اپنے حلیے پر توجہ اور نَک سِک سے درست رہنا۔حافظ صفوان محمد

 ایک مکالمہ پڑھتے ہوئے آج یہ سطریں سامنے آئیں تو میں ٹھٹک کر منجمد سا ہو گیا.
“میری ایک بہت عزیز دوست جس کی حال ہی میں منگنی ہوئی ہے، کہتی ہے یار ہماری شکل اور عقل ہی ماں بہن والی ہے، تاں ای سانوں بندہ کوئی نہیں لبھدا۔”

حضرت تھانوی نے بھی لکھا ہے کہ عورتیں گھر میں چڑیلیں بن کے رہتی ہیں اور کہیں جانا ہو تو پری بن کے جاتی ہیں. یہ بہت بڑا المیہ اور تربیت کی بہت بڑی کمی ہے. عورتیں اپنے مردوں کے لیے تیار نہیں ہوتیں اور گھر میں ماسیوں سے بھی برے حال میں پھر رہی ہوتی ہیں. عام طور سے عورتیں لڑکیاں اپنے حلیے کی فکر کم ہی کرتی ہیں.

یہ کم سے کم پینتیس سال پرانی بات ہے کہ ایک مرتبہ کراچی سے چچا چچی اور ان کے بچے ہمارے ہاں بہاول پور آئے ہوئے تھے. کہیں جانے کا پروگرام بنا جو موخر کر دیا گیا تو میں ووو بن گیا (و الٹا پیش کی تفصیلی صوتی شخصیت، بمعنی منہ بنا لینا، ہمارا گھریلو محاورہ). صبح صبح کا وقت تھا. میں گھر کے عام کپڑوں میں پھرتا رہا تو چچی جان نے کہا کہ تم تیار تو ہو جاؤ. میں نے سڑ کے کہا کہ جب جانا نہیں ہے تو تیار کس کو دکھانے کے لیے ہونا ہے؟ چچی جان نے کہا کہ مجھے اور چاچا جی کو دکھانے کے لیے اور اپنے امی ابو کو دکھانے کے لیے تیار ہو جاؤ. میں نے کچھ من من کی تو انھوں نے سمجھایا کہ باہر جانے کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کو اچھا لگنے کے لیے سجتے سنورتے ہیں. نئے کپڑے بدل کر آؤ یہاں اور بال بناؤ امی ابو اور چاچا چاچی کے لیے۔ یہ بات مجھے اس وقت سے یاد ہے اور آج تک یاد ہے.

میں ملازمت کے سلسلے میں ہری پور میں تھا تو ایک بار ایک بہت بڑے اللہ والے صاحبِ نسبت دوست کی فیملی ہمارے ہاں آئی. ان کی بیٹیاں میرے دونوں بڑے بچوں سے پانچ چھے سال بڑی ہوں گی. صبح نماز کے بعد ناشتے سے پہلے وہ بچیاں اور ان کی امی پندرہ منٹ میں یوں تیار ہوئیں جیسے کہیں باہر جانا ہو. ہم سب حیران. پوچھنے پر بتایا کہ ہمارے ہاں یہ تربیت کا حصہ ہے کہ صبح ناشتے سے پہلے امی جان اور ہم لڑکیاں نئے کپڑے پہن کر اور ہلکا سا میک اپ کرکے اور ہلکا زیور پہن کر تیار ہوتے ہیں اور بھائی بھی تیار ہوتے ہیں اور ابو جان کے ناشتے کی میز پر آنے سے پہلے سب بچے اور امی تیار ہوکر بیٹھے ہوتے ہیں. اسی طرح ہر نماز کے وضو کے بعد پھر ہلکا پھلکا میک اپ کرتے ہیں. جتنے دن وہ لوگ رہے، بچیاں بچے اور ان کے امی ابو ہمیشہ اس حلیے میں ملے کہ ابھی بغیر نوٹس باہر جا سکتے ہیں. کسی کے بدن پر بے استری کا شکن دار لباس نہ دن کو دیکھا نہ رات کو.

اس دیندار خاندان کو دیکھ کر احساس ہوا کہ گھر پر رہنے کا نبوی یعنی سنت طریقہ کیا ہے اور یوں میں نے خود کو مقاصدِ شریعت کی ایک لمبی شاہراہ کے سرے پر کھڑا پایا. نبی پاک علیہ السلام کا یہ فرمان عملی شکل میں سامنے آیا کہ یوں رہو کہ اپنے زوج کو خوبصورت لگو. اس دن سے مجھ پر دن میں پانچ بار وضو یعنی منہ ہاتھ اور پیر دھونے کی اسلامی حکمت کھلی اور مسواک کرنے یعنی دانتوں اور منہ کی بدبو کو روکنے کے الٰہی بندوبست کے مقصد کا علم ہوا. وضو ٹوٹتا کہیں اور سے ہے لیکن اس کو جوڑنے کے لیے پھر سے منہ ہاتھ اور پیر دھلوانا یہی آشکارا کرتا ہے کہ اللہ کو بندے کی ظاہر کی خوبصورتی کتنی مطلوب اور مرغوب ہے. اللہ کا حکم ہے کہ نمازِ باجماعت کے لیے پانچ وقت مرد و عورت مسجد میں آئیں، یعنی ہمہ وقت ایسے حلیے اور لباس میں رہنے کو یقینی بنانا کہ مرد ہو یا عورت، ہر وقت اٹین شن ہو. یہی مرد و عورت اپنے زوج کو اچھا لگے گا اور یہی بچے اپنے ماں باپ کو پیارے لگیں گے. نبی پاک علیہ السلام کا دن میں کئی بار آئینہ دیکھنا اور کنگھی کرنا اور آٹھویں دن بہر طور ڈاڑھی اور ناخن تراشنا ذاتی جسمانی خوبصورتی ہی پر ایمانًا توجہ دینے کی مشق ہے جو مسلمانوں کو کرائی گئی.

جو لوگ اچھے حلیے میں نہیں رہتے اور مہاتڑ بنے پھرتے ہیں تو یہ اللہ کو مطلوب نہیں ہے. مہاتڑ حلیہ غربت سے نہیں، توجہ نہ دینے سے بنتا ہے. ایک صحابی کے گندا لباس پہنے ہونے پر اسے تنبیہہ کرنے سے مقصد یہ تھا کہ کھایا پیا خواہ کچھ ہی ہو یا بھلے ننگے پیٹ کیوں نہ ہو، سماج میں اپنا حلیہ درست کرکے رکھو.

جنابِ نبی پاک نے وقت کا بہترین اور قیمتی ترین لباس بھی پہنا ہے اور یمن کے بادشاہ کا بھیجا ہوا وہاں کے شاہانہ تراش خراش اور انداز کا سلا ہوا لباس بھی پہنا ہے، چنانچہ امت کو اپنے ذاتی عمل سے یہ کرکے دکھایا ہے کہ مسلمان کسی بھی ملک کی وضع قطع کا لباس اور کسی بھی قیمت کا پہناوا پہن سکتا ہے. اللہ کے نزدیک عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ہے چنانچہ عرب لباس کو بھی عجمی لباس پر کوئی فوقیت نہیں ہے.

عورتیں لڑکیاں بھی انہی نبوی عادات اور اسلامی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے خود کو ہمہ وقت نَک سِک سے تیار و آراستہ رکھنے کی عادت ڈالیں. گھر میں رہتے ہوئے جو سجتا ہو وہ پہنیے اور جس ملک کا چاہے پہنیے اور اچھے فیشن کا پہنیے. فیشن سے اترا ہوا لباس پہننا کوئی حکمِ خداوندی نہیں ہے اور نہ تقوے پرہیز گاری کی لازمی علامت. یاد رکھیے کہ فیشن کا مطلب بے حیائی و بے پردگی کرنا نہیں ہے. پردہ جتنا اللہ کا حکم ہے اتنا ضرور کیجیے اور اس میں کوتاہی کرکے اللہ کو ناراض مت کیجیے.

اگر عورتیں لباس کی اسلامی ہدایات پر عمل کرلیں تو کوئی بہن بیٹی یوں شکوہ کناں نہ ہو کہ ہماری شکل ہی ماں بہن والی ہے اس لیے ہمیں کوئی بندہ نہیں ملتا. اللہ سب کو عافیت سہولت سے دین پر چلنے والا والی بنائے. آمین.

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *