس میں اپنے ملک کی عوام کو کوئی چیز مفت نہیں دی جاتی، یوکرین کی عوام کی حفاظت کے لیے اربوں ڈالر کیسے فری میں دیئے جا سکتے ہیں۔؟ ایک ٹینک سے لے کر ایک گولی تک یوکرین کو اس کی اصل قیمت سے کئی گنا قیمت پر دی جا رہی ہے۔یورپی پارلیمنٹ کی ایک انسان دوست جنگ مخالف ممبر کی تقریر سن رہا تھا، اس نے خوب کہا کہ یوکرین کی بہت سی زمینیں بک چکی ہیں، لیبر قوانین کی تباہی ہوچکی ہے، ملک کا مستقبل ایک پراکسی وار کی نظر ہوچکا ہے۔

جنگ سے پہلے یوکرین ایک ابھرتی ہوئی جمہوریت تھا، امن و امان کی بہترین صورتحال تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ زیلنسکی نے تمام اپوزیشن جماعتیں بین کر دی ہیں، میڈیا اور مزدور تنظیمیں بھی پابندی کی زد میں ہیں۔ یوکرین کے آڈیٹر جنرل چیخ رہے ہیں کہ کرپشن کے پہاڑ گرائے جا رہے ہیں۔ یورپ نے اپنی یوکرین پالیسی یوں بنائی ہے کہ امن نہ آنے پائے۔ ایک طرف روس کے ٹینک ہیں اور دوسری طرف مغرب کے بنک ہیں۔ یوکرین کے عوام ہر دو کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ ہماری جان ان سے کب چھوٹے گی۔ ایک رپورٹ دیکھ رہا تھا، اس کے مطابق جو بائیڈن اور امریکی کانگریس نے کیف کی فوجی امداد پر سو ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی، جو ہتھیار بنانے والی ان امریکی کمپنیوں کے لیے بڑی نعمت ہے۔ یہ سو ارب ڈالر جو امریکہ کسی نہ کسی صورت میں یوکرین سے سود سمیت وصول کرے گا، وہ بھی یوکرین کو نہیں دی گئی بلکہ اس سے بھی امریکی معیشت کا پہیہ تیز کیا گیا اور وہ ساری رقم ان کمپنوں کو دے کر ان کے ہتھیار مرضی کی قیمت پر یوکرین کو فراہم کیے گئے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی جنگ کے بعد پہلے دورے پر امریکہ آئے، جہاں ان کا بھرپور استقبال کیا گیا اور بہت سے مطالبات تسلیم کیے گئے۔ یوکرین کا ایک بڑا مطالبہ یہ رہا ہے کہ ہمیں پیٹریاٹ میزائل فراہم کیے جائیں۔ امریکہ نے کیف کا مطالبہ تسلیم کر لیا اور اپنا سب سے زیادہ صلاحیت والا دفاعی پیٹریاٹ میزائل نظام یوکرین کے حوالے کرے گا، جس کے لیے یوکرین کی افواج کی تربیت جرمنی میں کی جائے۔ یوکرین یہ سمجھتا ہے کہ روسی ڈرونز کے مقابلے میں یہ نظام اس کا بہترین دفاع ہوگا۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر من چاہی شرائط پر امریکہ نے یہ نظام فراہم کرنے کی حامی بھری ہے۔ زیلنسکی نے امریکہ میں مذہبی جذبات کا تڑکا بھی لگایا اور کہا یوکرین کے عوام جنگ کے باوجود کرسمس منائیں گے، کیونکہ بجلی سے محروم کر دیئے جانے کے باوجود “ہمارے ایمان کی روشنی کو بجھایا نہیں جاسکے گا۔” اس سے انہوں نے امریکہ کی مذہبی اشرافیہ کی سپورٹ لینے کی کوشش کی، جو امریکی نظام میں ایک خاص انداز میں اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ امریکی صدر بش نے افغانستان پر حملے کو ہی صلیبی جنگ کہہ کر شروع کیا تھا۔

زیلنسکی یہ جانتے تھے کہ امریکی قیادت میں ایران مخالف لابی بڑی طاقتور ہے، اس لیے ایران کا ذکر نا صرف ضروری سمجھا بلکہ انہی غلط الزامات کو تکرار کیا کہ روس اپنے توپ خانے کے ذریعے ہمارے شہروں تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس لیے انہوں نے ہمارے شہروں کو ایرانی ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ جذباتیت کے زور پر اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے کی جانے والی کوشش ہے۔ اپنی ناکامی کا الزام کسی اور پر نہیں ڈالنا چاہیئے۔ اسلامی جمہوری ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا “ہماری ساری توجہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اسلحی ضروریات پوری کرنے پر مرکوز ہے۔ اس وجہ سے اسلحے کو ایکسپورٹ نہیں کیا گیا۔ یوکرین کی جنگ میں استعمال کرنے کے لیے بھی کسی فریق کو نہیں بھیجا گیا ہے۔” انہیں کانگریس سے خطاب کرنے کا موقع دیا گیا۔ اسے ایک منفرد اعزاز کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس سے قبل جنگ کے وقت کے برطانوی رہنماء ونسٹن چرچل کی طرح کے رہنماؤں کو دیا گیا۔ میں غور کر رہا تھا کہ امریکی سینیٹ سے ان جنگی رہنماوں کو خطاب کا موقع دیا گیا، جن کی امریکی جنگی خواہش کے مطابق اپنی اقوام کو جنگ کے لیے کھڑا کرنے کی تاریخ ہے۔

julia rana solicitors london

یہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے کہ امریکی اپنے لیے لڑنے والوں کو سینیٹ اور وائٹ ہاوس تک رسائی دیتے ہیں۔ جب افغان مجاہدین افغانستان میں روس کے خلاف لڑ رہے تھے، اس وقت یہ دنیا میں انسانیت کے لیے لڑنے والی سب سے بڑی قوت تھے۔ وائٹ ہاوس میں امریکی صدر ان کا کھلے ہاتھوں استقبال کرتے تھے۔ ان کی شان میں خود ساختہ قصیدے پڑھے جاتے تھے اور جب روس افغانستان سے چلا گیا تو ایک وقت یہ بھی آیا کہ امریکہ کو افغانستان میں انہی فریڈم فائٹرز کے خلاف خود لڑنا پڑا اور آخر میں خود معاہدہ کرکے چلے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔ زیلنسکی کا دورہ کس قدر کامیاب رہا ؟ اس کے خطے پر کیسے اثرات ہوں گے؟ اس کا جلد معلوم ہو جائے گا۔ مجھے اینڈریو بن کے تجزیئے سے سو فیصد اتفاق ہے اور اس نے درست لکھا ہے کہ زیلنسکی کے دورے کے بعد اب یہ بہانہ بند ہونا چاہیئے کہ یوکرین روس جنگ امریکی پراکسی نہیں ہے۔

Facebook Comments

ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply