ماضی کےجھروکوں سے”میرا وزیرستان”۔عارف خٹک

میرانشاہ، میرعلی، چشمے، عیدک، خیسور، رزمک، موسکی، حیدرخیل، عیسوڑی، کرم کوٹ، مچی خیل، خدی اور بیرمل جہاں خون کی ندیاں بہائی گئیں۔ جہاں طالبانائزیشن اور ملکی سلامتی کے نام پر وہ قتال ہوا،کہ شاید ہی تاریخ ہمیں معاف کرسکے۔
میں نےاس وزیرستان میں بچپن گزارا ہے۔جہاں خوشیاں تھیں،امن تھا اور سانجھے دکھ سُکھ تھے۔ میں غیر قبائلی بچہ تھا،مگر کبھی احساس ہی نہیں ہوا،کہ میں ان سے الگ ہوں،یا ان کی نظروں میں کبھی اجنبیت کی جھلک تک محسوس نہیں کی۔ہر شام جوان لڑکے اپنی ٹوپیوں میں گُلاب کے پھول سجاکر شام کو میرانشاہ اور میرعلی کے بازاروں میں زندگی کی خوشیاں مناتے تھے۔

یہ دنیا کے واحد باسی تھے،جو اپنی کلاشنکوف کی نال میں گلاب کے پھول سجاکر اتنڑ ڈالتے تھے۔ جہاں گولیوں کی آوازیں تو گونجتی تھیں۔مگر یہ آوازیں خوشیوں کی ہوتی تھیں۔ داوڑ قبیلے کی وہ سکول جاتی ننھی منی بچیاں کیا غضب ڈھاتی تھیں۔مگر اچانک امریکہ کے ٹاور کیا گرا دیے گئے۔ساتھ میں میرے وزیرستان کو ان کے خوبصورت رسم و رواج سمیت گرا دیا گیا۔آج کچھ پُرانی تصاویر دیکھ کر پتہ نہیں میرےاُداس چہرے پر مسکراہٹ کہاں سے آگئی۔چلو آپ کو لےکر چلتا ہوں 1996 کے وزیرستان میں،تاکہ آپ بھی تھوڑا سا مسکرا لیں۔

میں غالباً فرسٹ ائیر میں تھا اور ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا. عبدالرحمن اور زاہد  نور میرے روم میٹس تھے. عبدالرحمن ہم سے ایک کلاس سینئر تھے  اور زاہد نور تو میرا بچپن کا کلاس فیلو تھا۔ہم دونوں تیسری کلاس سے لے کر بارہویں تک ہمیشہ ہم نشست اور ہم جماعت رہے تھے۔


پوسٹ گریجویٹ کالج میرانشاہ جس کی اونچی دیواریں ایک ماں کی بانہوں کی طرح تحفظ دیتی تھیں۔ہمارے ہاسٹل کے کیئر ٹیکر محمد عالم وزیر عرف مدالام تھے.انتہائی کرپٹ بندے تھے۔ ہم لڑکوں سے ہر ہفتہ میس کے پانچ سو روپے چارج کرتے تھے اور روزانہ کی بنیاد پر نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ شلغم اور ساگ کھلایا کرتے تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ موصوف یہ شلغم بوریوں کے حساب سے فرنٹیئر کور ٹوچی اسکاؤٹس کے باغیچے سے چرایا کرتے تھے۔جو کالج کی پرلی دیوار کے ساتھ متصل تھا۔ موصوف جمعرات کو ہاسٹل کے باورچی زانگ گل کےساتھ اس باغیچے پر ہلہ بول دیتے،اور بوریوں کے حساب سے شلغم، پیاز، ٹماٹر اور ساگ اُٹھا کر لے آتے  اور پھر یہ ساری سبزیاں ہمیں کھلاتے رہتے۔فی لڑکا پانچ سو روپیہ چارج کرتا تھا ہفتہ وار۔ ہماری تو شکلیں تک ان سبزیوں جیسی ہوگئیں تھی۔ میں تو پہلے ہی تنگ آیا ہوا تھا۔ اُوپر سے موصوف کالج پرنسپل کے بھتیجے بھی تھے،اور لڑاکے  بھی تھے۔ لہذا کوئی ان کو کُچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ ایک دن میں نے فیصلہ کیا،کہ اب مدالام کو سبق سکھانا ضروری ہوگیا ہے اور سبق بھی ایسا کہ ساری زندگی یاد رہے۔

الحمداللہ اس زمانے میں افغان جہاد کی برکت سے وزیرستان میں اسلحے کی بھرمار تھی،اور قلم پستول سے لے کر روسی میزائل تک ہر چیز باآسانی دستیاب تھی۔پہلے تو سوچا کہ ٹائم بم رکھ دوں ،مگر اس میں قباحت یہ تھی کہ پورا ہاسٹل اُڑ جاتا۔ ہاسٹل اگر اُڑتا بھی تو کوئی فکر کی بات نہ تھی مگر اس میں رسک یہ تھا کہ اس ہاسٹل میں،میں بذات خود موجود تھا،سو یہ رسک نہیں لیا۔ کافی غوروخوض اور مشوروں کے بعد عبدالرحمن سے ایک کریکر منگوایا گیا اور رات کے آخری پہر مدالام کے کمرے کے دروازے کے سامنے کاغذات میں لپیٹ کے رکھ دیا گیا۔ساتھ میں اُلٹے ہاتھ کی لکھائی سے ایک بہترین اور جان لیوا قسم کی دھمکی بھی سامنے والی دیوار پر چسپاں کردی گئی۔رات تین بجے عبدالرحمن نے مجھے مشن کے لئے نیند سے اٹھایا،تو میں نے جا کر کریکر کو آگ لگا دی. تیس سیکنڈ کے بعد کانوں کے پردے پھاڑنے والا ایسا زوردار دھماکہ  ہوا کہ خدا کی پناہ. کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹے،اور میں کمبل لپیٹ کے سو گیا۔

پورے ہاسٹل والوں کے ہاتھ پیر پُھول گئے،مدالام چیخنے لگا، کہ حملہ آور کو اس نے دیکھا ہے اور وہ پرلی طرف بھاگ گیا ہے.یہ سُن کر میں مزید سکون سے سو گیا۔ مدالام کی طبیعت کا مُجھے اندازہ تھا کہ وہ عملی کام کی بجائے شور مچانے پہ زیادہ یقین رکھتا ہے۔ میری عادت تھی،جب کالج کے سارے پیریڈز ختم ہوجاتے تو نیند سے میری آنکھ کُھل جاتی۔ ہفتے میں اگر مجبوراً ایک بار کلاسزز اٹینڈ کرنے جاتا تو اساتذہ کرام مجھے سپیشل پروٹوکول دیتے۔بلکہ فزکس کا ٹیچر تو باقاعدہ اُٹھ کر پوری کلاس سمیت “گڈ مارننگ سر” کہتا۔جواباً میں مارننگ کہہ کر سب سے آخری نشستوں پر بیٹھ جاتا اور رات کو ادھورا چھوڑا گیا ناول کھول کر دوبارہ وہیں سے شروع کرلیتا۔

 

میں ایک بار صبح سویرے اٹھا تھا بلکہ اٹھایا گیا کہ  آج نو بجے ایک بارہ سالہ لڑکی انگریزی میں تقریر کرنے کالج تشریف لارہی ہے۔ مردانہ کالج میں ایک لڑکی کا آنا وہ بھی میرانشاہ جیسے علاقے میں۔ سب سات بجے کے اٹھے ہوئے بال سنوار رہے تھے۔ ساڑھے نو بجے کالج کے مرکزی ہال میں چلا گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بارہ سالہ بچی فرفر انگریزی میں کچھ بول رہی تھی اور جس اعتماد کے ساتھ وہ لہک لہک کر اور ہاتھ نچا نچاکر تقریر کررہی تھی۔ میں نے اسی وقت پیشن گوئی کردی کہ یہ بچی بڑی ہوکر نام کمائے  گی  اور  آج دیکھ لو دنیا اسے عائشہ گلالئی کے نام سے جانتی ہے مگر ایک بندہ اس کے جاننے سے انکاری ہے وہ عمران خان صاحب ہیں ۔

خیر علی الصبح ہاسٹل وارڈن سب لڑکوں کی ہینڈ رائیٹنگ اسی دھمکی والی رائیٹنگ سے میچ کررہا تھا۔مگر میں حسب معمول سو رہا تھا۔جب مُجھے نیند سے اُٹھایا گیا۔تو میں خاصا ناراض ہوا. غصے میں مدالام سے پوچھا، کہ کیا ہوا؟مجھے کیوں اُٹھایا گیا ہے؟تو وہ حیرانگی سے بولا کہ رات کو مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے،اور آپ کو ابھی تک پتہ ہی نہیں ہے؟جاہل و سست انسان ۔۔اور وارڈن سے کہا،چھوڑو صاب یہ بیکار اور سُست بندہ ہے. اس کو کیا معلوم کہ آس پاس کی دنیا میں ہوکیا رہا ہے  اور شکل سے ہی ڈرپوک لگتا ہے۔یہ کیا جانے بم یا کسی کی جان لینا ۔

اس دن کے بعد مدالام سب کی نظروں میں ہیرو بن گیا۔ روز پولیٹیکل انتظامیہ والے انھیں بلاتے کہ کس پر شک ہے۔ ایف سی کے مقامی انٹیلیجنس یونٹ والے الگ ان سے ملاقاتیں کرتے رہتے۔ سو محمد عالم عرف مدالام سینہ چوڑا کیے ہر جگہ بڑے فخر سے گھومتا تھا۔کہ دیکھو میں بھی اس قابل ہوگیا ہوں،کہ لوگ میری جان تک لینا چاہتے ہیں۔۔
یہی حالت آج کل یورپ میں بیٹھے کچھ دانشوروں کی ہے۔جنھیں پولیس نے فقط اس بات پر اٹھایا تھا کہ وہ پڑوس کی رضیہ کو گندے گندے اشارے کرتے تھے۔ سو اپنا نام لاپتہ افراد میں درج کروا کر آج کل پاکستان پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔

Save

Save

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *