وضونمازکی کنجی ہے

وضونمازکی کنجی ہے
ارشادباری تعالیٰ ہے ۔اے ایمان والو!جب نمازکوکھڑے ہوناچاہوتواپنامنہ دھوئواورکہنیوں تک ہاتھ اورسروںکامسح کرواورگٹوں تک پائوں دھوئو۔(پارہ ۶سورۃ المائدہ)یعنی اے ایمان والو!جب تم نمازپڑھنے کاارادہ کرو(اوروضونہ ہو)تواپنے منہ اورکہنیوں تک ہاتھوں کودھوئواورسرکا مسح کرواورٹخنوں تک پائوں دھوئو۔
وضوکالفظی معنی ہے روشن چہرے والا!وضومیں جسم کے چنداعضاء خاص ترتیب سے دھوئے جاتے ہیں وضو کرنے سے جہاں صفائی اورپاکی حاصل ہوتی ہے وہاں اس کی افادیت رسول اکرم نورمجسم ﷺکے اس فرمان مبارک سے معلوم ہوتی ہے ۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضوراکرم نورمجسم ﷺ نے ارشادفرمایاکہ قیامت کے دن میری امت اس حال میں بلائی جائے گی کہ منہ اورہاتھ پائوں آثاروضوسے چمکتے ہوں گے توجس سے ہوسکے چمک زیادہ کرے ۔(بخاری ،مسلم شریف)حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم رئوف رحیمﷺ سے لوگوں نے پوچھاکہ آپ اپنی امت کے لوگوں کوکیسے پہچانیں گے جن کوآپ نے دیکھانہیں آپﷺنے فرمایاوضوکے نشان سے ان کے ہاتھ پائوں چمکتے ہوں گے ۔
حضرت ابومالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاوضوکرناآدھاایمان ہے الحمدللہ!عملوں کے ترازوکو بھردیتاہے سبحان اللہ اور اللہ اکبرزمین وآسمان کوبھردیتے ہیں نمازنورہے زکوٰۃ دلیل ہے صبرروشنی ہے اورقرآن تیرے لئے دلیل ہے یاتجھ پر دلیل ہے ہرآدمی صبح اٹھتاہے پھر اپنے نفس کوبیچتاہے پس اسے آزادکرنے والااورکوئی ہلاک کرنے والاہوتاہے ۔(ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺنے صحابہ کرام علہیم الرضوان سے ارشادفرمایاکیامیں تمہیں ایسی چیزنہ بتادوںجس کے سبب اللہ پاک خطائیںمعاف فرمادے اوردرجات بلندکردے صحابہ کرام علہیم الرضوان نے عرض کی،جی ہاں یارسول اللہﷺ!آپﷺنے فرمایاجس وقت وضوناگوار ہوتاہے اس وقت وضوئے کامل کرنااورمسجدوں کی طرف قدموں کی کثرت اورایک نمازکے بعددوسری نمازکاانتطاراس کاثواب ایساہے جیساکفارکی سرحدپرحمایت بلاداسلام کے لئے گھوڑاباندھنے کا۔(صحیح مسلم شریف)
ابن خزیمہ اپنی صحیح میں روای کہ حضرت عبداللہ ابن بریدہؓ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن صبح کو نبی کریمﷺنے حضرت بلال ؓ کوبلایا اورفرمایا،اے بلالؓ کس عمل کے سبب جنت میں تومجھ سے آگے آگے جارہاتھا۔میں رات جنت میں گیاتوتیرے پائوں کی آہٹ اپنے آگے پائی۔ حضرت بلالؓ نے عرض کی کہ یارسول اللہﷺجب میں اذان کہتااس کے بعددورکعت نمازبھی پڑھ لیتاہوں اورمیراجب کبھی وضوٹوٹتاہے وضو کرلیاکرتا ہوں آقاﷺنے فرمایااس سبب سے۔ درج بالااحادیث مبارکہ سے معلوم ہواکہ جوشخص ہروقت باوضورہے گاجنت کاحقدارہے۔ انشاء اللہ اسے جنت ضرورملے گی۔حضرت عبداللہ صنابحی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاجس شخص نے وضوکیاکلی کی اورناک میں پانی ڈالاتواس کے منہ اورناک سے گناہ نکل جاتے ہیں جب اس نے منہ دھویاتواس کے منہ کے گناہ نکل جاتے ہیں۔جب اس نے منہ دھویاتواس کے منہ کے گناہ نکل گئے یہاں تک کہ پلکوں کے نیچے سے بھی جب ہاتھ دھوئے توہاتھوں کے گناہ جھڑگئے جب مسح کیاتواس کے سرکے گناہ نکل گئے یہاں تک کہ کانوں سے بھی جب اس نے پائوں دھوئے تواس کے پائوں کے گناہ بھی نکل گئے یہاں تک کہ ناخنوں کے گناہ بھی نکل گئے اب اس کانمازپڑھنامسجدکی طرف چلنے کاثواب بیان کئے گئے کاموں کے علاوہ ہے ۔(ابن ماجہ شریف)
حضرت عمروبن عبسہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا۔بندہ جب وضوکرتاہے اوراپنے ہاتھ دھوتاہے تواس کے ہاتھوںسے گناہ نکل جاتے ہیں جب منہ دھوتاہے تومنہ کے گناہ نکل جاتے ہیں ۔جب بازودھوتاہے اورسرکامسح کرتاہے توبازواورسرکے گناہ اس کی بانہوں سے نکل جاتے ہیں اورجب پائوں دھوتاہے تودونوں پائوں کے تمام گناہ جھڑجاتے ہیں ۔(ابن ماجہ شریف)
اللہ پاک نے وضومیں دوہرااثررکھاہے ایک ظاہری جومحسوس ہوتاہے آنکھ سے دیکھاجاتاہے دوسراباطنی جوپوشیدہ ہے ۔وضوکاظاہری اثریہ ہے کہ بدن کے میل اورگھن والی چیزیں اس کے ذریعے دھل جاتی ہیںاورجسم کااتناحصہ صاف ستھراہوجاتاہے۔وضوکاباطنی اثریہ ہے کہ اس کے پانی سے ہاتھ ،منہ ناک،چہرہ،کان، سر،آنکھوںاورناخنوں کے گناہ بھی دھل جاتے ہیں ۔وضوکاپانی جہاں بدن کی میل گردوغبارکوزائل کرتاہے وہیں وہ گناہوں کی نجاست اورگندگی بھی دورکرتاہے۔قرآن مجیداوراحادیث مبارکہ میں جہاں جہاں یہ لکھاہے کہ نیک کام سے گناہ مٹ جاتے ہیں وہاں گناہ سے مرادگناہ صغیرہ ہیں کیونکہ کبیرہ گناہ اس وقت معاف ہوتاہے جب بندہ بارگاہ الٰہی میں اخلاص کے ساتھ توبہ کرلے ۔
حضرت حمران جوحضرت عثمان ؓ کے آزادکردہ غلام تھے انہوں نے کہاکہ میں نے حضرت عثمان غنی ؓ کوایک جگہ پربیٹھے ہوئے دیکھاآپؓ نے وضوکے لئے پانی منگوایااوروضوکیاپھرفرمایامیں نے رسول اللہﷺکواسی جگہ اسی طرح وضوکرتے دیکھااورآپﷺنے فرمایاجومیرے اس وضوکی طرح وضوکرے گااس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے پھرفرمایاتم اس خوشخبری سے مغرورنہ ہوجانا۔(ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایاجب تم میں کوئی اچھی طرح وضوکرتاہے اورصرف نمازکے (یاکسی دینی مقصدمثلاََتلاوت قرآن وغیرہ)ارادے سے مسجدجاتاہے تووہ جوبھی قدم رکھتاہے اللہ اس کی برکت سے اس کاایک درجہ بلندفرماتاہے اوراس ایک گناہ مٹاتاہے حتیٰ کہ وہ مسجدمیں داخل ہوتاہے۔جوشخص وضوپروضوکرتاہے یعنی پہلے وضوہوتاہے پھرتازہ وضوکرلیتاہے اس کودس نیکیاں ملتی ہیں ۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایاجوشخص وضوپروضوکرے اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔
مسندامام احمدمیںحضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ مسواک کاالتزام رکھوکہ وہ سبب ہے منہ کی صفائی اوررب تعالیٰ کی رضاکایعنی ہمیشہ مسواک کیاکرواس سے منہ بھی صاف رہے گااوراللہ تعالیٰ بھی راضی ہوجائیں گے ،منہ کی ہربیماری کی دوامسواک ہے ۔
حضرت ابونعیم جابرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایادورکعتیں جومسواک کرکے پڑھی جائیںافضل ہیں بے مسواک کی ستررکعتوں سے ایک اورروایت میں ہے کہ جونمازمسواک کرکے پڑھی جائے وہ اس نمازسے کہ بے مسواک کئے پڑھی گئی سترحصے افضل ہے ۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے نبی کریمﷺنے ارشادفرمایاجوایک ایک باروضوکرے تویہ ضروری بات ہے اورجودوباروضوکرے اس کودوگناثواب اورجوتین تین باردھوئے تویہ میرااوراگلے نبیوں کاوضوہے(مسندامام احمدبن حنبل)
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایاجومسلمان وضوکرے اوراچھاوضوکرے پھرکھڑاہواورباطن وظاہرسے متوجہ ہوکردورکعت نمازپڑھے اس کے لئے جنت واجب ہوتی ہے۔
قرآن مجیدفرقان حمیدکی آیت کریمہ جواوپرلکھی گئی ہے اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ وضومیں چارفرض ہیں ۔1۔منہ کا دھونا2۔دونوںکہنیوں کاہاتھوں سمیت دھونا3۔سرکامسح کرنا4۔دونوں پائوں کاٹخنوں سمیت دھونا۔
کسی عضوکے دھونے کے یہ معنی ہیں کہ اس عضوکے ہرحصے پرکم سے کم دوبوندپانی بہہ جائے تیل کی طرح پانی چپڑلینے یاایک آدھ بوندبہہ جانے کودھونانہیں کہیںگے نہ اس سے وضواورنہ غسل اداہوگا۔اس بات کالحاظ بہت ضروری ہے ہم اس کی طرف توجہ نہیں کرتے جس سے ہماری نمازیں اکارت ہوجاتی ہیں ۔بعض جگہیں ایسی ہیں کہ جب تک ان کاخاص خیال نہ رکھاجائے ان پرپانی نہیں بہتااس لئے عضودھوتے وقت خاص خیال رکھناچاہیے ۔جولوگ جلدی جلدی وضوکرتے ہیں اعضاء کے دھونے کااہتمام نہیں کرتے ان کاوضوکامل نہیں ہوتاکیونکہ وضونمازکی کنجی ہے وضواگردرست اندازسے نہ کیاجائے تونمازقبولیت کاشرف نہیں پاتی ۔ اسلامی اورسائنسی حوالوں سے ثابت ہے کہ وضوکرناروحانی اوردونیاوی دو نوں لحاظ سے گراں قدرفائدے دیتاہے ۔
وضوکی سنتیں
وضوپرثواب پانے کے لئے حکم الٰہی بجالانے کی نیت سے وضوکرناضروری ہے ورنہ وضوہوجائے گاثواب نہ پائے گا۔۱۔وضوکی نیت کرنا۔۲،بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم سے شروع کرنا۔(آقاﷺنے فرمایا جس نے بسم اللّٰہ نہ پڑھی اس کاوضونہیں یعنی وضوئے کامل نہیں ۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایاجس نے بسم اللّٰہ کہہ کروضوکیاسرسے پائوں تک اس کاسارابدن پاک ہوگیاجس نے بغیربسم اللہ وضوکیااس کااتناہی بدن پاک ہوگاجتنے پرپانی گزرا)۔۳،دونوںہاتھوںکاگٹوں سمیت دھونا۔۴،ہاتھوںاورپائوں کی انگلیوں میں خلال کرنا۔۵،مسواک کرنا۔۶،کلی کرنا۔۷،ناک میں پانی ڈالنا۔۸،ہرعضوکوتین باردھونا۔۹،ترتیب یعنی اوّل منہ دھوناپھرکہنیوں تک ہاتھ دھوناپھرسر کامسح کرناپھرٹخنوں تک پیردھونا ۔۱۰،پے درپے اعضاء کادھونایعنی ایک عضوخشک نہ ہونے پائے کہ دوسرادھولیاجائے۔۱۱،داڑھی میں خلال کرنا۔ ۱۲،سارے سرکامسح کرنا۔۱۳،کانوں کامسح کرنا۔۱۴،اعضاء دھوتے وقت پہلے دایاں عضوکادھونا پھربایاں۔
مستحبات وضو
۱۔قبلہ رخ بیٹھنا۲۔مٹی کے برتن سے وضوکرنا۳۔اونچی جگہ بیٹھ کروضوکرناتاکہ جسم اورکپڑوں پرچھینٹے نہ پڑیں۴۔بائیں ہاتھ سے ناک جھاڑنا ۵۔ہرعضوپرپہلے ترہاتھ ملنا۶۔وقت سے پہلے غیرمعذورکووضوکرنا۷۔انگوٹھی کوپھیرناجب کہ ڈھیلی ہوورنہ پھرفرض ہے ۸۔ہرعضودھوئے وقت بسم اللّٰہ کہنا۹۔وضومیں درودشریف پڑھنا۱۰۔گردن کامسح کرنا۱۱۔وضوکابچاہواپانی کھڑے ہوکرپینا۱۲۔اعضاء مامورہ کوحدودمعینہ سے زیادہ دھونا ۱۳۔بائیں ہاتھ سے دونوں پائوں کادھونا۱۴۔غیرسے مددنہ چاہنامگرمعذورکودرست ہے ۱۵۔وضوکے بعدسورۃ القدر،کلمہ شہادت یاوضوکی دعاپڑھنا۔
حضرت امیرالمومنین سیدناعمرفاروق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاتم میں سے جوکوئی وضوکرے اورکامل وضوکرے پھرکلمہ شہادت پڑھے (اشھدانْ لَّاالہ الا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ واشھداَنَّ محمدََاعبدہ‘ورسولہ‘)اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔(مسلم شریف)
حدیث پاک میں واردہے کہ جوشخص ایک دفعہ وضوکے بعدسورۃ القدر(اناانزلنا)پڑھے گاوہ صدیقین میں ہوگااورجودودفعہ پڑھے گااس کانام شہداء کے دفترمیں لکھاجائے گاجوتین دفعہ پڑھے گااللہ تعالیٰ اس کوگروہ انبیاء کے ساتھ اٹھائے گا۔(مراقی الفلاح)٭٭٭٭٭٭

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

حافظ کریم اللہ چشتی پائ خیل
مصنف، کالم نگار، اسلامی سیاست کا طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply