سنگ بار ۔۔فیصل عظیم

 ہر طرف نقشِ قدم محوِ سفر

تھک گئی حدِّ نظر،

انتہا  سے  انتہا  تک سر ہی سر

کلمۂ مانوس کی تکرار، آوازِ جرس

وہ قیامت ہے، کہ بس! ایک سنگِ میل کی جانب رواں

ایک بحرِ بیکراں۔۔

بیکس و بے سائباں،

کارواں در کارواں، ہر ذی نفس

پا پیادہ، پا شکستہ

وقت کی دھڑکن سے ہم آہنگ قدموں کی دھمک!

جس میں گھُٹ کر

رہ گئی میری صدائے بے اثر

بڑھ رہا ہوں میں بھی، لیکن

بڑھتے بڑھتے گھَٹ رہا ہوں ہر قدم،

اور چھوٹا،

اور بھی موہوم ہوتا جا رہا ہے میرا قد

دیکھنے کو اپنی حد

چشمِ گریہ کے پرندے، پر فگار

آشیانے کے کنارے،

پر فشاں ہونے سے پہلے

سر اُٹھا کر اور اونچا دیکھتے ہیں

اور اونچی، اور بھی اونچی

نظر آتی ہے چھت

ڈھونڈتے ہیں

مدتوں سے کھڑکھڑاتے

بند مُٹھی میں بھنچے خاموش منزل کے نشان

باطنِ ہر کی خراشیں

اپنے ماتھے پر سجائے،

بے زبان۔۔۔

ہانپتی صدیوں کے شاہد

ان گنت چہرے اُٹھائے

کوئی سنگِ دل چھپائے،

مضمحل، پامال مہرے،

بے بساط

بے نظر، بے ڈھال، بے چہرہ پیادے،

پھر سے میدانِ جدل میں

اپنے سر کوہِ گراں سے

پھوڑنے کے منتظر ۔۔۔!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *