فاشزم کی ثقافت ۔ عامر حسینی/قسط 2

 بہت ہی مضحکہ خیز تجزیہ ہے کیونکہ یہ فاشزم کی بنیادوں کو بہت ہی سطحی انداز میں دیکھتا ہے۔ جبکہ یہ دائیں بازو کی تحریکوں کے کئی ایک پہلوؤں کو سرے سے دیکھنے سے ہی قاصر رہ جاتا ہے۔تو فاشزم بطور ایک ماس موومنٹ کے کامنٹرن کے فاشزم بارے فہم کے لئے ایک چیلنچ سے کم نہیں تھا۔ دوسرے لفظوں میں سوویت یونین کی آفیشل لائن یہ تھی کہ فاشزم کی جڑیں گہری نہیں ہیں۔اور یہ کہ اسے کلچر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی بڑے پیمانے پہ لوگوں کے تحرک سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ تو روزنبرگ کا کیا کہنا تھا؟

روزنبرگ کے مطابق فاشزم تبھی کامیاب ہوتا ہے جب یہ ایک عوامی تحریک بنے۔سیاسی طور پہ یہ معاشرے میں باقی رہ سکتا ہے کسی بھی سیاسی نظام میں لیکن اس صورت میں یہ کمتر حالت میں رہے گا اس وقت تک جب تک یہ بہت بڑے پیمانے پہ عوام میں اپنی بنیاد نہ بنالے۔ میں نے کہا تھا کہ میں ہندوستان بارے بات نہیں کروں گا لیکن مجبور ہوں۔  ذرا دیکھیں کہ 1980ء میں کیا ہوا تھا۔1984ء میں ریاست نے بڑے پیمانے پہ منظم قتل عام کی اجازت دی اور اس نے بڑی دہشت گردی کو ایک طرح سے جواز دیا ۔فرقہ وارانہ قوتوں کو معاشرے کو اور زیادہ دائیں جانب لیجانے کا موقع فراہم کردیا۔ تو روزنبرگ کے مضمون کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ فاشزم ایک عوامی تحریک بن جائے تو کامیاب ہوگا۔لیکن اس سے آگے سوال یہ جنم لیتا ہے کہ فاشزم اور دایاں بازو کیسے ایک اپنی تحریک کو عوامی جڑیں فراہم کرسکتا ہے اور وہ عوامی بنیادوں پہ اسے کس طرح سے استوار کرپاتا ہے؟

یہ بہت ہی اہم سوال ہے اور ہمیں اس سوال کا جواب اپنے ملک ہندوستان کے تناظر میں سمجھنا ہوگا۔ لیکن اس کا جواب بھی بہت دلچسپ ہے۔اس کا جواب تھا کہ آئیڈیالوجی جسے لوگ فاشسٹ تحریک کہتے ہیں پہلے ہی 1914ء میں پورے یورپ کے اندر بڑے پیمانے پہ پھیل چکی تھی۔یہاں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ نازی پارٹی تو 1920ء میں بنی تھی۔اور 1920ء کے آخر تک نازی پارٹی اور اس کا لیڈر ہٹلر اہم بنا تھا۔اور یہ اس وقت ہوا جب معاشی بحران نے پوری طاقت سے جرمنی میں دھماکہ کیا تھا۔ تو جب روزنبرگ یہ کہتا ہے کہ فاشسٹ آئیڈیالوجی تو پہلے ہی 1914ء میں پھیل چکی تھی تو وہ اصل میں سیاست اور آئیڈیالوجی کے باہمی تعلق کو الٹ کررہا تھا۔وہ کہہ رہا تھا کہ آئیڈیالوجی سیاسی پارٹی کی خالق نہیں ہے۔سیاسی پارٹی یا تحریک اصل آئیڈیالوجی کی خالق ہے۔ وہ یورپی سیاست اور معاشرے میں آہستہ آہستہ حرکت پذیر پروسس کی جانب اشارہ کررہا تھا جس کے نشانات 1870ء سے لیکر 1880ء تک چلے جاتے ہیں۔جب یورپ میں پارلیمانی جمہوریت پھیلنا شروع ہوئی تو یہ یورپ کی روائتی اشرافیہ جوکہ بڑے کاروباری اور زمیندار اشرافیہ تھے کے مفادات کی نمائندہ تھی۔

تو سوال یہ ہے کہ وہ کیسے عوام کے لئے پرکشش بن گئی جبکہ وہ ورکنگ کلاس پہ جبر کرنے والے طبقات کے مفادات کا تحفظ کررہی تھی۔اور یہی وہ نکتہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ کہاں جبر کرنے والوں کی آئیڈیالوجی اہم ہوجاتی ہے۔اس کی وجہ وہ سیاست تھی جو 1870ء اور 1880ء کے اندر ابھری اور رونزبرگ اسے “نئی تحکمانہ قدامت پرستی” قرار دیتا ہے۔اس طرح کا کنزرویٹوازم پورے یورپ میں پھیل گیا۔ اور یہی نیا آمرانہ کنزرویٹوازم 19ویں صدی کے فاشسٹ آئیڈیالوجی کا پیش رو تھا جو بعد میں اور غالب آگیا۔ تو فاشسٹ آئیڈلوجی پس پردہ محرکات کی بناوٹ ہے۔یہ مختلف آئیڈیالوجیکل/نظریاتی لہروں سے مل کر بنی ہے اور خود اپنے آپ میں یہ بہت کم مربوط ہے۔تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کو فاشسٹ آئیڈیالوجی کے اجزاء کو ایک ایک کرکے دیکھنا پڑتا ہے۔اور یہ آج بھی ہمارے لئے واضح ہونا چاہیے۔

مثال کے طور پہ سامیت مخالف نظریہ اینٹی سیمیٹ ازم اور نسل پرستی کی دوسری اشکال ایک مضبوط ریاست کی حمایت کرتے ہیں جوکہ ان کی خواہش کے مطابق بیرونی طور پہ عمل کرسکتی ہو۔ جیسے جرمن سرمایہ جرمن سامراجیت میں بدلا تاکہ یہ عالمی سرمایہ دار منڈی پہ زیادہ موثر انداز میں اثرانداز ہوسکے۔تو یہاں سامراجیت کی حمایت بیرونی طور پہ زیادہ جارحیت کی پیاس کا نتیجہ تھی اور یہ  لیبر کے خلاف بھی جارح ہوئی اور آخرکار پوری منظم ورکنگ کلاس کے خلاف جارحیت میں بدل گئی۔اور پھر یہ پدرسریت کے ساتھ جڑی آمریت کا شاخسانہ بن گئی۔اور اس کا آخری اور سب سے طاقتور ترین حصّہ نیشنلزم بنا جس سے ملکر یہ فاشسٹ آئیڈیالوجی جنم پذیر ہوئی۔ یورپ میں دائیں بازو کی کامیابی کی چابی 1870ء سے مسلسل آگے جانے والے ایک نئے قسم کے نیشنل ازم کی سیاست کے پاس رہی اور یہ اس سے پہلے یورپ میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملی تھی۔1848ء میں یورپی منظر نامے میں ہمارے پاس ایک جارح قسم کا شاؤنسٹ نیشنل ازم نہیں تھا۔یہ 1860ء میں بھی نہیں تھا جب کارل مارکس “سرمایہ ” لکھ رہا تھا۔ یہ تو زیادہ جارح بلکہ بہت ہی زیادہ جارج کہیں 1870ء میں ہونا شروع ہوا۔اور اس کا جزوی طور پہ نوآبادیات کے قیام کی جانب بھاگ دوڑ سے بھی تھا۔ سب جنونی افریقہ کی تقسیم کی جانب دوڑے اور اس کے ٹکڑوں کو ہڑپنے کی دوڑ شروع ہوگئی۔لیکن یہ صرف اس سے ہی جڑا ہوا نہیں تھا۔

میں صرف معشیت پسندی کو ہی نیشنل ازم کی واحد وجہ قرار دینا نہیں چاہتا۔تو میری نیشنل ازم کی نوعیت کی بناوٹی پن/ساختگی سے کیا مراد ہے؟ اور میں اسے فاشزم کیوں کہتا ہوں؟ کیا قومیں ایسے ہی وجود رکھتی ہیں جیسے طبقات؟ مجھے آپ سے یہ سب پوچھنا ہے۔میں جانتا ہوں کہ جیسے میں دیکھتا ہوں ایسے طبقہ ہے کیا ؟ میں جانتا ہوں کہ ممبئی جیسے شہر میں مڈل کلاس کیا ہے؟ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آج کے ہندوستان میں مڈل کلاس کس کلچر کی تجسیم کرتی ہے؟ تو میں مڈل کلاس اور اس کے کلچر کو،اس کی سیاست کو دیکھتا ہوں۔ اور اگر میں ہندوستان میں شہروں کی بجائے کسی اور علاقے میں رہ رہا ہوتا جیسے مضافاتی علاقے ہیں تو میں دوسرے طبقات کا سامنا بھی کرسکتا تھا۔میں جانتا ہوں کہ ورکنگ کلاس کیسی دکھائی دیتی ہے۔میں جانتا ہوں کہ ورکنگ کلاس کہاں ملازمت کرتی ہے۔اور ورکنگ کلاس کی بہت سی پرتیں ایسی بھی ہیں جو کسی بڑے پیمانے کے پروڈکشن یونٹ میں کام نہیں کرتیں۔وہ گھر پہ ملازم ہیں یا کہیں اور۔ لیکن طبقہ/کلاس بارے نکتہ یہ ہے کہ یہ حقیقی کمیونٹیز/برادریاں ہیں۔یہ حقیقی طور پہ موجود ہیں اور اس وقت بھی موجود ہوتی ہیں جب ان کو اپنے ہونے کا شعور بھی نہیں ہوتا۔

اب آئیں قوم کے ہونے کے سوال پہ۔ کیا اس دھرتی پہ کوئی ایسا ہے جو اس بات پہ دلیل دے کہ قوم بھی ویسے ہی موجود ہوتی ہے جیسے ایک طبقہ ؟ اور کیا قوم بھی ویسے ہی اسی سینس میں موجود ہے جیسے طبقہ موجود ہے؟ جبکہ نیشنلزم اس طرح کے لیکچرز کا ایک مرکزی خیال ہے تو مجھے نیشنل ازم بارے آج کل تسلیم شدہ دو نمونوں کے مقابلے میں اپنے موقف کی وضاحت کرنے دیں۔ پہلا ماڈل ارنسٹ گیلنر کا ہے اور اس موقف کی حمایت ہابس کرتا ہے۔ دوسری پوزیشن/موقف جو 1980ء سے پاپولر ہوئی/ہوا ہے اس کا حامی نظریہ ساز بینڈیکٹ اینڈرسن ہے جو خیالی/تصوراتی کمیونٹییز یا برادری کی بات کرتا ہے۔ اینڈرسسن کے نزدیک قوم ایک تصور کرلی گئی کمیونٹی ہوتی ہے لیکن وہ اپنے لفظ “تصور کرلی گئی ” کو ایک مثبت رنگ دینا چاہتا ہے جوکہ گیلنر کے تصور اقوام/نیشن اور نیشنلزم سے مختلف ہے۔ ہابس اسی لئے اسے نیشنل ازم کی ‘بناوٹی/ساختہ فطرت’ یا بنالی گئی فطرت کہتا ہے۔

گیلنر کی طرح میں بھی دستکاری،ایجاد اور سوشل انجینئرنگ کے عنصر پہ زور دوں گا جس کا قوم کی تشکیل میں بڑا عمل دخل ہے۔جیسے گیلنر کہتا ہے کہ قوموں کو فطری کہنا اور اسے خداداد قرار دینا ایک افسانہ،مائتھ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور اسے خدا کی جانب سے لوگوں کے درمیان تقسیم کا ایک طریقہ بتلانا بھی ایک افسانہ ہے۔ اور اسے لوگوں کا سیاسی نصیب بتانا بھی ایک افسانہ ہے اور فاشزم نیشنل ازم کی اسی متھ کی عکاسی کرتا ہے۔ نیشنل ازم بعض اوقات ماقبل موجود ثقافتوں کو لیتا ہے اور ان کو اقوام میں بدل دیتا ہے اور بعض اوقات ان کو خود ایجاد کرتا ہے اور اکثر ماقبل موجود ثقافتوں کو موجود کرتا ہے۔ جو حقیقت ہے وہ ہابس کے الفاظ میں یہ ہے ، نیشنل ازم قوموں سے پہلے آتا ہے۔قوم’ ریاست اور نیشنل ازم’ نہیں بناتیں بلکہ یہ نیشنل ازم ہے جو قوم اور ریاست بناتا ہے۔ میں گیلنر اور ہابس کے ان دلائل سے میں مکمل اتفاق کرتا ہوں۔

جاری ہے

عامر حسینی
عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *