آیت اللہ سیستانی: جمہوریت کے نگہبان /قسط اوّل)۔۔حمزہ ابراہیم

(عرضِ مترجم: یہ مضمون پروفیسر کارولین سايج کی کتاب ”پیٹریاٹک آیت اللہ ز“ کے دوسرے باب کا ترجمہ ہے۔ حوالہ جات آن لائن نسخے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ آیت اللہ سیستانی کے نمائندے حامد الخفاف کی تدوین کردہ کتاب ”النصوص الصادرہ“، طبع ششم، بیروت، سنہ 2015ء کے حوالے مضمون میں شامل کئے گئے ہیں۔)

20جنوری 2003ءکو، عراق پر امریکی حملے کےآغاز سے دو ماہ پہلے، بش انتظامیہ نے پینٹاگون کو عراق کی سیاسی اور معاشی تنظیمِ نو کے عمل کی نگرانی کیلئے تعمیرِ نو اور انسانی امداد کا ادارہ (او آر ایچ اے) قائم کرنے کا حکم دیا۔ اس ادارے کے سربراہ جے گارنر کو بتایا گیا تھا کہ ان کی ماموریت آسان اور مختصر ہو گی۔ محکمہ دفاع کے نائب معتمد برائے حکمت عملی،ڈوگلس فیتھ نے کہا کہ نوے دن میں ایک عبوری حکومت قائم کر کے  سفارتی تعلقات بحال اور امریکی فوج کا انخلاء  شروع کر دیا جائے گا۔بش انتظامیہ امریکی عوام کو بتاتی رہی تھی کہ عراق پر طویل مدت کیلئے قبضہ برقرار رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی کیوں کہ عراقی عوام امریکی فوج کا آزاد کنندگان کی طرح استقبال کریں گے۔ خیال یہ تھا کہ صدام حسین کے بعد تعمیر نو کے امریکی منصوبوں کی کوئی مخالفت نہ ہو گی۔ اس کے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد عراق امریکہ کے سامنے ایک صاف تختی کی طرح ہو گا۔ شروع میں گارنر بعث پارٹی کو استحکام اور امن کو قائم رکھنے کیلئے باقی رکھنا چاہتا تھا تاکہ پہلے سے موجود ریاستی انتظامیہ کو ساتھ لے کر چلے، لیکن یہ رائے امریکی محکمہ دفاع کے سینئر عہدیداروں اور نائب صدر کے ہاں غیر مقبول تھی۔ ان اداروں میں امریکی حملے کے منصوبہ ساز بعد از صدام کی عراقی ریاست کی شکل گیری میں ان عراقیوں کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے تھے جنہیں صدام کے زمانے میں وطن چھوڑنا پڑا تھا۔

tripako tours pakistan

21اپریل 2003ء میں، جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد، گارنر کو اس ذمہ داری سے سبکدوش کر کے اس ادارے کو تحلیل کر دیا گیا اور 11 مئی کو نیدر لینڈ میں امریکہ کے سابق سفیر اور محکمۂ خارجہ کے سینئر افسر پال بریمر کی سربراہی میں سلطۃ الائتلاف المؤقتہ (کوالیشن پرویژنل اتھارٹی ؛سی پی اے) کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا گیا۔ 28 جون 2004ء میں عبوری حکومت کے قیام تک سی پی اے نے عراق پر بلا شرکت غیرے حکومت کی۔سابقہ تارکین وطن اور دو کرد جماعتوں کے مشوروں پر چلتے ہوئے ایک وائسرائے کے انداز میں بریمر نے بہت سے مثالیت پسندی پر مبنی فیصلے کئے جو عراق کے سماجی اور سیاسی حقائق کی بابت کم علمی اور لا تعلقی کا مظہر تھے۔ فرامین میں عراقی ریاست سے بعثی اثرات کا صفایا اور عراقی فوج کے کور کمانڈرز کو منصبوں سے ہٹانا سر فہرست تھا۔ بریمر نے بعثی اثرات کے خاتمے کے عمل پر پوری لگن سے کام کیا کہ جس کے نتیجے میں ہزاروں فوجی افسروں کو تنخواہوں اور مراعات سے محروم کر کے مستقبل میں سرکاری نوکریوں کیلئے نااہل قرار دیا گیا۔وہ عراقیوں کی اکثریت کی رائے معلوم کرنے کے کسی طریقہٴ کار کو وضع کئے بغیر معیشت کے بڑے حصے کو نجی ملکیت میں دینے، اعلیٰ تعلیم کے نظام کی تنظیمِ نو اور آزاد جمہوری ریاست کے قیام کے قائل تھے۔ ان منصوبوں پر عمل درآمد کی ذمہ داری سی پی اے کے ذیلی افسران اور پرائیویٹ کنٹریکٹرز کے کندھوں پر تھی جن میں سے اکثر کے پاس اس قسم کے کاموں کا کوئی تجربہ نہ تھا اور ان میں سے کچھ تو محض نظریاتی طور پر بریمر سے اتفاق رکھنے کی بدولت چنے گئے تھے [1]۔

بریمر نے عراق گورننگ کونسل کو ان منصوبوں کا عراقی چہرہ قرار دیا۔ ایک ایسا ڈھانچہ جسے انہوں نے یہ سوچ کر تخلیق کیا تھا کہ اس میں عراق کے تمام نسلی اور مذہبی گروہوں کی نمائندگی ہونی چاہئیے۔ارکان کو ان کی سیاسی سوچ یا پیشہ وارانہ مہارت کی بجائے گروہی تعلقات کی وجہ سے چنا گیا تھا۔ اگرچہ اس کونسل کے پاس اختیارات بہت کم تھے لیکن اس کی ترکیب نے اس روایت کی بنیاد رکھی کہ صدام کے بعد کے عراق میں آزاد جمہوریت شناخت کے خطوط پر چلے گی۔اس نظام میں ملک کی سیاسی اور انتظامی طاقت مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تفویض ہونا تھی۔

بش انتظامیہ اور میڈیا کے مرکزی دھارے سے تعلق رکھنے والے مبصرین کی طرح بریمر نے بھی فرض کر لیا تھا کہ آمریت کے عادی عراقی لوگ امریکہ کا ترتیب دیا گیا تعمیرِ نو کا منصوبہ من و عن تسلیم کر لیں گے۔ اس مفروضے میں بہت خامیاں تھیں۔ اگلے پندرہ مہینوں میں جیسے جیسے بریمر نے عراق کی تشکیلِ نو کا کام آگے بڑھایا، انہیں متعدد حلقوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بریمر کیلئے شاید سب سے زیادہ تعجب آور بات آیت اللہ سیستانی کی ان منصوبوں کے خلاف شدید مزاحمت تھی، کہ جس میں باقی تین مراجع ان کے ساتھ تھے۔ جیسا کہ اپنی کتاب کے سابقہ ابواب میں دیکھا جا چکا ہے، امید یہ تھی کہ آیت اللہ صاحبان صدیوں پرانی سکوت کی روش پر عمل پیرا ہو کر سیاست سے کنارہ کش رہیں گے۔ اس کے برعکس وہ نہایت دلچسپی سے سیاسی عمل کا جائزہ لیتے رہتے تھے اور جب ضروری سمجھتے مداخلت کرتے تھے۔ عام غلط فہمی کے برعکس آیت اللہ صاحبان صدام کے بعد کے عراق میں عوام کے حق حاکمیت، مساوات، شفافیت اور جمہوریت کے بارے میں ہونے والی بحثوں میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ [2]

اگرچہ اس باب میں ہماری توجہ آیت اللہ سیستانی پر ہو گی لیکن باقی تینوں مراجع نے جمہوری عمل کے سلسلے میں ان کے ہر اہم فتوے اور اعلامیے کی تائید کی۔ انہوں نے آیت اللہ سیستانی کے انتخابات اور جمہوری ریاست کے جواز کو قائم کرنے کے اقدام کے علاوہ 2014ء میں نوری المالکی کو تیسری بار انتخاب لڑنے سے روکنے جیسے فیصلوں کی تائید کی۔ اس باب میں آیت اللہ سیستانی پر تمرکز کرنے کا مقصد قاری کو ان کے مدبرانہ کردار کی اہمیت کا احساس دلانا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ حوزہٴ نجف کی روح اور طرز عمل کے مرکزی نمائندے کا کردار ادا کیا، اگرچہ وہ اس میں اکیلے نہ تھے۔ اس باب کو ترتیبِ زمانی کے ساتھ پیش کرنے کا مقصد قاری کو اس راستے کی سیر کرانا ہے جس پر چلتے ہوئے عراقی سیاست آیت اللہ سیستانی کے گرد متشکل ہوئی۔ یہ باب اور آیت اللہ سیستانی کا کردار قاری کو نجف اور بطور کلی عراق کی سیاسی ثقافت سے روشناس کرائےگا۔ یہ اجمالی عکاسی عراق  کی جمہوریت، فرقہ بندی اور مذہبی کرداروں کے بارے میں کچھ غلط فہمیوں کے خاتمے میں مدد دیتی ہے۔ اس کی بہترین مثال آیت اللہ سیستانی کا کام ہے۔

آیت اللہ سیستانی اور ان کے ساتھی مراجع نے سیاسی مداخلت کرتے وقت ”عراقی عوام کی مرضی“ کا پاس کیا، یہ اصطلاح وہ اکثر استعمال کرتے ہیں، اور اسی اصول کو انہوں نے عراق کے سیاسی عمل کی مشروعیت کی بنیاد قرار دیا۔ جمہوریت کے بارے میں ان کا نظریہ نہ تو مغرب سے لیا گیا تھا نہ ہی، غیر ملکی مبصرین کی رائے کے برعکس، ایران سے لیا گیا تھا، بلکہ یہ نظریۂ جمہوریت قومی وحدت، تکثر پسندی ، عوامی قبولیت، ووٹ کی تکریم اور انسانی حقوق جیسے ہمہ گیر تصورات سے مالا مال تھا۔انہوں نے بڑی دقت سے فرقہ وارانہ نظامِ حکومت کے خلاف عوامی غم و غصے کو درست سمت میں موڑ دیا۔ سر انجام یہ امریکی نہیں بلکہ آیت اللہ صاحبان تھے جنہوں نے 2003ء کے بعد عراق کی نوزائیدہ جمہوریت کی پاسبانی کی۔

چنانچہ یہ باب آیت اللہ سیستانی کے 2003ء کے بعد کے حالات میں ظاہر ہونے والے  نظریات کی لطافتوں اور باریکیوں کو نمایاں کر کے دکھاتا ہے۔ 2003ء سے 2006ء تک کے عبوری دور میں انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے بہت کام کیا کہ ریاست کی بنیاد مضبوط جمہوری اقدار اور روایات پر قائم ہو۔

ریاست میں تبدیلی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے عقلاء کے ہاں عبوری دور میں ”جمہوریت کا استحکام“ ایک نازک تصور ہے۔ اس کی فہم پر اجماع نہیں ہو سکا ہے۔ استحکام سے میری مراد یہ ہے کہ عراق میں ادارے بن گئے تھے: ایک باقاعدہ آئین لکھا گیا تھا، نئی سیاسی جماعتیں ابھر آئی تھیں، جیسے تیسے پارلیمانی سیاست شروع ہو گئی تھی، انتخابات ہوا کرتے تھے، اور قیادت میں تبدیلی آتی رہتی تھی۔ میں اس اصطلاح کو استعمال کرتے ہوئے جمہوریت کی مضبوطی یا ریاست کے بکھرنے جیسی چیزوں کے بارے میں پیشگی کوئی مفروضہ قائم نہیں کرتی۔میرا اس اصطلاح کو استعمال کرنے کا مقصد ان دو ادوار میں فرق کرنا ہے، ایک وہ عبوری دور کہ جب عراق امریکہ کے ماتحت تعمیرِ نو کے عمل سے گزر رہا تھا اور دوسرا وہ جب اقتدار عراقیوں کو منتقل کیا جا چکا تھا، اگرچہ امریکی فوج دسمبر 2011ء کے بعد نکلی۔ میری تحقیق 2003ء سے 2016ء کے درمیانی عرصے میں محدود ہے، اگرچہ مجھے معلوم ہے کہ ریاست میں استحکام پیدا ہونے کا عمل کئی عشروں پر محیط ہوتا ہے۔مزید یہ کہ میں 2007ء سے 2009ء کے درمیان عراق میں امریکی سفیر رہنے والے ریان کروکر کے اس بیان کو سنجیدہ لیتی ہوں کہ ”ہم ان کے سیاسی نظام کی بافت میں اس طرح سلے ہوئے ہیں کہ ہمارے بغیر اس نظام کا چلنا ممکن نہ ہو گا۔“ [3]

اگرچہ آیت اللہ سیستانی عراق کی سیاست کے سب سے طاقتور کردار ثابت ہوئے ہیں، لیکن جمہوریت پر ان کا پختہ ایمان اس بات کا سبب ہوا کہ وہ جمہوری عمل میں کبھی خلل نہ ڈالیں چاہے یہ ان کی آنکھوں کے سامنے ناکامیوں سے بھی دوچار ہوتا رہے۔

عبوری دور کا آغاز

بریمر صاحب شروع میں یہ سوچتے تھے کہ وہ عراقیوں کی اکثریت کی پرواہ کئے بغیر تعمیرِ نو کے منصوبوں پر عمل درآمد کر لیں گے۔ اس فہم کیلئے ان کا تکیہ احمد الجلبي اور ایاد علاوی جیسے سابقہ تارکین وطن  کے ساتھ ساتھ کرد رہنماؤں پر تھا کہ جو نسلی اورمسلکی بنیادوں پر طاقت کی تقسیم چاہتے تھے۔نئے نظام کی بنیاد تشخص کی سیاست پر رکھی جا رہی تھی، جس میں معاہدے اور اتحاد برابر کے شہری ہونے اور قومی منصوبوں سے لگاؤ کی بجائے فرقہ وارانہ شناخت کی بنیاد پر قائم ہونے تھے۔بریمر کے عراقی ساتھی یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ نظام سنی عرب اقلیت کی آمریت کے دوبارہ آ جانے کا خطرہ ٹال دے گا۔ لیکن ایک دفعہ یہ نظام رسمی حیثیت اختیار کر لیتا تو یہ فرقہ وارانہ نمائندگی کو بھی رواج دیتا اور مستقبل کی سیاسی ثقافت انہی سانچوں میں ڈھلتی۔

عراق کے مستقبل کیلئے عبوری دور نہایت اہم تھا، کہ جس میں نئی ریاست کے خد و خال واضح ہونے تھےاور یہ آنے والے عشروں میں ہونےو الے آئینی عمل کی آزمائش کا مرحلہ بھی تھا۔ صدام کی شکست کے بعد ریاست کے پرانے اداروں کی جگہ نئے ادارے لے رہے تھے، نئی فوج اور پولیس بنانے کے ساتھ ساتھ نئے سیاسی ادارے بھی قائم ہوئے۔ بریمر یہ سوچ رہے تھے کہ عراق میں ادارہ سازی مکمل ہونے سے پہلے وہ فرمان جاری کر کے حکومت چلا سکتے ہیں۔ انہوں نے سی پی اے کو ملک کا نیا آئین بنانے کا اختیار سونپ دیا۔ یہ متنازع اقدام تھا کیونکہ اس کے پہلے مسودے کی قابل اعتراض چیزوں میں یہ تجویز بھی شامل تھی کہ وہ جماعتیں جنہوں نے امریکی حملے کی مخالفت کی تھی، الیکشن میں شمولیت کی اہل نہ ہوں گی۔ پس بریمر نے عراقیوں کی ایک مجلس بنا کر انہیں ایک قومی منشور تدوین کرنے کا اختیار دیا اور عراق کی خود مختاری کو التوا میں ڈالا۔

جونہی آئین کے بارے میں بریمر کا منصوبہ ذرائع ابلاغ میں نشر ہوا، 26 جون 2003ء کو آیت اللہ سیستانی اپنے مشہور ”جمہوری فتویٰ“ کے ساتھ سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئے۔ ان سے کچھ مقلدین نے سی پی اے کی طرف سے مجلسِ آئین ساز کے ارکان کی تقرری کی بابت سوال پوچھا تھا، جن کو تمام سماجی اور سیاسی قیادتوں سے مشاورت کے بعد ایک مسودہ تیار کر کے ریفرنڈم کیلئے پیش کرنا تھا۔ آیت اللہ سیستانی نے جواب میں کہا:

”بسم اللہ الرحمن الرحیم

ان طاقتوں کے پاس مجلسِ آئین ساز کے ارکان کی تقرری کا اختیار نہیں ہے۔اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ یہ مجلس ایک ایسا آئین تیار کرے گی جو عراقی عوام کے مفادات کے مطابق ہو گا اور عراق کی قومی شناخت، کہ جس کا انحصار دینِ اسلام اور اعلیٰ معاشرتی اقدار پر ہے، کی ترجمانی کرے گا۔ مذکورہ منصوبہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ سب سے پہلے عام انتخابات کا انعقاد کیا جانا چاہئیے تاکہ ووٹ کی اہلیت رکھنے والے ہر عراقی شہری کو یہ موقعہ ملے کہ وہ اپنی نمائندگی کیلئے تأسيسي مجلسِ آئین ساز کے رکن کا انتخاب کر سکے۔اس کے بعد تیار شدہ مسودے کو عوامی ریفرنڈم کیلئے پیش کیا جا سکتا ہے۔سب مومنین کو اس اہم مقصد پر اصرار کرنا چاہئیے اور اس کو حاصل کرنے کیلئے بہترین انداز میں کوشش کرنی چاہئیے۔ خدا سب کی بہتری اور سود مندی کی طرف رہنمائی کرے!

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مہر و دستخط

علی الحسینی السیستانی

26 جون 2003ء“ [4] [النصوص الصادرہ، صفحہ 35، 36]

اس فتوے میں آیت اللہ سیستانی نے ان مراحل کی نشاندہی کی جن سے گزر کر عراق جمہوریت سے ہمکنار ہو سکتا تھا۔ انہوں نے تقرری کے بجائے براہ راست انتخابات پر زور دیا تاکہ ”ہر عراقی“ ایک متخب شدہ مجلسِ نمائندگان کیلئے رائے دینے کا مجاز ہو۔ سال بھر”ایک فرد، ایک ووٹ“ کے اصول پر عام انتخابات کے اسلوب پر زور دینے کا سلسلہ جاری رہا۔

عوام کی رائے کو شامل کرنے پر آیت اللہ سیستانی کی یہ تاکید ”جمہوری فتویٰ“ دینے سے پہلے بھی موجود تھی۔ 3 مئی 2003ء کو جب ان سے ایسا ہی ایک سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا:

”عراق میں حکومت کے نظام کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔ مرجع کا ملک کی حکومت اور اقتدار میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔“ (المرجعیہ لا تمارس دوراً فی السلطہ والحکم)

اور اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ شیعوں کو سی پی اے کے ساتھ تعاون کرنے کا کہیں گے، انہوں نے کہا:

”ہم ایسی حکومت بننے کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں جو عراقی عوام کے ارادے کا مظہر ہو اور تمام فرقوں اور نسلوں کو شامل کرتی ہو۔“ [5](الذی نریدہ ہو ان یفسح المجال لتشکیل حکومۃ منبعثۃ من ارادۃ الشعب العراقی بجمیع طوائفہ و اعراقہ [النصوص الصادرہ، صفحہ 22، 23])

Advertisements
merkit.pk

انہوں نے کسی ایک فرقے کو ترجیح نہیں دی نہ ہی شیعوں کی اس بنیاد پر طرف داری کی کہ وہ عددی اکثریت تھے۔وہ صدام حسین کے زمانے میں سنی عربوں کو باقی سب پر ترجیح دینے کے آمرانہ اقدامات کے پیش نظر بہت احتیاط اور تدبر سے کام لیتے تھے۔اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے وہ یہ سمجھتے تھے کہ صدام کا ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ والا طرز عمل اب سی پی اے کی شکل میں دوبارہ مسلط کیا جا رہا تھا، جو کہ عراق پر انگریزی قبضے کی یادگار تھا۔ (جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply