مولانا فضل الرحمن کے نام کھلا خط،جواب حاضر ہے

مولانا فضل الرحمن کے نام کھلا خط،جواب حاضر ہے
عادل لطیف
عربی کا مقولہ ہے انف في الماء واست في السماء چلیں چھوڑیں یہ زیادہ ہوگیا کہیں تہذیب کا جنازہ نہ نکل جائے. کہاں گنگوہ تیلی کہاں راجہ بھوج یہ ٹھیک رہے گا یہ مجھے اس لیے یاد آیا کہ ابھی کچھ دن پہلے عابد محمود عزام صاحب نے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے نام کھلا خط لکھا ہے۔ اگر عابد محمود جمعیت کے نوجوانوں کی عدم برداشت پر اتنے ہی متفکر ہیں تو ممتاز قادری شہید کی شہادت پر میڈیا کی دوغلی روش پر ایکسپریس کی انتظامیہ کو بھی کھلا خط لکھتے نا ،وہاں موصوف کے سیال قلم کو زنگ کیوں لگ گیا تھا ایک طرف حرمت رسول تھی اور دوسری طرف ایکسپریس کی معمولی نوکری لیکن موصوف نے جسکو اختیار کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ اس وقت اس عابد کا معبود کیوں بدلا تھا اگر اس وقت حرمت رسول کی خاطر ایکسپیریس انتظامیہ کو کھلا خط لکھ کر انتظامیہ کے دوغلے رویہ پر احتجاج کرتا تو یہ نام کا محمود رہتی دنیا تک محمود ہو جاتا ۔
لیکن ایسے کام کے لیے تو عزم صمیم کی ضروورت ہوتی ہے اور عزام اور عزم صمیم میں بعدالمشرقین ہے سستی شہرت چند لائکس اور بہت عمدہ بہت خوب جیسے کمنٹس کے چکر میں سہ پہر سے ہی موصوف نے ڈھول پیٹنا شروع کر دیا کہ قائد جمعیت کے نام کھلا خط لکھا ہے جو رات کو میری وال پر پڑھنے کو ملے گا۔ موصوف نے اپنی وال پر یہ سرکس لگایا یا نہیں مجھے نہیں پتہ لیکن آج صبح ایک معاصر ویب سائٹ پر موصوف کے قلم کے جولانیاں دیکھنے کو ملیں پوری کی پوری تحریر کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا کی حقیقی تصویر تھی اس بھان متی کے کنبہ میں موصوف کالم نگار نے عاریت پر لیے ہوئے مذمت کے الفاظ جمعیت کے کارکنوں پر چسپاں کر کے قائد جمعیت کو اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قائد اپنے کارکنوں کی تربیت کریں۔ اس تحریر کا سر پیر کچھ بھی نہیں ہے ۔عابد صاحب کے پاس کیا ثبوت ہے کہ بطل حریت مفتی عدنان کاکا خیل صاحب کے بیان پر جارحانہ ردعمل دینے والے جمعیت کے کارکن ہیں۔ عین ممکن ہے مخالفین جمعیت،جمعیت کو بدنام کرنے کے لیے یہ سب کر رہے ہوں اور یہ بات تو پورا ملک جانتا ہے کہ قائد جمعیت کے حضرت مفتی صاحب سے ذاتی مراسم ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ موصوف نے کارکنوں کے کندھے پر بندوق رکھ کر قائد کی ذات کو نشانہ بنایا ہے۔مولوی مدرسہ میں بنتا ہے اور اس وقت مدارس کا سب سے بڑا محافظ یہی قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن ہے ۔میں اور آپ مانیں یا نہ مانیں مدارس کی قیادت بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے جن لوگوں سے آپ نے قرآن پڑھا ہے ذرا ان سے قائد کے بارے میں سوال کیجیے گا ساری حقیقت واضح ہو جائے گی
چنانچہ!!! آپ سےگزارش صرف اتنی سی ہے کہ جب سوشل فورمز پہ جلوہ گر ہوں تو دوسروں کے خیالات، احساسات اور مقدسات کا پاس رکھنا سیکھ لیں۔ ورنہ آپ نے مجبور کیا تو جس دن ہم شروع ہوئے اس دن آپکو دُم دبا کر بھاگنے کا رستہ تو کیا درز بھی نہ ملے گی ـ
اس بہتی گنگا میں اشنان کرنے والوں میں ایک نام انور غازی صاحب کا بھی ہے غازی صاحب شاید بھول گئے ہیں کہ انکے ایام طفولیت شہداد پور میں گزرے ہیں دارالعلوم حسینیہ میں بہتی ناک کا ذکر تو موصوف خود بھی اپنی تحریر میں کر چکے ہیں لیکن آگے کا انہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا موصوف کی شرارت کا مفصل جواب تو برادر مکرم نوفل ربانی دے ہی چکے ہیں میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ آپ ہمیشہ سے مثبت کام کرتے آئے ہیں مثبت کام کیجیے آپکی حیثیت ایک دانشور کی ہے مفتی صاحب اور جمعیت کے قضیہ میں آپکو غیر جانبدار رہتے ہوئے مسئلہ کا حل پیش کرنا چاہیے تھا مگر آپ بھی فریق بن گئے یہ بات کم سے کم آپکو زیب نہیں دیتی ہے اور اگر آپ جمعیت کی مخالفت کر کے سستی شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو محافظین جمعیت کے قلم ابھی بانجھ نہیں ہوئے ہیں بقول شاد
لتاڑنے کو ہمارے پاس پچھتر نکات ڈھونڈے نہیں بلکہ منتخب کئے جاسکتے ہیں.
جواب میں قلم کے لام سے آپ کی دستار ہی نہیں تہبند کے بھی بل کھول سکتے ہیں
میرے لفظی ذخیرے کے گوداموں کے پچھلے کمروں میں وہ لفظ ابھی موجود ہیں جو اگر میں جھاڑ جھنکار کر معمولی درجے کے زہر میں بجھاکر بھی تم پر پھینکوں تو تمہارے شبستانوں کی پریاں بھی ان کا تیکھا پن کم نہیں کرپائیں گی

عادل لطیف
کہتا ہوں سچ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *