مہنگا ترین پاور پراجیکٹ نندی پور چینی کمپنی کے حوالے

مہنگا ترین پاور پراجیکٹ نندی پور چینی کمپنی کے حوالے
طاہر یاسین طاہر
ملک کئی ایک مسائل کا بیک وقت شکار ہے۔ان مسائل میں بےروزگاری،لاقانونیت،قتل و غارت گری،دہشت گردی،معاشی ابتری اور توانائی بحران قابل ذکر ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے عہد حکومت میں بجلی بحران نے سر اٹھایا اور پھر یہ بحران اپنے خوفناک سر کے ساتھ پورے قد کے ساتھ کھڑا بھی ہو گیا۔پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس حوالے سے جز وقتی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا جسے رینٹل پاور پراجیکٹ کہا جاتا ہے۔مگر شدید تنقید اور کرپشن کے حوالے سے چہ میگوئیاں ہونے کے بعد اس پراجیکٹ کی زندگی تو پوری ہوئی۔ملک میں توانائی بحران کی کئی ایک وجوہات ہیں اور یہ کوئی ایک دو دن کا معاملہ نہیں بلکہ گذشتہ دو دھائیوں سے زائد عرصہ کے دوران میں بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے حوالے سے کوئی قابل ذکر کام نہ ہوسکا تھا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں جب بجلی کی لوڈ شیڈنگ اٹھارہ سے بیس گھنٹے تک ہو نے لگی تو وفاقی حکومت پہ ہر طرف سے تنقید شروع ہو گئی۔حتی کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ لوڈشیڈنگ کے باعث وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی جلوسوں کی خود قیادت کیا کرتے اور لاہور میں مینار پاکستان کے تلے انھوں نے احتجاجاً اپنا دفتر بھی سجا لیا تھا۔میاں نواز شریف صاحب نے اپنی صوبائی و وفاقی پارلیمانی اراکین کو ہدایت کی تھی کہ وہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والی احتجاج میں شرکت لازمی بنائیں اور قیادت کریں۔
یہ امر واقعی ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بجلی کے کئی منصوبوں پر کام شروع کر دیا تھا جنھیں بہر حال مکمل ہونے میں وقت درکار تھا۔میڈیا ٹرائل،دہشت گردی کے پے در پے واقعات،کرپشن کہانیاں اور بالخصوص لوڈشیڈنگ نے عوامی غصے کو مہمیز کیا ہوا تھا جس کا نتیجہ پیپلز پارٹی کی ہار کی شکل میں سامنے آیا۔نون لیگ کا اپنا الیکش دو باتوں پہ لڑا۔ ایک دہشت گردوں سے مذاکرات کر کے دہشت گردی ختم کرنا،اور دوسرا چھ ماہ کے اندر لوڈشیڈنگ کو ختم کرنا۔یہ امر واقعی ہے کہ نون لیگ نے اقتدار میں آتے ہی لوڈشیڈنگ میں کمی لائی یعنی ہر گھنٹہ کے بعد ایک گھنٹہ بجلی چلی جاتی تھی۔ مگر یہ کمی پیداواری صلاحیت میں بہتری لا کر نہیں کی گئی تھی بلکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو اربوں روپے یکمشت ادا کر کے انھیں قائل کیا گیا تھا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی لائیں۔ یعنی جب پھر سے کمپنیوں کے واجبات بڑھ جاتے تو لوڈشیڈنگ بھی بڑھ جاتی۔اگرچہ نون لیگ کے عہد میں ہونے والی لوڈشیڈنگ پیپلز پارٹی کے عہد میں ہونے والی لوڈشیڈنگ سے دو چار گھنٹے کم ہی رہی مگر ہوتی رہی۔نون لیگ کا ایک بڑا اعتراض یہ رہا کہ نندی پور پاور پراجیکٹ کی مشینری کراچی پورٹ پہ پڑی رہی ارو پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے انتظامی وجوھات کی بنا پر اٹھاننے نہیں دی، ان کا کہنا ہے کہ جب وفاق مین نون لیگ کی حکومت آئی تو انھوں نے فوی طور وہ مشینری کراچی سے اٹھا کر نندی پور لائی اور پراجیکٹ کو آپریشنل کر دیا۔
یاد رہے کہ نندی پور پاور پلانٹ جس کا افتتاح وزیراعظم نواز شریف نے 31 مئی2014 کو کیا یہ پراجیکٹ صرف پانچ روز آپریشنل رہنے کے بعد تیکنیکی مسائل کی بناءپر بند ہوگیا تھا، اس منصوبے کی لاگت حقیقی تخمینے 27 ارب سے کئی گنا بڑھ کر 84 ارب روپوں تک جاپہنچی ہے۔سرکاری دستاویزاتکے مطابق انجنئیرنگ، تعمیراتی اور خریداری (ای پی سی) لاگت اور متعلقہ خرچے 502.318 ملین ڈالرز، ٹیکسز و ڈیوٹیز 21.773 ملین ڈالرز، ایمرجنسی اسپیئر پارٹس پندرہ ملین ڈالرز، او اینڈ ایم موبلائزیشن پانچ ملین ڈالرز، نان ای پی سی کنسٹرکشن 56.750 ملین ڈالرز، مالیاتی فیس و چارجز 16.838 ملین ڈالرز، تعمیر کے دوران انٹرسٹ(آئی ڈی سی) 229.491 ملین ڈالرز رہا۔مجموعی طور پر 847.016 ملین ڈالرز اس منصوبے پر خرچ کیے گئے۔یہ مہنگا ترین پراجیکٹ حکومت نے دو ہزار چودہ کو ملائیشیا کی ایک نجی کمپنی کو دینے اک فیصلہ کیا تھا ۔ایم ڈی نندی پور پراجیکٹ محمود احمد نے اس وقت میڈیا کو بتایا تھا کہ ملائیشیا کی ایک نجی کمپنی این ٹی بی کو یہ پراجیکٹ 10سال کے لیے دیا جا رہا ہے اور اس عرصہ مٰن کمپنی کے ذمے بجلی کی پیداوار سمیت پلانٹ کی دیکھ بھال بھی ہو گا،ان کا کہنا تھا کہ ملائیشین کمپنی اس پراجیکٹ کو بہتر طور پر چلا سکے گی،جبکہ حکومت پاکستان ملائیشین کمپنی کو6کروڑ روپے ماہانہ بطور سروس چارجز ادا کیا کرے گی۔
اب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس نے متنازع نندری پور توانائی منصوبے کو آپریشنل کرنے اور اس کی مینٹنینس کیلئے چینی کمپنی سے 10 سال کا معاہدہ کرلیا ہے۔پانی اور توانائی کی وزارت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق 425 میگاواٹ توانائی کے پلانٹ کا آپریشنل اور مینٹینس کا یہ طویل معاہدہ چین کی کمپنی نادرن پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (این پی جی سی ایل) اور ہائیڈرو الیکٹرک پاور سسٹم انرجنگ کمپنی (ایچ سی پی ایس ای سی) سے کیا گیا ہے۔معاہدے کی مدت 10 سال اور اس میں بعد ازاں دو اہم انسپکشنز بھی شامل ہیں تاہم معاہدے کی مالیت کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا یہان اہم سوال یہ ہے کہ مہنگا ترین پاور پراجیکٹ غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی منطق کیا ہے؟ کیا پاکستان میں یا کسی پاکستانی کمپنی میں ایسی صلاحیت نہیں کہ وہ ملکی خدمات کر سکے؟ کہاں ہے نون لیگ کی وہ ٹیم جس کے بارے کہا جاتا تھا کہ ہمارے پاس تجربہ کار انتظامی اور ماہرین کی ٹیم ہے جو توانائی اور معاشی بحران کو فوری حل کر دے گی؟کیا حکومت نے جانے سے پہلے سارا ملک ہی ٹھیکے پہ دینے کا تہیہ کر لیا ہے؟ یاد رہے کہ ملک کی اہم ترین موٹر ویز پہلے ہی گروی ہیں۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *