امریکہ نے طالبان کو سمجھانے کی ذمہ داری کس پہ ڈال دی؟

امریکہ نے طالبان کو سمجھانے کی ذمہ داری کس پہڈال دی؟
طاہر یاسین طاہر
سفارتی زبان و بیان کے اپنے آداب و رموز ہوتے ہیں،اور بین الاقوامی تعلقات کی گتھیاں اسی زبان و بیان کے دھاگے سے کھلتی جڑتی ہیں۔یہ امر تاریخی طور پہ ثابت شدہ ہے کہ افغانستان پر روسی چڑھائی کے ما بعد امریکہ اور پاکستان نے مل کر " مجاہدین" کی ایک کھیپ تیار کی جو آگے چل کر افغان طالبان کی صورت دنیا پر ظاہر بھی ہوئی اور دنیا کا امن تباہ کرنے میں القاعدہ کے ساتھ مل کر اپنا منفی کردار بھی ادا کیا۔ نوے کی دھائی میں روس کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد نام نہاد مجاہدین ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہو گئے ،واقعات کی جزئیات ادارتی دامن میں سمیٹنے کی گنجائش نہیں۔ملا عمر نامی ایک کمانڈر نے اپنے "" مجاہدین" کے ساتھ کابل کا کنٹرول حاصل کیا اور افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہو گئی۔اس حکومت کا سماجی ضابطہ نہایت سخت اور تکلیف دہ تھا،القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن بھی ملا عمر کی حکومت کا سرکاری مہمان بنا ہوا تھا۔یہ وہ دور تھا جب امریکہ نے اپنے بنائے ہوئے “جہادیوں “کے سر سے دست شفقت اٹھا لیا تھا۔اسامہ بن لادن امریکہ کو مطلوب تھا۔
اسی دوران میں امریکہ کے اندر نائن الیون کا دہشت گردی کا واقعہ ہو گیا ۔ دہشت گردی کے اس واقعے پر مسلم ممالک میں بالعموم اور افغانستان میں بالخصوص ہجوم ،بھنگڑا ڈالتے دکھائے گئے۔بے شک امریکہ و مغربی ممالک کو اس بات کا غصہ تھا۔ امریکہ بدلے کی آگ میں پاگل ہو چکا تھا،القاعدہ نے نائن الیون کی ذمہ داری قبول کی۔ القاعدہ کا رہنما ملا عمر کا مہمان تھا۔ امریکہ نے دوٹوک کہا کہ یا اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کیا جائے یا پھر ملا عمر حکومت نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائے۔ملا عمر کی حکومت نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔عالمی سطح پہ دہشت گردی کے خلاف جاری ہونے والی اس جنگ میں پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بنا ۔ پاکستان کے اس فیصلے کے خلاف پاکستان کے اندر ہی مذہبی سیاسی جماعتوں نے مشرف حکومت کے خلاف احتجاج کیے ۔ ان جماعتوں کا نقطہ نظر ،یہ تھا کہ پاکستان کو افغانستان کا ساتھ دینا چاہیے۔پندرہ سالوں سے جاری اس جنگ میں افغانستان کا جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہو رہا ہے۔مگر پاکستان بھی اس جنگ کے شعلوں اور نقصانات سے محفوظ نہ رہ سکا۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری ا س جنگ میں پاکستان کا نقصان امریکہ اور نیٹو کے نقصان سے زیادہ ہوا ہے۔افغان طالبان کی کوکھ سے انتہا پسندی کی کئی نرسریاں نکلیں ہیں جنھوں نے علاقائی امن کے ساتھ ساتھ دنیا کے امن کو بھی تباہ کیا۔عالمی سامراج کے بھی اپنے مقاصد اور اہداف ہیں۔ امریکہ کا مقصد نہ تو ملا عمر کے طالبان کو کلی طور ختم کرنا تھا اور نہ ہی اس کا مقصد خطے اور دنیا میں مکمل امن کا قیام تھا۔اپنے اسی منصوبے کے تحت وہ اپنے اتحادیوں سمیت دھائیوں سے خطے میں موجود ہے۔
اشرف غنی کی حکومت کے لیے طالبان نے خود کش حملوں کے ذریعے مسائل پیدا کیے ہیں۔اشرف غنی کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ افغان طالبان کو پاکستان کی سپورٹ حاصل ہے،جس کے باعث افغان طالبان ملک میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہیں۔اشرف غنی کی "" ذہن سازی " میں نریندر مودی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔یوں عالمی طاقتیں افغانستان کے ذریعے خطے میں اپنے اپنے مفادات کے لیے کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ افغان طالبان کا کنٹرول اسلام آباد کے ہاتھ میں ہے۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی حکومت یہ تاثر زائل کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ کیونکہ ایک کل وقتی وزیر خارجہ کے بجائے جب ملکی معاملات ایک سن رسیدہ مشیر خارجہ کے ذریعے چلائے جائیں گے تو عالمی سطح پہ اس طرح کی باتیں تو سننا ہی پڑیں گی۔ یاد رہے کہ”امریکا نے افغانستان کے پڑوسی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کو واضح پیغام دیں کہ افغان تنازع کا مذاکرات کے علاوہ اور کوئی متبادل حل نہیں۔ یاد رہے کہ بھارتی شہر امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے اختتام کے بعد جاری کیے گئے بیان میں اگرچہ امریکا نے کسی بھی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم اس سے پہلے امریکی عہدیداروں نے براہ راست پاکستان کو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کا کہا تھا۔پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے لورل ملر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں اور طالبان پر مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جانا چاہیے”۔ اس امر میں کلام نہیں کہ مذاکرات ہی بہترین حل ہے ،مگر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کی ساری ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی جائے اور عالمی فیصلہ ساز قوتیں خود کو اس قضیہ سے دور کر لیں؟افغان طالبان کو بھی چاہیے کہ وہ خطے،افغانوں اور انسانوں کا مزید امتحان نہ لیں۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *