دختر (میری بیٹی)

دختر (میری بیٹی)
عارف خٹک

مجھے اپنی وہ ماں جیسی خاتون ابھی تک یاد ہے جس کے سات بچے تھے مگر ہر وقت بیمار رہتی تھی۔ اس کے شوہر نے ایک دن بندوق کے بٹ سے اس کے سر پر اس زور سے مارا کہ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی۔ کچھ دن بعد وہ پاگل ہوگئی اور شوہر نے دوسری شادی کرلی. مجھے اس کے زنجیر میں جگڑے پیر ابھی بھی یاد ہیں اور جانوروں کے باڑے میں اس کا جانوروں کے ساتھ رکھا جانا بھی۔ جب ہم کھیلنے اس کے گھر جاتے تو بچے اسے پتھر مارتے اور وہ جواباً خود کو کاٹنے لگتی. ایک دن میرے ہاتھ میں گھی ملی روٹی دیکھ کر وہ اس برے طریقے سے رو پڑی کہ میں بھول گیا کہ وہ ایک پاگل ہے. میں نے اس سے پوچھا کہ روٹی کھاؤ گی؟ کہنے لگی تم واقعی دوگے؟ میں نے وہ روٹی اسے پکڑا دی. کہنے لگی بیٹا تین دن سے بھوکی ہوں اور اس کے گالوں پر آنسو بہنے لگے۔ مجھے جھٹکا لگا کہ یہ کیسی پاگل ہے جو مجھے بیٹا بھی کہہ رہی ہے اور آنسوں سے رو رہی ہیں. ماں نے بتایا کہ وٹے سٹے کی شادی ہے. اس پاگل کے بھائی نے اس کے شوہر کی بہن کیساتھ ایسا ہی کیا تھا لہذا وہ بدلہ لے رہا ہے اور بدلہ پشتون کی شان ہے. یہ کہہ کر ماں بھی بلک بلک کر رونے لگی.

میں اپنی ایک رشتہ دار خاتون کو کیسے بھول سکتا ہوں جو پیدا تو اللہ کی مرضی سے ہوئی مگر مری ماں باپ کی پسند سے. کراچی میں پلی بڑھی اور جامعہ کراچی سے ماسٹر کرنے کے بعد ماں باپ نے روایت کے مطابق اس کی رشتے کی بات گاؤں میں ایک رشتہ دار سے کی جو گاؤں میں لکڑیاں بیچتا تھا. خاتون بھی اپنے باپ کی عزت کی خاطر راضی ہوگئی اور گاؤں چلی گئی. ایک دن اپنے ہونیوالے شوہر سے پڑھنے واسطے کچھ کتب منگوا بیٹھی تو اس کے منگتیر نے اسے پانچویں جماعت کی کتابیں پکڑا دیں.
اگلی صبح اپنے باپ کا ریووالور کنپٹی پر رکھ کر ماں سے کہا کہ اس نے یہ شادی نہیں کرنی. ماں نے مذاق سمجھ کر اسے جواب دیا اس سے اچھا ہے خود کو گولی ماردو……… اور اس نے حقیقتاً مار کر بھی اور مر کر بھی دیکھا دیا.

میں نیا نیا جوان تھا غالباً 1995 کی بات ہے. میرے رشتہ داروں میں دشمنی تھی. دس بارہ بندے مرنے کے بعد دونوں فریقین کواحساس ہوا کہ باپ دادا کی دشمنی جو ایک بیر کی درخت پر شروع ہوئی تھی اب بند ہونی چاہیئے. صلح صفائی ہوئی، جرگے بلائے گئے، سفید شلوار قمیض واسکٹ اور لمبے شملوں والے باریش معززین نے کلام پاک پر ہاتھ رکھ کر صلح کی۔ اس خوشی میں ہوائی فائرنگ ہوئی اور بیل ذبح کئے گئے؛ اور دو بچیوں کو اس دشمنی کی بھینٹ چڑھایا گیا.

ایک بچی کی عمر سات سال تھی۔ جب اس کو پتہ چلا کہ اس کا رشتہ اس سے تین گنا بڑے عمر کے بندے کو دیدیا گیا ہے تو وہ بچی آگے بڑھ کر اپنے ہونے والے شوہر سے کہنے لگی “ماما جی مجھے ٹافیاں دلاو گے نا؟ دوسری جو سترہ سال کی تھی اس نے بغاوت کی اور پورا گاؤں کہنے لگا کہ اس لڑکی کا کسی سے چکر چل رہا ہوگا ورنہ کون جرگے کے خلاف جا سکتا ہے۔ پھر اچانک سانپ کے کاٹے سے وہ مر گئی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اسکی سگی ماں نے اسے اپنے ہاتھوں سے زہر دے دیا کہ اس نے ہماری ناک کاٹ دی ہے.
اس دن اپنی ماں کے گود میں سر رکھ کر میں بہت رویا تھا اور میری رشتہ دار خواتین مجھے زنخا کہہ کر ہنس پڑتیں. شاید تب ہی سے گاؤں کو طلاق دے کر اج تک خود سے فرار حاصل کررہا ہوں.

امریکہ میں مقیم ایک انویسٹیگٹیو جرنلسٹ دوست نے مجھے وٹس ایپ پر ایک لنک بھیجا۔ لنک اوپن کرکے دیکھا تو پتہ چلا کہ کسی پاکستانی فلم “دختر” کا ٹریلر تھا. وقت گزاری کیلئے لنک اوپن کیا تو جیسے کسی نے مجھے جکڑ لیا. مجھے اپنے چہرے پر جیسے تھپڑ لگتے محسوس ہوے۔ مجھے ایسا لگا جیسے میرے کچھ مضامین میرے “خٹک نامہ” کے مسودے سے چرائے گئے ہیں۔ مگر جب فلم کی ریلیز کی تاریخ دیکھی تو ایسا لگا جیسے میں نے اس فلم کا سکرپٹ چرایا ہوا ہے. عافیہ نھتیانی، جو اس فلم کی ڈائریکٹر اور مصنفہ ہے، نے ہماری قبائلی پشتون روایات کو وہ تھپڑ مارے ہیں کہ اس فلم کو یا تو پشتون روایت پسندوں نے دیکھا نہیں ہے یا اگر دیکھا ہے تو میری طرح شرمندگی سے منہ چھپا کر خود سے پردہ کئے بیٹھے ہیں.

فلم دختر ایک دس سالہ بچی اور اسکی ماں کی کہانی کے گرد گھومتی ہے. بچی کا باپ نسلوں پرانی دشمنی سے اکتایا ہوا اپنی دس سالہ بیٹی کا نکاح ایک ساٹھ سالہ قبائلی سردار کے ساتھ کرانے پر راضی ہوجاتا ہے. بچی کی ماں اس کے خلاف بغاوت کرتی ہے اور بیٹی سمیت گھر سے فرار ہوجاتی ہے. ایک پنجابی ٹرک ڈرائیور ان ماں بیٹی کیلئے ڈھال بن جاتا ہے.

میں عافیہ سے ملنا چاہتا ہوں۔ اس سے کہنا چاہتا ہوں کہ میری بہن تم کیسے اتنی بہادر ہو کہ پشتونوں کے لمبے اور اونچے شملے کے پیچھے چھپی فرسودہ روایات پر ایک عورت ہوکر وار کیا اور میں مرد ہو کر بھی اج تک خود سے چھپتا پھر رہا ہوں.

لوگ کہتے ہیں وقت بدلا ہے۔ مگر وقت شاید اب بھی نہیں بدلا۔ آج بھی مردان اور سوات کی نوخیز بچیاں خریدی جارہی ہیں اور دبئی کے مہنگے کلبوں میں میرے “پشتون ولی” کے دستاروں کے تاروں کو تار تار کررہی ہیں. …………..

کیا واقعی میرے اندر غیرت آ گئی ہے یا مجھے ایک جذباتی دورہ پڑ گیا ہے۔ کیوں مجھے اپنی وہ سب بیٹیاں، مائیں اور بہنیں یاد آ رہی ہیں جنکو میں فرسودہ روایات کے نام پر بلی چڑھتے ہوے دیکھتا رھا۔ ارے آپ گھبرائیے نہیں، انشاءاللہ پانچ منٹ میں ٹھیک ہو کر آپ کو پھر سے کوئی شلوار کہانی سناتا ہوں، پھر ہنساتا ہوں. کچھ دیر بس رو لوں، شاید کچھ کو رلا لوں۔ کچھ دیر رلانے کیلئے معافی مانگتا ہوں۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *