• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سعد حریری کا جبری استعفٰی اور مشرق وسطٰی کا مستقبل۔۔۔ سید اسد عباس

سعد حریری کا جبری استعفٰی اور مشرق وسطٰی کا مستقبل۔۔۔ سید اسد عباس

یمن اور قطر کے داخلی معاملات میں مداخلت کے بعد سعودیہ کا اگلا شکار لبنان ہے۔ سعودیہ کو یمن اور قطر میں اپنا تسلط ثابت کرنے میں خاصی ناکامی ہوئی، جس کا خمیازہ بہرحال قطر اور یمن کو بھی اٹھانا پڑا۔ خلیج کی باقی ریاستیں سعودی کاغذوں میں اس قدر خود سر نہیں ہوئیں یا ان کے امتحان کا وقت ابھی نہیں آیا، تاہم لبنان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری جو رفیق الحریری کے منجھلے بیٹے ہیں اور سعودی و لبنانی شہریت کے حامل ہیں، چار نومبر کو سعودیہ پہنچے۔ وہاں جاتے ہی انہوں نے سعودیہ کے سرکاری ٹی وی چینل پر اپنے استعفٰی کا اعلان کیا اور اس کی وجہ ایران نیز حزب اللہ کی ملکی معاملات میں مداخلت اور اپنے خلاف ہونے والی قتل کی سازشوں کو قرار دیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ان کے والد رفیق الحریری لبنان میں قتل کئے جا چکے ہیں، جس کی تحقیقات اب تک کسی نتیجہ سے ہمکنار نہیں ہو پائیں۔ کثیر المذہب معاشرہ ہونے کے سبب لبنان میں فرانس کے اخراج کے وقت سے ایک ایسا سیاسی نظام تشکیل دیا گیا تھا، جس میں تمام مذاہب کو اہم حکومتی عہدے دیئے جاتے تھے۔ ملک کا صدر عیسائی مذہب کا پیروکار ہوتا ہے، وزیراعظم سنی المسلک مسلمان اور قومی اسمبلی کا سپیکر شیعہ مسلک کا مسلمان ہوتا ہے۔

وزیراعظم کا جھکاؤ عموماً سعودیہ کی جانب ہوتا ہے۔ ایک جانب وہ سیاست کرتا ہے اور دوسری جانب سعودیہ میں اپنے مالی مفادات کو پالتا ہے۔ پہلے وزیراعظم حسین اوینی سے لے کر سعد حریری تک تمام وزرائے اعظم لبنان کے ساتھ ساتھ سعودیہ کے شہری تھے اور ان کے مالی مفادات بھی سعودیہ سے ہی وابستہ رہے۔ لبنان فرانس سے آزادی کے وقت سے ہی داخلی اور خارجی مسائل کا شکار رہا۔ اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے اور فتح بریگیڈ کے اردن سے انخلا کے بعد فلسطینی مجاہدین اور پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد لبنان میں پناہ گزین ہوئی، بلکہ لبنان کو ایک زمانے میں ’’فتح کی سرزمین‘‘ بھی کہا گیا، کیونکہ وہاں پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً تین لاکھ کے قریب تھی۔ فلسطینی جنگجو لبنانی فوج کی نسبت کافی طاقتور تھے اور انہوں نے اپنے پناہ گزین کیمپوں کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ یہ فلسطینی لبنان کی سرزمین سے اسرائیل پر حملے کرتے، جس کے جواب میں اسرائیلی لبنان کے سرحدی دیہاتوں پر حملے کرتے۔ 1975ء میں لبنان میں جب مذہبی خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو اسرائیل نے فلسطینی حملوں سے نجات کے لئے وہاں موجود گروہوں کو ہتھیار مہیا کرنے شروع کئے، جو فلسطینی کیمپوں اور مجاہدین پر حملے کرتے تھے۔ یوں یہ جنگ پھیلتے پھیلتے پورے لبنانی معاشرے تک پھیل گئی اور اس کا سلسلہ 1990ء تک جاری رہا۔

لبنانی معاشرے میں تقریباً ہر مذہب کے پیروکاروں نے مسلح گروہ تیار کئے۔ عیسائی، دروزی، سنی، شیعہ، فلسطینی اور غیر مذہبی یا مسلکی گروہ بھی اس جنگ میں فعال ہوگئے۔ اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں جانوں کا ضیاع ہوا اور املاک و معیشت کا نقصان اس کے علاوہ تھا۔ اسی دوران میں اسرائیل نے لبنان پر چڑھائی کر دی اور بیروت اسرائیلی افواج کے گھیرے میں آگیا۔ ایک جانب خانہ جنگی دوسری جانب بیرونی دشمن نے لبنان کی رہی سہی کسر نکال دی۔ ایسے میں 1985ء میں حزب اللہ کا قیام عمل میں لایا گیا، جس نے اپنے قیام کا مقصد مقاومت بیان کیا اور اسرائیلی افواج پر گوریلا حملوں کا آغاز کیا۔ 1990ء تک لبنان میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوگیا اور خانہ جنگی کے بعد لبنان کی پہلی پارلیمنٹ کا انتخاب عمل میں آیا۔ اس انتخاب میں حزب اللہ نے 128 میں سے دس نشستیں جیتیں۔ 2000ء تک اسرائیل حزب اللہ کی جانب سے گوریلا حملوں کے نتیجے میں حزیمت کا شکار ہوا اور خود ہی اقوام متحدہ کی متعین کردہ سرحدوں پر واپس چلا گیا۔ لبنان میں یہ دن یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ اب بھی جاری رہتا ہے، بلکہ 2006ء میں اسرائیل نے لبنان پر دوبارہ قبضے کی بھی کوشش کی، جسے حزب اللہ نے بری طرح ناکام بنا دیا۔ اسرائیل نے فضائی، بحری اور زمینی افواج کو لبنان پر قبضہ کے لئے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ حزب اللہ نے ان تینوں اطراف کے حملوں کو جنگی حکمت عملی کے تحت ناکام کیا اور اسرائیل ایک بھاری نقصان اٹھا کر لبنان چھوڑ کر فرار کرنے پر مجبور ہوا۔

2006ء کی جنگ میں حزب اللہ نے اسرائیلی سرحدی علاقوں اور بحری سرحدوں پر راکٹ حملے کئے، جو اسرائیل کے لئے بالکل نئے اور حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کی نشاندہی کرتے تھے۔ 2006ء کے بعد بھی حزب اللہ اور اسرئیل کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا، تاہم اسرائیل کو پھر کبھی جرات نہ ہوئی کہ لبنانی سرزمین پر قدم رکھے۔ حزب اللہ نے اس عرصے کے دوران میں اپنے بہت سے قیدی اسرائیل سے واپس لئے، جن میں عیسائی، سنی اور دیگر مذاہب کے لبنانی قیدی بھی شامل تھے۔ اپنی اتنی بڑی کامیابیوں، فلاحی کاموں، لبنان کی سیاسی، اقتصادی اور قومی پیشرفت میں حزب اللہ لبنان کے مثبت کردار کے سبب آج حزب اللہ کو ملک میں ایک وفاقی قوت کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے، جسے دشمن کی جانب سے مسلسل داغدار کرنے اور اس پر طرح طرح کے الزامات لگا کر اسے کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سعد حریری کے والد اور سابق لبنانی وزیر اعظم کا قتل بھی اسی قسم کی ایک کاوش تھی، جس کا الزام حزب اللہ لبنان پر دھرا گیا، تاہم اب تک کی تحقیقات میں ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہو پائی۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 2006ء میں لبنان پر حملے کے بعد میں دبئی میں تھا، وہاں موجود تمام عرب کارکنان حزب اللہ اور حسن نصر اللہ کے شیدائی تھے۔ اس کی بڑی وجہ اس تنظیم کی اسرائیل کے مقابلے میں مقاومت اور لبنان کی آزادی و خود مختاری کے لئے قربانیاں تھیں۔ حزب اللہ کی عرب معاشرے میں بڑھتی ہوئی شہرت عرب حکمرانوں کو ٹھنڈے پیٹوں کہاں ہضم ہوسکتی تھی، اس گروہ کو کبھی مسلکی فوج کے طور پر پیش کیا گیا تو کبھی انہیں ریاست کے اندر ریاست کا عنوان دیا گیا۔ شام کی جنگ نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور عرب نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کرنے کی کوشش کی گئی کہ حزب اللہ ایک شیعہ ملیشیا ہے، جو ایران کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ تاہم آج یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر حزب اللہ نے بروقت شام میں مداخلت نہ کی ہوتی تو اس وقت یہ خطہ داعش کے زیر تسلط ہوتا اور اردگرد کے ممالک بھی اس آفت سے محفوظ نہ ہوتے۔ 4 نومبر 2017ء کا دن حزب اللہ کے خلاف کی جانے والی سازشوں کے عنوان سے ایک اور دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب لبنان کے وزیراعظم نے اپنے ملک سے باہر جا کر، بلکہ درست لفظ یہ ہے کہ طلب کئے جانے پر اپنی کابینہ یا صدر کے سامنے نہیں بلکہ لبنانی عوام کے سامنے اپنا استعفٰی پیش کیا اور اس استعفٰی کا ذمہ دار ایران کی لبنان میں مداخلت اور حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے رسوخ کو قرار دیا۔

سعد حریری کے اس اچانک بیان نے پوری لبنانی قوم اور دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا، تاہم جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، اصل حالات پر سے پردہ اٹھ رہا ہے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ سعد حریری جو کچھ ہی عرصہ قبل شاہ سلمان سے مل کر واپس گئے تھے، کو دوبارہ کیوں بلوایا گیا، یہ بھی کہ سعد حریری جب ائیر پورٹ پر اترے تو کوئی سعودی ہم منصب ان کا استقبال کرنے والا کیوں نہ تھا، ان کے طیارے کو سکیورٹی کے اداروں نے گھیرے میں کیوں لیا؟ یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ سعد حریری کا اپنی پارٹی یا کسی دوسرے لبنانی سے کوئی رابطہ نہیں ہے، یعنی وہ نظر بند ہیں اور ان سے یہ بیان زبردستی دلوایا گیا۔ سعد حریری کی نظر بندی کی خبر اب لبنان میں جنگل کی آگ کی مانند پھیل چکی ہے اور پوری قوم ان کی واپسی کی منتظر ہے۔ لبنانی صدر کا بھی کہنا ہے کہ جب تک وہ واپس نہیں آتے، اس وقت تک ان کا استعفٰی قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اپنے استعفٰی کے آٹھ روز بعد سعد حریری ایک ٹی وی چینل پر ظاہر ہوئے، جس کو دیکھ کر واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ کوئی ان سے انٹریو دلوا رہا ہے۔ ایک لبنانی ٹی وی چینل کو ان سے ریاض میں انٹرویو کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جس سے ان دعووں کو تقویت ملتی ہے کہ سعد حریری سے استعفٰی دھونس کے تحت دلوایا گیا۔ سعد حریری لبنانی شہریت کے ساتھ ساتھ سعودی شہریت کے بھی حامل ہیں اور ان کا پورا خاندان سعودیہ میں ہی رہائش پذیر ہے۔ علاوہ ازیں سعد حریری سعودیہ میں کاروبار بھی کرتے ہیں۔ سعودیہ کے موجودہ حالات جبکہ 200 سے زائد سعودی شہری جن میں تقریبا گیارہ اہم شہزادے بھی شامل ہیں، کی گرفتاری اور قریباً سات سو کے قریب اکاونٹس کے انجماد کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ سعد حریری بھی ایسے ہی کسی دباؤ سے دوچار ہوئے اور انہوں نے سعودیہ کے سرکاری ٹی وی پر استعفٰی کا اعلان کیا۔

اس سلسلے میں بہت سی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں۔ سعودیہ اور خطے کے اہم دشمن اسرائیل کی یقیناً کاوش ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے رسوخ اور کردار کو چیلنج کیا جائے اور اس سلسلے میں وہ لبنانی معاشرے کی کثیر المذہبی حیثیت کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ لبنان کے سنی، دروزی اور عیسائی حزب اللہ کے خلاف کھڑے ہو جائیں، تاہم اس منصوبے میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہوسکی اور اس وقت پوری لبنانی قوم یک آواز ہو کر سعد حریری کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مشرق وسطٰی کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودیہ کا اگلا مہرہ اسرائیل کی لبنان میں براہ راست مداخلت ہوسکتا ہے، جس کا تذکرہ گذشتہ دنوں سید حسن نصراللہ نے بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی تجزیہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ سعودیہ اسرائیل کو اکسا رہا ہے کہ وہ لبنان میں براہ راست مداخلت کرے۔ بہرحال تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ یا لبنان پر براہ راست حملہ اب اتنا آسان نہیں ہے اور اسرائیل اس میدان میں متعدد بار منہ کی کھا چکا ہے۔ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ سعودیہ کی معاشی و سیاسی بے چینی اسے ایسے دلدل میں دکھیل رہی ہے، جس سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ یمن، قطر اور لبنان وہ ہاتھوں سے دے چکا ہے، اندرونی طور پر خاندان آل سعود تقسیم کا شکار ہے۔ معاشی میدان میں روز افزوں تنزلی ملک کو قرضوں کی جانب دھکیل رہی ہے۔ کاروباری افراد کے لئے سعودیہ ایک مستحکم ملک نہیں رہ گیا۔ ایسی صورتحال میں یمن کی جنگ کا بوجھ اس پر مستزاد، ایک نئی جنگ کا آغاز یقیناً سیاسی خودکشی ہے، جو سعودیہ خود کر رہا ہے یا اس سے کروائی جا رہی ہے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، تاہم مشرق وسطی کے لئے اس میں خیر کی کوئی خبر نہیں۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *