حالیہ بارشیں اور کراچی ۔۔۔ رعنا اختر

ساون کے مہینے کی برسات کراچی والوں کے لیے وبال جان بن کر رہ گئی ہے ۔ کراچی کی حالت کسی نابینا  سے بھی پوشیدہ نہیں ہے ۔ ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں، بے بسی،اور بچاؤ کی صدائیں بلند ہوتی سنائی دیتی ہی ں ۔ ہمارے اس شہر کو کس  کی نظر لگ گئی ؟روشنیوں کا شہر آج تاریکیوں میں ڈوب گیا ہے ۔ ہر طرف ہُو کا عالم ہے ۔ کیا نشیبی کیا فرازی ہر طرف پانی ہی پانی ہے ۔
اگر اس حالت کا تخیل ہم اپنے گھر کی طرف موڑیں تو ہمارا دماغ مفلوج ہو کر رہ جائے ۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مقفود ہو جائے ۔ ہنگامی حالت میں کسے چنیں گے ؟ اپنی جان کو یا مال کو ؟ کہیں کمر تک پانی ہے اور کہیں گردن تک ۔ تمام املاک ڈوب گئی محنتوں اور سالوں کی کمائی ایک منٹ میں لقمہ اجل بن گئی ۔ نہ رسد بچی نہ سر پہ چھت ۔ کچے مکانات پانی کی نظر ہو گئے اور پکے مکانات ڈول رہے ہیں کسی سمندر میں کشتی کی طرح ۔ کیا رہا غریب کا اور امیر کا ،حالیہ بارشوں نے کراچی کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے ۔
 کئی آبادیاں اور بستیاں سیلاب کی نذر ہو گئی  ہیں۔ کچے مکانات کی گنتی ہی نہیں ہو پارہی ہے ۔ سیلاب نے محتلف حادثات کو جنم دیا ہے جس میں کرنٹ لگنا ، نالوں میں بہہ جانا اور مکانات کی دیواروں کا گرنا وغیرہ  جیسے واقعات شامل  ہیں ۔
اگر امدادی کارروائیوں کی بات کی جائے تو فوج اور رضا کار ، رینجرز اور فلاحی اداروں کی تنظیمیں کراچی والوں کی مدد کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔ کہاں گئی سیاست ؟
سیاسی کارندے صرف حکومت چلاؤ اور مٹاؤ کی پالیسیاں بناتے رہ گے اور کراچی کا کوئی پُرسان حال نہ رہا ۔ کون ذمہ دار ہے ؟
عوام یا سیاست دان ؟ جواب کسی کے پاس نہیں ہے ۔ ہم سب نے صرف کراچی کو لوٹا ہی ہے ۔
عوام کی بات کریں تو ہمارے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام  ہے ۔ نجانے کیوں ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کے عادی نہیں رہے ۔ کراچی والوں کو موردِالزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ خدا کا کوئی عذاب ہے ۔ ان سے کوئی پوچھے خدا کا عذاب تم پہ بھی تو برس سکتا ہے ناں
؟ محتلف ویڈیوز وائرل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں جس میں کراچی کی سیلاب میں ڈوبی عوام کا مذاق اڑایا جارہا ہے ۔ محتلف ممیز بنائے گئے ہیں جس میں دکھایا گیا ہے کہ کراچی کا سمندر کراچی کی سیر کرنے آیا ہے ۔ ڈوب مرو آج کراچی کو ہماری ضرورت ہے تو ہم صرف ممیز اور ویڈیو سے نہ صرف انکی دل آزاری کر رہے ہیں بلکہ انسانیت کی توہین کر رہے ہے ۔
کیوں ہم اتنے گر چکے ہیں ؟؟ ایک انسان مصیبت ویاس کے عالم میں ہے اور دوسرا اسے دیکھ کر صرف لطف اٹھا رہا ہے ۔ اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے کی بجائے ان کے نامہ اعمال کی جانچ پڑتال  کی جا رہی ہے ۔ افسوس !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *