مڈل کلاس ایک مطالعہ ۔ہمایوں احتشام

تاریخی مادیت کا علم ہمیں بتاتا ہے کہ انسانی سماج کے ارتقا میں قدیم اشتراکی یا پنچائتی نظام میں نہ  تو ذاتی ملکیت کا وجود تھا اور نہ ہی انسان متحارب طبقات میں منقسم ہوئے تھے جن کے مفادات ایک دوسرے کے بالکل الٹ تھے ۔ قدیم اشتراکی نظام کے بطن سے غلامانہ سماج کی پیدائش نے انسانوں کو دو بنیادی گروہوں آقاؤں اور غلاموں میں تبدیل کر دیا ۔ایک ذرائع پیداوار اور آلاتِ پیداور پر قابض دوسرا ان سے محروم ،اپنی پیداوار سے محروم ۔کرہ ارض پر فرد کے ہاتھوں فرد کے استحصال کی یہ روش جاگیردارانہ نظام میں جاگیردار اور کسان کی شکل میں ظاہر ہوئی اور سرمایہ دارانہ نظام میں اسے سرمایہ داراور مزدور کے روپ میں دیکھا جا سکتا ہے ۔مارکس اور اینگلز ہمیں بتاتے ہیں کہ لکھی ہوئی تاریخ ان طبقات کی جدوجہد کی تاریخ ہے ۔محنت کار انسان غلاموں کی بغاوتوں ، کسانوں کی بغاوتوں اور مزدوروں کی بغاوتوں کی شکل میں اپنی طبقاتی جدوجہد کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں ۔
اس تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں انسانی سماج بنیادی طور پہ دو طبقوں پر مشتمل ہے۔ ایک وہ طبقہ جو اقلیت پہ مشتمل ہے ۔ذرائع پیداوار کی ملکیت کا ’’حقدار‘‘ ہے، تمام ذرائع پیداوار اس کے زیرِتصرف ہیں اور وہ تمام پیداوار پر قابض ہے ۔اس کے بل بوتے پر عیش وعشرت کی زندگی گزارتا ہے۔ دوسرا طبقہ اس اکثریت پہ مشتمل ہوتا ہے، جس کی کوئی ذاتی ملکیت نہیں اور وہ اپنی محنت کو اجرت کے عوض ذرائع پیداوار کے مالک کو بیچ کر جینے کا مقدور بھر سامان کرتا ہے۔
اول الذکر طبقہ بورژوازی کہلاتا ہے اور موخر الذکر طبقہ پرولتاریہ کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک درمیان کا طبقہ بھی وجود رکھتا ہے، اس کو پیٹی بورڑوازی یا ادنی بوژوازی یا مڈل کلاس کہتے ہیں۔ سندھ کے ممتاز مارکسی،لیننی مفکر کامریڈ عاصم اخوند پرولتاریہ کی نہایت عمدہ تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’دراصل پرولتاریہ غریب و لاچار افراد کے کسی گروہ کا نام نہیں ہے بلکہ یہ افراد کے درمیان موجود اقتصادی اور سیاسی عمل کا اظہار ہے۔ سیاسی اقتصادیات میں پرولتاریہ سے مراد وہ طبقہ ہے جو زندہ رہنے کے لیے اپنی محنت کی صلاحیت(قوتِ محنت) بیچنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ اس کے پاس بیچنے کے لیے اور کچھ موجود نہیں ہے۔ یہ طبقہ بنیادی طور پر شہری سماج میں جنم لیتا ہے اور شہری سرمایہ دار کو اپنی قوتِ محنت کی وجہ سے بطور سرمایہ دار جینے کا جواز فراہم کر تا ہے۔ یہ اور بات کہ سرمایہ دار لٹیرے کو صرف اپنا منافع کمانے سے غرض ہو تی ہے اور وہ اسے صرف اتنا ہی معاوضہ دیتا ہے کہ وہ خاندان کی شکل میں زندہ رہ کر مزید پرولتاری پیدا کر سکے۔ سیاسی اقتصادیات کے علم کے مطابق پرولتاریہ وہ طبقہ ہے جس کی کمائی کی بنیاد اجرت (wage) ہے ۔ یعنی وہ معاوضہ  جو محنت بیچنے کے نتیجے میں اسے ملتا ہے ۔ ہمارے ہاں عام طور پر صنعتی مزدور کو ہی پرولتاریہ سمجھا جاتا ہے لیکن مارکسی علم کے مطابق آزاد محنت کش جو اپنی قوتِ محنت اجرت کی بنیاد پر فروخت کر تے ہیں وہ پرولتاریہ کہلاتے ہیں ۔ اس لیے ذہنی محنت کر نے والے بھی پرولتاریہ کے زمرے میں آتے ہیں ۔چونکہ صحافی ، دانشور، استاد اور کمپیوٹر آپریٹر وغیرہ بھی اجرت کی بنیاد پر اپنی ذہنی صلاحیت بیچتے ہیں اس لیے ان کا شمار بھی پرولتاریہ میں ہو گا، بشرطیکہ ان کے پاس کسی قسم کی ذاتی ملکیت نہ ہو۔ مغرب میں آج بھی پرولتاریہ موجود ہے کیونکہ بنیادی سماجی ڈھانچہ سرمایہ داری پر مشتمل ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج مغرب میں پیداواری عمل سائنس اور ذہن پر مشتمل ہے اس لیے وہاں جسمانی محنت کر نے والے پرولتاریہ کے مقابلے میں ذہنی محنت کر نے والے پرولتاریہ کی تعداد زیادہ ہے۔‘‘
جدید سرمایہ دارانہ نظام میں بورژوا اور پرولتاریہ طبقے کے ساتھ ایک تیسرا درمیانی طبقہ بھی وجود رکھتا ہے جو مارکسی اصطلاح میں پیٹی بورژوا کہلاتا ہے ۔پیٹی بورژوا سے مراد وہ فرد ہے جو پرولتاری ہونے کے ساتھ ساتھ ذاتی ملکیت بھی رکھتا ہو۔یہ طبقہ چھوٹے یا محدود ذرائع پیداوار کا مالک ہوتا ہے یا بورژوازی سے ادھار لے کر یا کرائے پہ محدود  ذرائع پیداوار حاصل کرکے ان کو چلاتا ہے۔ اس طبقے کے لوگ زیادہ تر ان  ذرائع پیداوار کو اپنے طور پہ چلاتے ہیں۔ یہاں ان کے اپنے خاندان کے لوگ ہی زیادہ تر اس کو آپریٹ کرتے ہیں یا کچھ افراد کو اپنے پاس ملازم رکھ لیتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ سماج میں دوہرا کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض اوقات  ذرائع پیداوار کی ملکیت کی وجہ سے انھیں سرمایہ دار تو بعض اوقات پرولتاریہ کی جگہ خود کام کرنے کی وجہ سے انھیں پرولتاریہ سمجھا جاتا ہے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ طبقہ سرمایہ دارانہ نظام کے دوبنیادی   طبقات کے ساتھ بطور تیسرا طبقہ اپنا وجود رکھتا ہے اور مارکسی اساتذہ ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ طبقہ سرمایہ دار اور پرولتاریہ دونوں کی نمائندگی کرتا رہتا ہے اوراس کے لیے اپنے طبقے کی سیاسی نمائندگی کرنا ایک دشوار عمل ہوتا ہے۔
مندرجہ بالا پیشہ جات کے لوگ مڈل کلاس میں شامل کیے جاتے ہیں۔
1۔ چھوٹے کاروباری، جو پرولتاریہ کی طرح کام کرتے ہیں لیکن اجرتی مزدور بھی رکھتے ہیں۔ ان کا دوہرا کردار پرولتاریہ اور بورژوازی کی مانندہوتا ہے ۔
2۔ پیشہ ورانہ مڈل کلاس، جو تنخواہ وصول کرتی ہے، اس صورتحال میں وہ پرولتاریہ کی طرح ہے مگر اعلی معیار زندگی کی حامل ہونے اور زبردست تنخواہ پانے کی وجہ سے یہ مزدوروں کے استحصال میں شامل ہوتی ہے اور ذاتی ملکیت کی مختلف شکلیں رکھتی ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ معاشرے میں وہ افراد جو نگرانی یا سپرویژن کا کام کرتے ہیں جیسے مختلف اداروں کے منیجرز یا فورمین بھی مڈل کلاس میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کا کام سرمایہ دار کے قدر زائد کی مقدار کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ایک ملازم کی حیثیت سے ان کے مفادات پرولتاریہ سے جڑے ہیں، کیونکہ یہ بھی استحصال زدہ ہوتے ہیں، مگر دوسری جانب یہ بورژوازی کے استحصالی ہتھکنڈوں کو روا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس استحصالی نظام کے ایک اہم ستون کا کردار ادا کرتے ہیں۔
3۔ چھوٹے کسان، جو گھوڑوں اور بیل کی مانند کام کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی زمین ہوتی ہے اور اجناس کو فروخت کرتے ہیں۔ ریاست ان کو حفاظت مہیا کرتی ہے اور لگان وصولتی ہے۔پیٹی بورژواطبقے یا مڈل کلاس کے بارے میں مارکس نے کہا تھا’’ وہ ممالک جہاں جدید تہذیب مکمل طور پہ ترقی کرگئی ہے وہاں ایک نیا طبقہ وجود میں آیا ہے جس کو مڈل کلاس کہتے ہیں ‘‘ مارکس کا خیال تھا کہ مڈل کلاس کے کامیاب ممبران بورژوازی کا حصہ بن جائیں گے اور معاشی طور پہ ناکام لوگ پرولتاریہ میں شامل ہوجائیں گے۔ پچھلے پندرہ سالوں میں ناصرف امریکہ میں بلکہ پوری دنیا میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جیسے جیسے امیر طبقے اور غریب طبقے کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے اور ویسے ویسے مڈل کلاس سکڑتی جارہی ہے۔
مارکس مزید لکھتے ہیں’’ درمیانی طبقے کے لوگوں کا سر آسمان کی طرف اور پاؤں کیچڑ میں ہوتے ہیں۔‘‘ لینن کہتے ہیں کہ’’ پیٹی بورڑوازی چھوٹی ملکیت کی مالک ہوتی ہے۔‘‘ ایک مزدور کی حیثیت سے مڈل کلاس کے مفادات پرولتاریہ کے ساتھ بھی جڑے ہیں، مگر ایک سرمایہ دار کی حیثیت سے اس کے مفادات بورڑوازی کے ساتھ بھی ملحق ہیں۔اسٹالین کہتے ہیں’’ مڈل کلاس ہونے کی وجہ سے یہ طبقہ پرولتاریہ اور بورڑاوازی کے درمیان لہراتا رہتا ہے۔‘‘ ہنگری کے ممتازکمیونسٹ نظریہ دان بیلا کن کہتے ہیں کہ ” روسی مزدور انقلاب کا پہلا اور اہم ترین اندرونی دشمن مڈل کلاس تھی۔”وہ مزید لکھتے ہیں کہ انقلاب فرانس میں پرولتاریہ کو روندنے والی بورژوازی نہیں تھی، بلکہ یہ مڈل کلاس تھی جس نے پرولتاری حکومت کو ختم کیا۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وہ کہتے ہیں ” بورژوازی کے ساتھ ہر طرح کا سمجھوتہ پرولتاری انقلاب کے ساتھ غداری ہے۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد مڈل کلاس کے ساتھ ہر سمجھوتہ، بورژوازی کی دوبارہ حاکمیت کی جانب ایک قدم ہوگا۔ کامریڈ بیلا کن ان کو پرولتاریہ کے جسم سے چمٹی جونکیں قرار دیتے ہیں۔
درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک دانشور جب مارکسی نظریہ سے انحراف کرتا ہے تو اس کی رائے میں کیسے تبدیلی آتی ہے؟ برطانوی مارکسسٹ الیکس کالنیکس اپنی تحریر ’’ مارکس ڈی فلیٹڈ ’’ میں اسی مظہر کو کھول کر واضح کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کے تاریخ دان گیرتھ سٹیڈ مین جانز نے ورنر بلوم برگ کی کارل مارکس بائیو گرافی کے انگریزی ایڈیشن کا دیباچہ 1972میں لکھا تو انہوں نے بلوم برگ کی اصلاح پسندانہ سوشل ڈیموکریٹک بنیاد پہ تنقید کی اور یہ شکایت بھی کی کہ کارل مارکس کی اہمیت بلوم برگ کے نزدیک اس کے ایک انقلابی نظریہ کے بانی ہونے کے سبب نہیں ہے بلکہ اس کے شاندار انسان پرست نظریے اور اس دور اندیشی کے سبب ہے جو اس کے کام میں جگہ جگہ بکھری نظر آتی ہے۔تقریباً 45 سال بعد، سٹیڈمین جانز ، کارل مارکس کی بائیو گرافی میں ، کہتے ہیں،‘‘ کارل (شاید اب وہ مارکس کہنے میں عار محسوس کرتا ہے) اس وقت سیاسی طور پہ بہت زیادہ موثر تھا جب اس نے نئے سوشل ڈیموکریٹک نقاط 1860ء کے وسط پہلی انٹرنیشنل میں اپنے سیاسی کردار کے حوالے سے پیش کیے اور اپنے آپ کو غالبا اپنی انقلابی کمیونسٹ جوانی سے دور رکھا۔ ’’ 1972ء میں سٹیڈمین جانز نے بلوم برگ کی جانب سے کارل مارکس پہ 1871ء کے پیرس کمیون کی افسانوی بنیاد ڈالنے کا الزام لگانے پہ تنقید کی تھی اور اب وہ اس بات سے متفق ہے کہ ’’ فرانس میں خانہ جنگی ’’ (کارل مارکس کی کتاب ) جزوی طور پہ ایک افسانوی کہانی تھی اور وہ اس بات پہ افسوس کرتا ہے کہ وہ کارل مارکس کے پیرس کمیون کے بارے میں خیالات پہ تنقید کی مذمت میں برطانوی ترقی پسند سیاسی روایت سے کٹ کے رہ گیا۔
رائے کے اس فرق کی وجہ بیان کرنا بہت آسان ہے۔ 1972ء میں سٹیڈمین جانز ایک انقلابی تھا اور اور ‘‘ نیو لیفٹ ریویو ’’ رسالے کی ایڈیٹر شپ کا سہرا بھی اس کے پاس تھا۔ لیکن 1980 اس نے اس رسالے سے علیحدگی اختیار کرلی اور اس نے پوسٹ سٹرکچرل ازم نامی ایک بوگس فلسفے کو گلے لگالیا ۔ 1983ء میں اس کی کتاب ’’ لینگویج آف کلاس ’’ شائع ہوئی، جس میں اس کی بنیادی دلیل یہ تھی کہ ‘‘طبقہ ’’ ایک معروضی سماجی رشتہ نہیں ہے بلکہ خاص قسم کی سماجی اور سیاسی تحریکوں میں غالب رجحانات کی ایک جڑت کا نام ہے۔ سٹیڈمین جانز یہی تصور کلاس /طبقہ اپنی کتاب ’’ کارل مارکس ’’ میں پھر سے دہراتے ہوئے شاید یہ نہ جان سکا کہ کلاس کے محض ایک ‘‘کہی بات ’’ ہونے کا خیال اس نسل کے لئے بالکل پرانے ہوگئے فیشن کی طرح ہے ،وہ نسل جس کے سامنے نیو لبرل دور کی مسلط کی گئی معاشی ناہمواریاں اور عدم مساوات ‘‘آکوپائے وال سٹریٹ ’’ تحریک کے نعرے نے ایک فیصد بمقابلہ 99 فیصد کی شکل میں بہت کھول کر رکھ دیا ہے۔ (جگراتی شمارہ اکتوبر 2015)
ایسے میں مڈل کلاس موقع  پرستی واضح طور پہ آشکار ہوجاتی ہے۔ یہی مڈل کلاس ہوتی ہے جس کا خیال ہوتا ہے کہ امیروں کی حاصل کردہ دولت کرپشن کا حاصل جمع ہے مگر غریبوں کی غربت میں ان کی کام چوری، سہل پسندی اور بزدلی کا ہاتھ ہے۔ اس جگہ وہ اس بات کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں کہ بل گیٹس، مانسانتو جیسے ادارے اور لوگ دراصل اپنے دولت کے ذخائر کو مزید بڑھانے کے لیے چیرٹی اور غریبوں کی فلاح جیسے ڈھونگ رچاتے ہیں۔ اسی بناپر اکثراس طبقے کو امراء کی کاسہ لیسی اور غریبوں سے نفرت کرنے والا منافق تسلیم کیا جاتاہے۔ بہرکیف عالمی کمیونسٹ تحریک اور قومی آزادی کی سامراج مخالف تحریکوں سے ایسی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں کی پیٹی بورژوا طبقے سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد انقلابی اور قومی آزادی کی تحریکوں کا حصہ بنے ،اس راہ میں قربانیاں دیں اور محنت کش طبقے کی نجات کی جدوجہد میں بورژوازی کے مظالم کا سامنا کیا ۔انقلابات کی کامرانیوں میں کردار ادا کیا اور بعد ازاں اس کی تعمیر ترقی میں ثابت قدمی سے حصہ بھی لیا ۔
دوسری جانب اسی طبقے کا یہ قوی رحجان بھی نظر آیا کہ کس طرح اس نے انقلاب کے مقاصد سے غداری کی ، بورژوازی سے مل گیا ،نظریاتی انحرافات کا مظاہرہ کیا گیا ۔یعنی اس طبقے کی نفسیاتی ساخت اور تانے بانے اس خوف کی غمازی کرتے ہیں کہ کسی نا کسی طرح وہ اپنی حیثیت سے نیچے پرولتاریہ طبقے میں نہ چلا جائے اس کی نظریں ہمیشہ اوپر بورژوازی کی طرف ہوتی ہیں ۔خود ہم نے پاکستان میں کتنے مڈل کلاسیے دیکھے ہیں جو سوویت یونین اور عالمی کمیونسٹ بلاک اور انقلابی تحریک کی موجودگی میں اپنے لیے امکانات دیکھتے ہوئے’’مہا انقلابی ‘‘بنے پھرتے تھے لیکن سوشلسٹ بلاک کے خاتمے اور تحریک کی کمزوری کے بعد انھوں نے جو گل کھلائے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔یہ کبھی کھلے بندوں مارکسزم ،لیننزم کو اپنی بے جا تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لبرل ازم ،سامراجیت کی نمائندگی کرتے ہیں تو کبھی ڈھکے چھپے لفظوں میں دوست یا محقق کی حیثیت سے حملہ آور ہیں، ہوتے ہیں۔گنی بساؤ کی قومی آزادی کی تحریک کے ممتاز رہنما کامریڈ امیلکار کیبرال کے بقول’’پیٹی بورژوازی کی ناگزیر حیثیت ہمارے ہاں کی صورتحال میں قومی آزادی کی تحریکوں کی کمزوریوں میں سے ایک ہے ۔‘‘یعنی آخری نتیجے میں یہ کوئی طے شدہ امر نہیں کہ پیٹی بورژوا طبقہ ہر حال میں ردِ انقلابی ہوتا ہے ۔اس طبقے سے تعلق رکھنے والے نظریاتی پختگی کے حامل انقلابیوں کی جدوجہد، قربانیاں اور ثابت قدمی عالمی کمیونسٹ تحریک کا شاندار ورثہ ہے ۔

ہمایوں احتشام
ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *