آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی پر باجوں کی گونج۔۔مرزا مدثر نواز

14اگست 2022 کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کو پچھتر سال مکمل ہوئے اور پاکستانیوں نے آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی منائی۔ ان پچھتّر برسوں میں اس نظریاتی مملکت نے کئی نشیب و فراز دیکھے جن میں سب سے زیادہ افسوس ناک واقعہ اس کا فقط چوبیس برس بعد دولخت ہونا ہے۔ زندہ قومیں اپنا یوم آزادی پُر جوش طریقے سے مناتی ہیں اور اس دن یہ عزم کیا جاتا ہے کہ اپنے ملک کے لیے وہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ دن صرف چھٹی منانے‘ کیک کاٹنے یا ملّی نغمے گانے کا نہیں ہے بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو یہ باور کرانے اور انہیں اس بات کا احساس دلانے کا دن ہے کہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور یہ مفت میں نہیں ملتی اور اسے ان کے اکابرین نے عظیم جدوجہد و قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے‘ آزادی کی تاریخ قربانیوں کی تاریخ ہے جس میں ہزاروں خونی داستانیں‘ سینکڑوں خوفناک واقعات‘ لاکھوں دردناک کہانیاں اور بے شمار الم انگیز باتیں پوشیدہ ہیں‘ اس آزادی کے لیے نہ جانے کتنے انسانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا‘کئی خاندان ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے بچھڑ گئے‘کئی اختر کرتار سنگھ بنا دیے گئے‘ کتنی عورتوں کو اپنی عصمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا‘ کتنی اغواء ہو کر دوسرے مذاہب میں داخل کر دی گئیں اور نہ جانے کتنی اپنی عزّتوں کو بچانے کے لیے کنوؤں میں کود گئیں۔ زندہ قومیں اپنے مجاہدین آزادی کو کبھی نہیں بھولتیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتی رہتی ہیں اور ہمیشہ اپنا محسن گردانتی ہیں‘ وہ عظیم لوگ جنہوں نے اپنا آج آئندہ آنے والوں کے خوبصورت و پُر امن کل کے لیے قربان کر دیا۔آج بھی تصوّر کی آنکھ سے ہی اگر 14 اگست 1947 کا منظر دیکھیں تو یقین کیجئے کہ روح تھرا جاتی ہے‘ دل کانپ جاتا ہے‘ آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔
؎لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے
اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی (فراق گھورکھپوری)

؎کہاں ہیں آج وہ شمع وطن کے پروانے
بنے ہیں آج حقیقت انہی کے افسانے (سراج لکھنوی)

؎دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی (لال چند فلک)

یوم آزادی اپنے محاسبے اور ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کا دن ہے‘ حب الوطنی کی حدود کے اندر رہتے ہوئے یہ جاننے اور پرکھنے کا دن ہے کہ یہ ملک کیوں اپنے قیام کے مقاصد کو آج تک حاصل نہیں کر سکا‘ وہ کو ن سے عوامل تھے جن کی بدولت یہ ملک اپنے قیام کے محض چوبیس سال بعد دو لخت کر دیا گیا‘ کن وجوہات کی بدولت آزادی کی تحریک میں پیش پیش مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت مسلم لیگ نے ملک کے قیام کے فوراََ بعد تیزی سے اپنی مقبولیت کو کھو دیا‘ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود جمہوریت اپنی معراج کیوں حاصل نہ کر سکی اور آج بھی خطروں میں گھری نظر آتی ہے‘ اپنے قیام کے صرف دس سال بعد یہ ملک کیوں آمریت کی گود میں چلا گیااور اس آمریت نے ملک کو آگے چل کر نفع پہنچایا یا نقصان‘ عقیدہ آخرت پر یقین رکھنے والے اس ملک کے نمائندے ہر دور میں کیوں تا حیات اقتدار سے چمٹے رہنے کی سازشوں کا حصہ بنے‘ محب وطن شہری کیوں غداری کے فتوؤں کی زد میں آتے رہے‘ کیا نظریہ ضرورت نے اس ملک کی غلط سمت متعین کی‘ تقسیم کے وقت متروکہ جائیدادوں پر کن لوگوں نے اور کیوں قبضہ کیا‘ صوبائی خود مختاری کی منزل حاصل کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا‘ سستی انرجی کی بجائے مہنگے معاہدے کر کے کن لوگوں نے اس ملک کو معاشی طور پر مفلوج کیا‘سستی انرجی کے متبادل ذرائع پر کیوں آج تک توجہ نہیں دی گئی‘ اس ملک نے غیر جانبداری کی بجائے مخصوص کیمپ کا انتخاب کیوں کیا اور اس سے کیا فائدے و نقصانات ہوئے‘ آزادانہ خارجہ پالیسی آج بھی ایک خواب کیوں ہے؟ وغیرہ وغیرہ

Advertisements
julia rana solicitors

قوموں کی زندگی میں قومی دن اپنے پس منظر کو اجاگر کرنے‘ ان کی اہمیت کو واضح کرنے اور نئی نسل کو ماضی کے اہم سنگ ہائے میل کی طرف متوجہ کرنے کے لیے نہایت مفید ہوتے ہیں۔ اگر آپ یوم آزادی پر نئی نسل کو اپنے شہداء کی قربانیوں سے روشناس نہیں کرائیں گے‘ تاریخ کے جھرونکوں میں نہیں دھکیلیں گے‘ ماضی سے تعارف نہیں کرائیں گے‘ آزادی کی نعمت کی قدر کرنا نہیں سکھائیں گے‘ ترقی یافتہ اقوام کی صفوں میں جلد از جلد شامل ہونے کی ترغیب نہیں دلائیں گے بلکہ ہر یوم آزادی پر فقط ایک نیا ملی نغمہ جاری کریں گے تو پھر آپ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کبھی بغیر سائلنسر موٹر سائیکلوں اور کبھی باجوں کے شور کا شکوہ کریں اور عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں کہ یوم آزادی پر باجے بجانے پر پابندی عائد کی جائے۔

Facebook Comments

مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply