عالمی طاقتیں، ہمارا میڈیا اور کالی بھیڑیں

معمر قذافی، صدام حسین اور حسنی مبارک؛ ان شخصیات کے تمام تر مطلق العنانیت اور آمریت سے بھرپور ادوار کے باوجود بھی ان کے چلے جانے کے بعد جو ایک حقیقت مکمل طور پر واضح ہوئی وہ یہ ہے کہ ایک مضبوط حکومت کے اچانک عدم میں جانے کا اثر ریاست پہ نہ صرف منفی بلکہ ریاست کو اگلے پچاس سال کے لیے تباہ کر دینے کا مؤجب بھی ٹھہرتا ہے۔ان تینوں شخصیات کے مقبول سے غیر مقبول اور پھر معدوم ہونے پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انہیں پردے سے غائب کرنے والے محرکات ان کے جاتے ہی خود بھی غائب ہو جاتے ہیں۔ اگر معاملہ اصولوں پہ طے ہوتا ہو تو انہیں رخصت کرنے والے کردار ان کے بعد آنے والی انارکی کو قابو کرنے میں بھی مدد دیتے اور بعد ازیں قومی یگانگت کو کم از کم اس حد تک واپس لانے میں ضرور کامیاب ہوتے جو ان کو باہر پھینکتے ہوئے دکھائی دیتی تھی۔ مثال کے طور پر برصغیر پاک و ہند کی آزادی کے بعد ہندوستان و پاکستان کے قومی لیڈران نے عوام کو نا صرف ایک قوم اور اکائی کی حیثیت میں بحال رکھا بلکہ بغیر کسی باقاعدہ بیرونی مداخلت کی ایک قومی آئین کی تشکیل بھی وقوع پذیر کر کے دکھائی۔ بنگلہ دیش میں یہی کردار شیخ مجیب الرحمن نے ادا کیا۔

ستر کی دہائی تک آزادی پانے والے ممالک میں قریب قریب ایسی ہی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد (یعنی 1980 کے بعد) شائد سپر پاورز سیانی ہو چکی تھیں۔ اب کے ان کی ترجیح باغی عوام پہ طاقت آزمانے کی بجائے ان کے لیڈران کو خریدنے یا خاموش امداد دے کر مستقبل میں اپنا مقروض کرنے پہ ہونے لگا۔ کئی بار بکنے سے انکار کرنے والی آوازوں کو خاموش بھی کرا دیا جانے لگا۔ ایرانی انقلاب اسی سٹریٹیجی کی ایک عمدہ مثال ہے جہاں ایک کمزور حکومت جسے ماضی میں تاج برطانیہ کی حمایت حاصل رہی، کو اس بار امریکہ بہادر کے آشیرباد سے اٹھا پھینکا گیا۔

گویا سپر پاورز نے کھیل کی تکنیک میں چند بنیادی تبدیلیاں عمل میں لا کر دوسری ریاستوں کو اپنی جیب میں رکھنے کا گر سیکھ لیا۔ ان بنیادی تبدیلیوں میں ریاستی انا کو ایک جانب رکھ کر ایسے فوائد پہ زور دیا گیا جن کے تحت جنگ میں براہ راست شرکت اور جیت سے گریز کرتے ہوے کٹھ پتلی پراکسی حکومتوں کو "خوابوں کی تعبیر" دکھائی گئی اور ناپسندیدہ حکمران کا تختہ پلٹا گیا۔ دوسرے لفظوں میں عالمی طاقتیں عوامی جزبات ہائی جیک کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہونے لگیں۔

گزشتہ روز اپنے لبنانی جہان دیدہ گھاگ کے ساتھ عالمی سیاست پہ بات چیت چل رہی تھی۔ بات گھومتے پھرتے پاکستان پہ آئی تو حضرت فرمانے لگے:

You are nuclear power, having a border with China, India, Iran, Afghanistan. What the hell are you guys doing? You're so powerful.

چند ایسے ہی الفاظ میں اپنے ارد گرد اردنی اور فلسطینی باشندوں سے پہلے بھی سن چکا ہوں۔ اپنی تمام تر برائیوں کے ساتھ بھی بہرحال اپنی قوم سے متعلق ہمارا ایک تصور ہے جو اتنا برا نہیں جتنا ہم نے سمجھ رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ بے چینی اور یہ مایوسی کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے سیانے پن اور اپنے اندر کالی بھیڑوں کے درمیان Correlation پہ غور کرنا پڑے گا۔ ہمیں ڈھونڈنا ہو گا کہ مایوسی کے اندھیرے پھیلانے والے لوگ آخر کون ہیں اور ان کے کام کرنے کا طریقہ کیا ہے۔

مشرف کی اچھائیوں اور برائیوں سے قطع نظر، اس کے دور میں میڈیا کو آزادی ملی اور سوشل میڈیا کا ظہور ہوا۔ پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کے آغاز کا ساتھ ہی حکومت کے خلاف میڈیا ٹرائیل کا جیسے ایک فیشن ہی چل پڑا۔ ذاتی طور پہ میں مشرف کا سخت ناقد رہا ہوں لیکن مجھے وہ دن یاد ہے جب میڈیا لال مسجد کو ریاست کے اندر ریاست بنا کے پیش کر رہا تھا۔ پھر وہ دن بھی آیا جب یہی میڈیا لال مسجد میں معصوم لڑکیوں کی ہلاکت پر بین کرنے میں جتا ہوا تھا۔ بہت سے لوگوں کو یاد ہو گا کہ تب مشرف میڈیا کی فلموں کا ولن اور نواز و زرداری ہیرو ہوا کرتے تھے۔

پھر زرداری دور آیا اور تمام توپوں کا رخ نئی حکومت کی جانب ہو چلا۔ زرداری کو آپ چور کہیں یا ڈاکو، وہ ووٹ لے کر آیا تھا اور بہرحال بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائیندگی کرنے کا مجاز تھا۔ میڈیا کے "ذرائع" عدلیہ کے سامنے ہمیشہ خرافاتی حیثیت ہی رکھتے رہے ہیں لہٰزا مسٹر ٹین پرسینٹ یا کسی اور الزام کہ باوجود میڈیا کبھی کچھ ثابت کرنے کا اہل نہیں رہا۔ اینکروں اور "تجزیہ نگاروں" کا یہ جتھا دنیا کے سامنے ریاست کا مزاق اڑاتا رہا اور ریاستی اداروں و اہلکاروں پہ الزام بازیاں کرتا رہا۔

زرداری کے بعد نواز دور آتے ہی میڈیا کے رنگ ایک بار پھر بدل گئے۔ پہلے جس قمرالزماں کائرہ کو ہر دوسرے چینل پر ذلیل کیا جاتا اب اسی کائرہ کو Expert Opinion کے لئے جگہ جگہ "مدعو" کیا جانے لگا۔ مغضوب ہمیشہ کی طرح حکومت ہی رہی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ کل کو اگر خان صاحب حکومت میں آئے تو یہی میڈیا ان کی لنگی میں سوراخ کرنے کی درپے ہو گا۔

کانسپیریسی تھیوری سے ہٹ کے، کیا یہ ہماری جڑیں کھوکھلی کرنے کا طریقہ نہیں؟ کیا میڈیا کو آزادی ہے کہ ملک میں نئی نسل کی محرومیوں کو Exploit کر کے ایک ایسی فضاء قائم کر دے جہاں ہر دوسرا شخص موجودہ حکومت سے ہمیشہ مایوس ہی رہے اور ملکی سیاست سے نفرت شروع کردے؟ کیا ہماری نارمل سوچ کو اتنا متشدد نہیں کیا جا رہا کہ ہم مشتعل ہونے کے لئے بہانے ڈھونڈنے لگیں؟ کیا ہمارے جزبات ہائی جیک کر کے ہمیں جمہوریت سے بدظن نہیں کیا جا رہا تاکہ ایک وقت ایسا بھی آئے کہ ہم کسی بھی سسٹم کو قبول کر لیں۔ کیا ہمیں بھی غیر محسوسانہ طریقے سے قذافی کا لیبیا بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں؟

ایک بار مشرف دور سے آج تک کے صحافیوں پہ نظر دوڑائیے اور سوچئے: کیا آپ کی سوچ آپ کی اپنی ہے یا پلانٹ کی گئی ہے؟

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”عالمی طاقتیں، ہمارا میڈیا اور کالی بھیڑیں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *