امریکی فیصلے کے خلاف دنیا بھر میں شدید ردعمل

دنیا کے مختلف ممالک اور عالمی اداروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے خطے اور عالمی سطح پر سنگین مضمرات ہوں گے۔

رومن کیتھو لک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس 

رومن کیتھو لک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے ایک بیان میں امریکی اقدام کو خطرناک قرار دیتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کی جوں کی توں صورت حال برقرار رکھنے پر زوردیا ہے۔انکا کہنا تھاکہ تمام لوگوں سے یہ اپیل کروں گا کہ وہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق شہر کی موجودہ حیثیت کا احترام کریں۔

ایران

امریکی فیصلے پر ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے ایرانی حکومت کا کہنا تھاکہ امریکی فیصلے سے ایک نئی انتفادہ تحریک پیدا ہوگئی جو صیہونی حکومت کو بہا لے جائے گی ایران کا کہنا ہے کہ امریکا پورے مشرق وسطی میں بدامنی برقرار رکھنے کےلئے مسئلہ فلسطین کو مزید الجھانا چاہتا ہے۔

ترکی

ترکی کے نائب وزیراعظم بکیر بزداق نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا تاریخ او ر خطے میں سچائیوں کو تسلیم نہ کرنا ہے۔یہ ایک بہت بڑی ناانصافی ، سفاکیت ، تنگ نظری ، حماقت اور پاگل پن ہے۔یہ خطے اور دنیا کو آگ میں دھکیلنا ہے اور اس کا کوئی انجام بھی نظر نہیں آتا۔

برطانیہ

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو صدر ٹرمپ کے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر تشویش لاحق ہے۔انکا کہنا تھاکہ اسرائیلیوں اور فلسطینورں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے کسی حتمی معاہدے میں یروشیلم کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

جرمنی

جرمنی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اپنی اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں متشدد جھڑپیں شروع ہوسکتی ہیں،،وزارت خارجہ نے برلن میں اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں جرمن شہریوں کے لیے نیا سفری انتباہ بھی جاری کیا ہے،،جرمنی نے بھی امریکی اقدام کی کھلے انداز میں مخالفت کی ہے۔

چین

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا ہےکہ ہمیں کشیدگی میں ممکنہ اضافے پر تشویش لاحق ہے۔تمام متعلقہ فریقوں کو علاقائی امن اوراستحکام کو ملحوظ رکھنا چاہیے اور تنازع فلسطین کے حل کے لیے ملکر کام کرنا ہوگا۔

سعودی عرب

سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے بھی اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ناقابل قبول قرار دیا ہے اور اسکو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے امریکا کے فیصلے کے بعد میکسیکو، فرانس، سویڈن، ڈنمارک اور کئی دیگر ممالک نے اپنے سفارتخانے منتقل نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکا کے اس اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

بیت المقدس کے معاملے پر اسرائیل فلسطین تنازعے کی تاریخ

مقبوضہ بیت المقدس جسے یروشلم بھی کہا جاتا ہے دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔

1948 میں جب برطانیہ نے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلی ریاست قائم کی تو یروشلم اس کا حصہ نہیں تھا۔ اقوام متحدہ نے علاقے کو فلسطین اور اسرائیل میں تقسیم کرنے کے لیے جو نقشہ بنایا اس میں بھی یروشلم کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی سفارش کی تھی۔

مگر فلسطینیوں نے یہ پلان تسلیم نہیں کیا اور اپنے پورے علاقے کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ 1948 کی جنگ میں اسرائیل نے مغربی یروشلم پر قبضہ کر لیا جب کہ مشرقی یروشلم اردن کے کنٹرول میں رہا۔

1967کی جنگ میں اسرائیل نے عربوں کی متحدہ فوج کو شکست دے کر اردن سے مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ مشرقی یروشلم کا علاقہ بھی چھین لیا۔

اسرائیل نے مشرقی یروشلم کو اپنا علاقہ قرار دیا تو 1967ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر اس کی مخالفت کی۔

1993 کے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطین اور اسرائیل نے ایک دوسرے کا وجود تسلیم کیا،غزہ اور مغربی کنارے پر فلسطینی اتھارٹی کی حکومت قائم کی گئی۔

اس معاہدے میں یروشلم کا معاملہ بعد میں طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن نیتن یاہو کی سخت گیر حکومت قائم ہونے کے بعد سے رہے سہے مذاکرات بھی ختم ہو گئے اور اب اسرائیل مشرقی یروشلم کے علاقوں میں بھی یہودی بستیاں قائم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *