مشتری کے پراسرار گڑھے۔محمد شاہزیب صدیقی

رابرٹ ہک نے مئی 1664ء کی ایک اندھیری رات کو آسمان کی جانب اپنی ٹیلی سکوپ بلند کی، یہ اس وقت نظام شمسی کے مختلف سیاروں پر غور و فکر کی دنیا میں محو سفر تھا کہ اسے اچانک ایک چیز نے چونکا دیا… اس نے نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے، سیارہ مشتری پر ایک بہت بڑا اور گہری رنگت کا گڑھا دیکھا، اس نے یہ بات اپنے دور کے سائنسدانوں کو بتائی، اس دور کے سائنسدان اس داغ کے متعلق حتمی رائے قائم نہ کرپائے بہرحال اسی اثناء میں ان داغ دھبوں میں اضافہ ہوگیا، وقت کا پہیہ چلتا رہا 1979 میں ناسا کی خلائی گاڑی voyager-1 جبکہ 1989 میں voyager-2 اس کے علاوہ 2000ء میں کیسینی خلائی گاڑی نے مشتری کے قریب سے پرواز کرتے ہوئے ان گڑھوں کا جائزہ لیا اور اس متعلق زمین پر معلومات بھیجیں، ڈیٹا کو کھنگالنے کے بعد 19ویں صدی میں سائنسدان اس حیران کن نتیجے پر پہنچے کہ یہ داغ کوئی گڑھے وغیرہ نہیں بلکہ دراصل ایک بہت بڑا طوفان ہے جو کہ 350 سال سے مشتری پر آیا ہوا ہے اور اس کا سائز ہماری 3 زمینوں کے برابر ہے(زیرنظر تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں)،

350 سال یہ وہ وقت ہے جب سے ہم نے اسے نوٹ کیا ہے سائنسدانوں کے مطابق یہ طوفان اس سے بھی پرانا ہے، ذرا تصور کیجئے کہ ہماری زمین پر طوفان لگاتار زیادہ سے زیادہ 3 دن تک ایک خاص حصے میں قیام کرکے اختتام پذیر ہوجاتا ہے جبکہ یہ طوفان 350 سال سے بھی زیادہ عرصہ سے مشتری کی گیسی سطح پر موجود ہے اور زمین سے 3 گنا بڑے سائز کا ہے! خیر 2011 میں ناسا نے جونو مشن لانچ کیا جس کا مقصد مشتری کا چکر لگا کر معلومات اکٹھی کرنا تھا یہ مشن 2016 میں مشتری کے مدار میں داخل ہوا اور 11 جولائی 2017 کو اس نے اس طوفان کی انتہائی قریب سے تصاویر لیں اور ڈیٹا حاصل کیا جس سے معلوم ہوا کہ اس طوفان میں چلنے والی ہواؤں کی رفتار 450 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ ہماری زمین پر آنے والے شدید ترین طوفان میں ہواؤں کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے، یہ طوفان اپنے محور کے گرد ایک چکر (spin) مکمل کرنے میں چھ دن لیتا ہے، اس طوفان میں نچلی سطح پر موجود ہوائیں ٹھنڈی ہیں مگر شدید دباؤ کے باعث اس طوفان کے اوپر کا حصہ مشتری کا گرم ترین حصہ ہے اور سلفر بمعہ فاسفورس ان ہواؤں میں وافر مقدار میں ہے، اس طوفان کے اوپر موجود مشتری کی atmosphere، مشتری کے بقیہ علاقوں کی atmosphere کی نسبت 8 کلومیٹر تک اونچی ہے (یہ اونچائی ماونٹ ایورسٹ جتنی ہے اور یہ اونچائی طوفان کی شدت کے باعث ہے)!

یہ طوفان بہت ہی دھیرے دھیرے سمٹ رہا ہے مگر سائنسدان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اسے سمٹنے میں کتنے سو سال لگیں گے، اس پرسرار طوفان کے متعلق کچھ کا دعوی ہے کہ یہ مشتری کی شدید کشش ثقل کا نتیجہ ہے تو کچھ کے نزدیک اس کے کئی سو سالوں سے ختم نہ ہونے کی وجہ مشتری کی گیسی سطح ہے جہاں فرکشن نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث یہ طوفان رواں دواں ہے، بہرحال خیال جو بھی ہو سائنسدان اس پرسرار طوفان کا راز جاننے سے قاصر ہیں اور اس کی پرسراریت میں کھوئے ہوئے ہیں اور شاید آنےوالے لمبے عرصے تک یہ راز قدرت کے انہی پردوں میں دفن رہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *