• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سلسلہ ہائے اہلِ بیت رسول اللہﷺ/ہماری مائیں/حضرت خدیجہ رض (5)۔۔محمد جمیل آصف

سلسلہ ہائے اہلِ بیت رسول اللہﷺ/ہماری مائیں/حضرت خدیجہ رض (5)۔۔محمد جمیل آصف

دکھ، سکھ، الجھن، اطمینان، کامیابی اور ناکامی کے موقع پر جو مرد کو دلاسہ، راہنمائی اور اسے اطمینانِ قلب سے روشناس کروانا یہ ایک بہترین  شریکِ حیات کا وصف ہوتا ہے۔حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ  عنہا کو اس معاملے میں دنیا کی ہر عورت پرسبقت حاصل ہے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ  عنہا کی سیرت کے اس پہلو پر اپنے اور غیر کیا سب بہترین الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔

Advertisements
julia rana solicitors

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا سب سے خوبصورت پہلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نبوی کے موقع پر ظاہر ہوتا ہے ۔ جس کا اظہار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کرتے رہے ۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نزول وحی سے پہلے غار حرا میں کہیں کہیں دن غور وفکر میں رہتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ   عنہا اس سخت اور کھٹن راستے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا پہنچاتیں۔ اور آپ کا حد درجہ خیال رکھتیں ۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا سب سے بہترین کردار جو قیامت تک آنے والی ہر عورت کے لیے ضرب المثل ہے ۔ جو نزول وحی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت کو دیکھتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ   عنہا نے ادا کیا ۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے الفاظ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی دلجوئی آپ رضی اللہ تعالیٰ  عنہا کی شخصیت کو آفاقی بناتی ہے ۔
سیرت کی کتابوں میں آتا ہے۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنائے تقاضا ئے بشریت گھبراہٹ کا شکار ہوئے اور گھر آئے اس کیفیت کو سیرت کی کتاب الرحیق_المختوم کچھ اس طرح بیان کرتی ہے ۔
“آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات کے ساتھ پلٹے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا ۔ مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو ۔ انہوں نے آپ کو چادر اوڑھا دی یہاں تک کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف جاتا رہا۔”
یہاں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا کردار دیکھیں  انہیں نے خود کو گھبراہٹ کا شکار کرنے کے بجائے اپنے محبوب شوہر کی کیفیت کو اعتدال پر لانے کے لیے سازگار ماحول کی فضا قائم کی۔ یہ عمل ہی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا قیامت تک آنے والی خواتین کے لیے اسوہ ہے۔
آگے اس سے بھی خوبصورت پہلو سامنے آتا ہے جو آج تک کسی بھی شریک حیات کی زندگی میں نہیں  ملے گا کیا دلاسہ کے الفاظ، موقع کی مناسبت سے دلجوئی یہی کمالات تھے جس کی بنا پر اللہ رب العزت نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور شریک حیات منتخب کیا ۔
الرحیق_المختوم میں آتا ہے
“اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے ہوئے فرمایا، مجھے کیا ہو گیا ہے؟ مجھے تو اپنی جان کا ڈر لگتا ہے ۔”
فدا ابی و امی امت کی اس ماں رضی اللہ تعالیٰ   عنہا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتی ہیں ۔
” قطعاً نہیں ! بخدا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ رسوا نہیں  کرے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلہ رحمی کرتے ہیں، درماندوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، تہی دست کا بندوبست کرتے ہیں، مہمان کی میزبانی کرتے ہیں اور حق کے مصائب پر اعانت کرتے ہیں ۔”
پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ   عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی اور کہا بھائی جان اپنے بھتیجے کی بات سنائیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری بات انہیں بتائی تو ورقہ بن نوفل نے کہا ۔ یہ وہی فرشتہ ہے جو موسی علیہ السلام پر اترا تھا ۔
اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حوصلہ دینا اور ورقہ بن نوفل کے پاس لے جانا
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہی وہ کمال تھا اور آپ کی خصوصیات تھیں جن تک کوئی نہیں پہنچ سکتا ۔
اور امت میں سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور تصدیق کرنے کا شرف بھی حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حاصل ہے ۔
اور اسی تصدیق کی بدولت عورتوں میں  صدیقہ_الکبری کا لقب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اور مردوں میں  صدیق کا لقب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ  عنہ کے حصے میں آیا ۔ اسی لیے حضرت خدیجہ کے ساتھ  کبریٰ لفظ لکھا جاتا ہے ۔
جاری ہے۔۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply