پاکستان میں پھیلتی ایڈز/راؤ کامران علی، ایم ڈی

چند مہینے پہلے   ایک  نوجوان نے اپنے کسی رشتہ دار کے حوالے سے رابطہ کیا۔ وہ تیئس سالہ نوجوان مریض دماغ کی ٹی بی (مریض کے لواحقین کے مطابق) کے ساتھ نشتر ہسپتال میں داخل تھا اور اسے ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے۔ دماغ کی ٹی بی کا مطلب ہے ایڈز کی آخری اسٹیج، جس کا مطلب ہے کہ اسے ایڈز کا وائرس جسے HIV کہتے ہیں تقریباً دس سال پہلے لگا ہوگا۔ مزید سوالات پر پتا چلا کہ وہ بچپن سے ٹرکوں کے ساتھ جاتا تھا اور ٹرک ڈرائیور اس سے جنسی تعلق رکھتے رہے ہیں۔ اور اس سے بھی دہشتناک بات یہ ہے کہ اس نے اپنے ایک قریبی عزیز کو پچھلے سال خون دیا جس کا مطلب ہے کہ عزیز کو بھی ایڈز ہوگئی ہوگی، میرے کہنے پر عزیز کا ٹیسٹ کروایا گیا اور بہت بری طرح پازیٹو نکلا یعنی وائرس بری طرح پھیلا ہوا تھا جسم میں۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا خون لیتے وقت ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی کی سکریننگ نہیں کی گئی تھی۔؟ یہ سوچ کر دماغ سائیں سائیں کرتا رہا کہ دس سال میں ان ڈرائیوروں نے کہاں کہاں ایڈز پھیلا دی ہوگی؛ ان کی شریف بیویوں اور شاید بچوں میں بھی۔ جس عزیز نے خون لیا اسکی بیوی کا ٹیسٹ کروانے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

انٹرنیٹ کے استعمال کے باعث اب مراسم کی حدیں محلہ یا کالج ہی نہیں رہا؛ حیدرآباد کی کوئی بھی خاتون، لنڈی کوتل کے کسی بھی مرد سے تعلقات رکھ سکتی ہے! اسّی کی دہائی میں ایڈز کی بیماری مال بردار بحری جہازوں کے ملاحوں کے ذریعے ایک براعظم سے دوسرے میں پہنچی تھی جبکہ پاکستان اور انڈیا میں ٹرک ڈرائیوروں کے ذریعے پھیل رہی ہے۔ دو پیار کرنے والوں کے درمیان “پلاسٹک” تک نہیں آنی چاہئیے جیسے بیکار فلمی ڈائیلاگز نے رہتی سہتی کسر پوری کردی ہے اور جوان جوڑے پروٹیکشن کی اہمیت کو “بول بچن” میں ڈبو دیتے ہیں۔

پاکستان میں ایڈز ایک بہت بڑا بم ہے جس کا فیتہ سُلگ گیا ہے۔ جب یہ بم پھٹے گا تو بڑے بڑے خاندان اجڑیں گے!

پاکستان کے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق، ملک میں 165,000 سے زیادہ افراد ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں، جن میں سے صرف 24,331 (15%) اپنی حیثیت سے آگاہ ہیں۔

‎اور ان میں سے بھی محض 17,149 افراد نے 2019 میں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی حاصل کی۔

گلی گلی پھرنے والے بداحتیاط مَردوں کے گناہ کا عذاب انکی بیویاں خود جھیلیں گی اور اپنی کوکھ میں بھی پالیں گی! احتیاط شرط ہے! ہم گناہ اور ثواب میں الجھ کر ایڈز کی سماجی اور طبی نوعیت پر غور نہیں کرتے۔ سیکس ایجوکیشن کو بدکرداری کی تربیت قرار دیتے ہیں جبکہ یہ جنسی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ دنیا کا کوئی مذہب جنسی بےرہروی کو نہیں روک سکتا ورنہ مسجدوں کے حجروں میں بچے اور گرجا گھروں کے تہہ خانوں میں راہبائیں محفوظ ہوتیں۔ موت تک کی سزا کے باوجود ریپ میں کوئی کمی نہیں آئی۔ تو اسی دنیا میں اسی معاشرے میں ایڈز سے کیسے بچا جائے۔

۱- سب سے اہم ہے کہ monogamous relationship یعنی ایک ہی سیکس پارٹنر ہو۔ اور اس پارٹنر کو اپنانے سے پہلے اسکا مکمل میڈیکل چیک اپ ہو ورنہ کم از کم ایڈز، ہیپاٹائیٹس، ہیموفیلیا،تھیلیسیمیا کا چیک اپ کیا جائے۔

۲- ایک سے زیادہ جنسی تعلق کم از کم پاکستانی مرد تو اپنا حق سمجھتے ہیں؛ کچھ ایک سے زیادہ شادیوں یا متعہ کو بیچ میں لاکر اور کچھ بیوی کی بچوں میں مصروفیت کی وجہ سے “ٹائم نہ دے پانے کو”؛ چونکہ یہ ٹاپک تبلیغ کا نہیں بلکہ ایڈز سے بچاؤ پر ہے تو اس بات کو مرد حضرات ذہن میں رکھیں کہ ہوسکتا ہے کہ اس خاتون کے بھی کسی اور سے مراسم   رہے ہونگے تو کم از کم کنڈوم کا استعمال کریں ورنہ ایچ آئی وی خود بھی لیکر مریں گے اور بے قصور بیوی کو بھی دیں گے۔

۳- شادی شدہ عورتوں کا شوہر کے علاوہ کسی کے ساتھ جنسی تعلق اب سوشل میڈیا کے دور میں  نسبتاً بڑھ گیا ہے (گو کہ مردوں کے مقابلے میں تو دس فیصد بھی نہیں) لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شادی شدہ عورت ایک طرح سے دوسرے مرد کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہوتی ہے کہ وہ راز افشاں نہ کردے، شوہر مار دے گا، طلاق دے دے گا تو اس پریشر میں وہ پروٹیکشن کے استعمال پر اصرار نہیں کرسکتی۔ اس طرح وہ بھی اپنے شوہر کو ایڈز دے سکتی ہے۔ اور شادی شدہ عورت  کی بات پر جو “غیرتمند” مرد اعتراض کریں انھیں پتا ہو کہ اسلام میں شادی شدہ مرد اور عورت کے ناجائز تعلق کی سزا ایک ہے۔ تو اپنے آپ کو پہلے ٹھیک کریں۔

۴-جو بھی مرد حضرات بیرون ملک روزگار کے سلسلے میں گئے ہوں جب واپس آئیں تو ائیرپورٹ پر انکا ایڈز کا ٹیسٹ ہو۔ مقصد کسی کے کردار پر شک نہیں۔ اکیلا اتنی دور رہنا آسان نہیں۔ مسئلہ زیادہ مزدور طبقے کا ہے کیونکہ ان میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے اور پروٹیکشن کا نہیں پتا ہوتا۔

۳-ہم جنس پرستی کے بارے میں جس کی بھی جیسی بھی رائے ہے اسکا ایڈز کی روک تھام سے کوئی تعلق نہیں۔ دیکھا جائے تو ایڈز ہم جنس پرست خواتین میں نہ ہونے کے برابر ہے، تو کیا خدانخواستہ اسکی ترغیب دیں؟ ہم جنس پرستوں کو ایڈز کی وجہ قرار دینا حقیقت سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔ چاہے ہم جنس پرست ہو یا مخالف جنس پرست ہو، پروٹیکشن سب پر یکساں لاگو ہے۔

۴- کبھی راہ چلتے سے خون نہ لیں۔ اسکے لئے بلڈ بینکس ہیں۔ اگر پرائیویٹ لیبارٹری میں بھی عطیہ کیا خون ٹیسٹ کروانا پڑے تو دوبار مت سوچیں، کر گزریں۔

۵- لڑکی والے عموماً لڑکے والوں سے شادی سے پہلے ٹیسٹس کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔ کاش حکومت کوئی ایک اچھا کام ہی کردے کہ نکاح خوان کو پابند کردے کہ جب تک لڑکا اور لڑکی حکومت کی تعین کردہ لیبارٹری (جیسا کہ کووڈ میں تھی) سے ٹیسٹ رپورٹ نہ لائیں، نکاح نہ پڑھائے ورنہ جیل ہوگی اور اسی طرح نکاح رجسٹرڈ نہ ہو جب تک میڈیکل سرٹیفیکیٹس نہ ہوں۔
اسی طرح حکومت کو چاہئے کہ کم از کم ڈرائیونگ لائسنس ، پاسپورٹ یا کوئی بھی ڈگری جاری کرتے وقت ایڈز اور ہیپاٹائیٹس کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا جائے۔

ایڈز لاعلاج ہے؛ مستقبل قریب میں علاج کا امکان نہیں اور آگیا تو بھی پہلے کئی سال امیروں تک رہے گا کیونکہ مہنگا ہی اتنا ہوگا۔ اسکا مطلب ہے کہ اگر آج کوئی اس وائرس کا شکار ہوتا ہے، قوی امکان ہے کہ علاج کے دریافت تک زندہ نہیں رہے گا۔ زندہ نہ رہنا تو شاید چھٹکارا ہو؛ انسان جس تکلیف سے گزرتا ہے، شاید آپ اندازہ نہیں کرسکتے۔ کاش آٹھ دس ایڈز کے مریضوں کے مرنے سے پہلے انٹرویو ریکارڈ کئے جائیں اور دکھائے جائیں کہ کس اذیت سے وہ گزرے اور ایڈز کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کا علاج کرواتے کیسے انکا سب کچھ بک گیا۔

Advertisements
julia rana solicitors

احتیاط شرط ہے، خدا کا اتنا خوف یا اتنی عزت تو کر لیں کہ ایسا کام کرتے وقت تو کنڈوم پروٹیکشن استعمال کرنے کی بجائے “الّلہ مالک ہے” نہ کہا کریں۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply