کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط38

جامعات کی سطح پر میری زندگی کا ایک رُخ
تدریس و آموزش۔۔ ایک سکے کے دو رُخ!

اپنی کلاسز میں، انیس بیس سالہ لڑکوں اور لڑکیوں کو پڑھاتے ہوئے اگر ملٹن کے حوالے سے (اس کی در پردہ شیطان دوستی) فرد کی آزادی بالمقابلہ جماعت کا یا حاکم کا ارتباع جیسا مضمون زیر بحث آ جاتا اور اس تھیوری کے تحت choice جیسی باریک مد پر اظہار خیال کرنا ہوتا تو میں بآسانی البیئر کامو Albert Camusسے اقتباس پیش کر سکتا تھا جس نے اپنی یاداشتوں کے حوالے سے الجیریا کی جنگ آزادی کے تناظر میں لکھا ہے۔

ROGUE POEMS ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 37
”الجزائر کی جنگ آزادی کے دوران ایک فرانسیسی فوجی افسر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نے باغی الجزائری مسلمانوں کو حراست میں لینے کے بعد گولی مار دی لیکن یورپی تہذیب کی اعلی انسانی قدروں کی وجہ سے اس نے کسی کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہیں کیا۔ مثال کے طور پر ایک بوڑھی کے دو نوجوان لڑکے پکڑے گئے تھے۔ اسں نے سب کے سامنے اس سے یہ پوچھا کہ وہ اپنی مرضی بتائے کہ دونوں میں سے  کس کو گولی ماری جائے۔“
لکیر کے فقیر پروفیسر اوّل تو ایسی باتوں سے ہی پرہیز کرتے ہیں، جن کا تعلق کورس کے نصاب سے نہ ہو، اور اگر بات آ بھی جائے تو اس کی تفصیل میں نہیں جاتے، کہ نہ جانے کہاں کوئی غلط بات کہہ جائیں۔میں جوش و خروش سے پڑھاتا تھا جیسے مرنے مارنے پر تلا ہوا ہوں اور یہ بات سالانہ جلسوں میں ظریفانہ انداز سے کئی بار میری نقل اتارتے ہوئے لڑکے اسٹیج سے پیش کرتے تھے۔ اب سوچتا ہوں تو اس کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ میں ایک بھرا بھرایا ہوا کوزہ تھا جو چھلک رہا تھا اور مجھے سب کچھ انڈیل دینے کی جلدی تھی۔ انگریزی بولنے کا تو چلن اپنے خاندان سے ہی ملا تھا، اس لیے اس میں کوئی دقت پیش نہیں آتی تھی، لیکن طلبہ کے سامنے ڈرامائی طور پر perform کرنے کا طریق شاید میرا اپنا تیار کردہ تھا۔

جیسے کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں، مجھ پر سارترؔ Jean Paul Sartreکی تخلیقات نے گہرا اثر چھوڑا تھا۔ اردو کے بیشتر ادیبوں نے سارترؔ پر انگریزی ادبا کی حاشیہ آرائی پڑھ کر ہی اسے واوین کے بغیر من وعن ہی اپنی عبارت میں لکھ دیا تھا، لیکن مجھ پر سارتر ؔکو ہی پڑھنے کی دھن سوار تھی۔فرانسیسی میں نہیں پڑھ سکتا تھا، اس لیے انگریزی میں اس کی کتابوں کے ساتھ فرانسیسی/انگریزی ڈکشنری رکھ لیتا تھا۔ لگ بھگ ایک ماہ کی اس عرق ریزی کے بعد ایک دن مجھے یکدم یہ احساس ہوا کہ اسٹاف روم میں بیٹھے ہوئے میں جب سارترؔ پر بات کرتا تو ماحول میں ایک برقی رو دوڑ جاتی۔ میرے ہی سینئررفقا جیسے یہ سمجھ گئے ہوں کہ اس میدان میں اب مَیں ان سے آگے نکل گیا ہوں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مجھ سے کسی  حد تک کنارہ کشی کی ایک تحریک سی   چل پڑی۔

ایک دن میں نے پروفیسر ایش کما ر سے جو عمر میں مجھ سے تیس پینتیس برس بڑے تھے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں اسٹاف روم میں اکیلا پڑتا جا رہا ہوں۔ جو کچھ انہوں نے مجھے کہا وہ سونے کے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ اس کا لب لباب یہ ہے کہ اگر آپ نے بہت کچھ پڑھ لیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ہر جگہ اس کی تشہیر کرتے پھریں۔ اس لیے اگر آپ سارتر اور وجودیت کے بارے میں اپنے رفقا سے کچھ زیادہ جان گئے ہیں تو انہیں یہ احساس دلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مجھے رائے دی کہ میں کچھ ہفتوں تک اسٹاف روم میں بیٹھے ہوئے اپنے منہ کو بند رکھوں۔ ہنس کر انہوں نے کہا، ”اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان کو قفل ہی لگا دو، صرف یہ ہے کہ اپنی قابلیت مت بگھارو۔“ اور پھر کچھ لمحے رک کر انہوں نے جو بات کہیں وہ آج تک میرے دل  پر نقش ہے۔ انہوں نے کہا، ”تمہارے لا شعور میں کہیں یہ بات جاگزیں ہے کہ تم سب سے کم عمر ہو۔ ابھی ڈاکٹریٹ بھی تم نے نہیں کی، کہیں تم سے سینئر پروفیسر تمہیں خود سے کمتر نہ سمجھیں، اس لیے تمہارا انہیں یہ باور کروانا ضروری ہے کہ تم کم پڑھے لکھے نہیں ہو۔ یہی وجہ ہے جس سے تم نے اپنے علم و دانش کا ڈھنڈورہ پیٹ پیٹ کر خود کو اس ڈھنڈورچی کی طرح کر لیا ہے جو بھیڑ کا حصّہ ہوتے ہوئے بھی بھیڑ سے الگ کھڑا ہے۔“

میں نے کوشش تو ضرور کی کہ ان کی بات پر عمل کروں لیکن اب جب کبھی میں اپنے گذرے ہوئے ماہ و سال کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ میں نے یہ عادت پوری طرح کبھی ترک نہیں کی۔ اب بھی میں بھری محفل میں غلط بولنے والے کو اس کے تلفظ پر ٹوک دیتا ہوں، شاعر کو بے وزن کلام پڑھنے پر کچھ نہ کچھ کہہ دیتا ہوں۔ یقیناً  لوگ برا مناتے ہیں، لیکن میں اپنی اس عادت ِ ثانیہ سے مجبور ہوں۔
بہر حال بات تو ژاں پال سارتر اور وجودیت کے فلسفے کی ہو رہی تھی۔ میں کچھ اس بارے میں لکھنا چاہتا ہوں کہ بتیس برس کی عمر میں مجھے اس بہتی گنگا میں نہانے سے کیا ملا، کیا کوئی نروان؟ یا یہ فرمان کہ نروان کے لیے گیان اکٹھا کرنا ضروری نہیں ہے؟ تو آؤ، میرے ذہن ِ رسا اٹھ بیٹھو ا ور یاد کرو کہ انیس سو ساٹھ سے چونسٹھ تک تم نے کیا کچھ اپنے دماغ میں انڈیلا۔

ایک نگاہ جب ان برسوں پر ڈالتا ہوں تو لگتا ہے جیسے میں نے ڈھیروں کام کیا ہو۔ انگریزی میں جامعات کی سطح پر انگریز ی درسیات کی کل ہند کانفرنسوں کے لیے سات مقالے تحریر کیے۔ اپنی ڈاکٹریٹ کا تھیسس مکمل کیا۔ ہندی میں دو اور اردو میں افسانوں اور شعری مجموعوں پر مبنی پانچ کتابیں چھپیں۔ گویا یہ برس بھی لدھیانہ میں گذارے ہوئے برسوں کی طرح محنت اور مشقت کے برس تھے۔ دیگر اساتذہ کی طرح نہیں تھے، کہ اپنے شعبے میں گئے، ایک پیریڈ پڑھایا، سیمینار یا ٹیوٹوریل کا ایک پیریڈ لیا یا نہیں لیا۔ دوپہر کو گھر واپس آ گئے، کھانا کھا کر قیلولہ کیا اور شام کو ٹیچرز کلب میں تاش کھیلنے چلے گئے۔
………………………
اپنے طلبہ کو مجھے کسی بھی دقیق مسئلے کو آسان ترین زبان میں سمجھانا پڑتا تھا، انگریزی  میں کتھارسس   کے حوالے سے دیکھیں تو ایک ہی لفظ کی مختلف جہات سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے اس سے بھی زیادہ الفاظ ’ریڈی میڈ‘ مل جاتے ہیں، اس لیے مجھے کلاس روم میں وہ مشکل پیش نہیں آئی جو میں آج صبح یہ صفحہ لکھتے ہوئے محسوس کر رہا ہوں کہ اردو میں مجھے وہ سرمایہ میسر نہیں ہے۔ چاہتا تو ہوں کہ ان سب تخلیقی، تدریسی اور تحقیقی کاموں کا ذکر کروں جو میں نے ان برسوں میں کیے لیکن صرف دو یا تین کے بارے میں مختصراً لکھنے پر اکتفا کروں گا۔ ایک مقالہ جو میں نے لکھا وہ تخلیقی قوت کی اس کارکردگی کے بارے میں تھا، جو فنکار کے ذہن میں پہلے ایک موہوم سی اور بعد میں ایک بہت شدید ”ٹینشن“ کی شکل میں وارد ہوتی ہے، اور فن پارہ مکمل ہونے کے بعد کتھارسس سے تحلییل ہو کر ایک قسم کی آسودگی کا احساس چھوڑ جاتی ہے۔

انگریزی لفظ tension یونانی لفظtensio او ر اس کی اسمِ جامد شکل tensus سے آیا ہے۔ ارسطو’نے اپنی بوطیقا میں اس ہیجان کی سی کیفیت کے لیے جس کا علاج اس نے کتھارسس catharsis فرض کیا، یہی دو الفاظ استعمال کیے ہیں۔میں نے اس لفظ کے ممکنہ اردو نعم البدل الفاظ، ہیجان، کھچاؤ، تناؤ (ذہنی اور جسمانی) پر ارسطو کی اصطلاح کے حوالے سے غور کیا تو مجھے یہ تینوں نا کافی محسوس ہوئے۔ بہر حال 1964ء میں تحریر کردہ ایک ریسرچ پیپر جو P.E.N. کی کانفرنس کے لیے مجھے لکھنا تھا، میں نے یہ سوچ کر کہ ”کتھارسس“ پر توہزاروں صفحے لکھے جا چکے ہیں، لیکن ”ٹینشن“ پرجو ایک آرٹسٹ تخلیق کے عمل سے پہلے محسوس کرتا ہے، بہت کم کام ہوا ہے، اس موضوع کا انتخاب کیا اور چونکہ میں انگریزی کے علاوہ سنسکرت میں بھی شد بد رکھتا تھا، سنسکرت کاویہ شاستر کو کھنگالنے سے مجھے جو موتی ملے، انہیں میں نے بقدر ظرف اس مقالے میں استعمال کیا۔

یہ درست ہے کہ جذباتی اور نفسیاتی کھینچا تانی سے ہمارے دل و دماغ میں جو ہلچل پیداہوتی ہے اگر اسے بڑھنے دیا جائے اور اس کا سدِّ باب نہ کیا جائے   تو اس کا اخراج فساد، مار پیٹ، قتل اور خود کشی میں نمایاں ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر حیاتاتی اور نفسیاتی علوم کی مدد سے اس کو خارج کیا جا سکے تو ’مریض‘ اپنی نارمل حالت میں واپس آ سکتا ہے۔ یونانی اطباء کو بھی اس کا علم تھا، اس لیے جب ارسطو نے یہ کہا کہ ایک ٹریجڈی اسٹیج پر کھیلے گئے واقعات کی بنا پر تماشائیوں کے ایسے جذبات کو رحم اور خوف سے خارج کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، اس لیے افلاطون کی ری پبلک میں جہاں دیگر پیشہ وروں کو مناسب جگہ اور رتبہ دیا گیا ہے، وہاں ڈرامہ نویسوں کو بھی دیاجانا ضروری ہے۔ یہاں تک تو طلبہ کو سمجھانا آسان تھا۔۔

لیکن میں نے اس مقالے میں مثالوں سے یہ واضح کیا کہ جب تک ہم عصری حوالوں سے، جن میں نسل، قومیت، مذہب اور رنگ کی بنیاد پر فسادات کا ایک لا اختتام سلسلہ جاری ہے، ان حالات کو ارسطو کے نظریے میں کچھ توسیع کر کے نہ بتائیں، ہم طلبہ کو نہیں سمجھا پائیں گے، کہ ارسطو کا نظریہ کس حد تک نا مکمل ہے۔ اسی طرح نصاب کی متنی تدریس سے تجاوز کر کے میں اپنے طلبہ سے جو باتیں کرتا تھا،(اور میں نے جس کے بارے میں اپنے مقالے میں تفصیل سے لکھا)، ان میں یہ باریک نکتہ بھی شامل تھا کہ حقیقت نگاری اور سماجی حقیت نگاری Realism & Social Realismمیں کیا فرق ہے۔ اوّل الذکر صدیوں سے قابل قبول اس چلن سے انحراف تھا جسے ہم رومانی اور تخیلی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن روسی انقلاب سے کچھ قبل اور پھر اس کے بعد شد و مد سے موخر الذکر کا دور شروع ہوا جس میں مقصدیت اور مروجہ جمالیاتی اسلوب سے بغاوت تھی، یہاں تک کہ سیاسی اور سماجی تشکیل نو کے لیے بھی ادب کو  الہی  کار بنا لیا گیا۔ ترقی پسند مصنفین کی تگ و دو بھی دونوں ممالک، یعنی ہندوستان اور پاکستان میں اسی کے زیر اثر شروع ہوئی۔

ان برسوں میں عقیدہ، جاگیردارانہ تکلف، روحانی اقدار کی پابندی، بورژوا اخلاقیات کی بھرپور مخالفت کی گئی۔ پھر وہ دور آیا، جب روس کی دیکھا دیکھی ہماری زبانوں میں بھی ادیبوں اور قارئین، دونوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔یورپ میں تو جنگ عظیم کے ختم ہوتے ہوتے جدیدیت کی تحاریک شروع ہو چکی تھیں، لیکن ہمارے ہاں قدرے دیر سے پہنچیں۔ ہم لوگ بہت پیچھے تھے، یعنی جب بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ژاں پال سارترؔ کے وجودیت کے فلسفے کی بحث زوروں پر تھی ہم ابھی انجمن ترقی پسند مصنفین کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ جیمز جوائس کا ناول ”یولیسیِس“ انگلینڈ میں 1922ء میں چھپا جب کہ اردو والوں نے اس کے بارے میں بات چیت کرنا تیس چالیس برس بعد شروع کیا۔ سارترؔ کے فلسفہئ وجودیت کے حوالے سے یہ بات لکھنا ضروری ہے کہ کہیں کہیں اس میں ادبی روایات سے بغاوت کا چلن مختلف نہیں تھا، تہذیبی بیڑیوں کو کاٹنے کی بات ا س میں بھی کہی جاتی تھی، بورژوا اخلاقیات اور مادیت سے بچ کر چلنے کی ہدایت اس میں بھی دی جاتی تھی۔

جنسی موضوعات سے پردہ پوشی کی روایت سے انحراف اس میں بھی تھا، لیکن ہوا یہ کہ مایوسی، تکان، مستقبل کے بارے میں بد اعتمادی، جہد لا حاصل جب ادبی موضوعات میں رواج پا گئے تو انسان کی افضل تریں حیثیت کے بارے میں ”ڈی ٹراپ“ de-trop یعنی بیکار، فضول کا نظریہ پنپنے لگا۔ اسلوب کی سطح پر علامت کے ابہام، استعارے کی ملفوفیت اور مدوریت کے اجزا در آئے اور شعری تخلیقات تو ایک معّمہ بن کر رہ گئیں۔

جاری ہے۔۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *