بیاد نذیر احمد چوہدری۔۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

  1970 میں مجھے ملتان سے لاہور تک جاتے پرولتاریہ اور مارکسزم سے متعارف کروانے والا، 2000 میں پٹس برگ، پنسلوانیا کے اپنے تین میں سے ایک سیون الیون سٹور کے بیک آفس میں بیٹھا ہوا مجھے سنجیدگی سے بتا رہا تھا کہ سرمایہ داری میں مالک اور ملازم کا رشتہ، آقا اور غلام کا ہوتا ہے۔ یہاں کام کرنے والے میرے غلام ہیں۔ میں سمجھا وہ مذاق کر رہا ہے، مگر وہ تو وہ بہت سنجیدہ تھا۔ اس کی پہلی بیوی سے جو پاکستانی اور رشتے دار تھی، پیدا ہوا اس کا بیٹا بھی سٹور میں کام کر رہا تھا، میں نے پوچھا کیا تمہارا بیٹا بھی تمہارا غلام ہے۔ جواب دیا کہ ہاں وہ بھی غلام ہے۔ میں نے کہا کہ فیاض باقر بھی تمہارے پاس کام کرتا رہا ہے۔ کہنے لگا ہاں جب وہ یہاں کام کرتا تھا تب وہ بھی میرا غلام تھا۔ میں جز بز ہو گیا تھا۔ میں ویسے بھی امریکہ جانے کا سوچ رہا تھا لیکن جب سے شمعون سلیم نے مجھے بتایا تھا کہ ہمارا مشترکہ دوست نذیر احمد چوہدری، جرمنی میں نہیں بلکہ اپنی مشرقی جرمن اہلیہ اور دو بیٹوں کے ساتھ کافی عرصے سے امریکہ میں مقیم ہے اور تجھے بہت یاد کرتا ہے، تو میرا امریکہ جانے کا خیال محکم ہو گیا تھا۔ سوچا تھا، دوست کے پاس کام کرنے میں کونسی برائی ہے، کچھ عرصہ اس کے پاس کام کرلوں گا مگر اس کے پاس پہنچ کر اور ایسی باتیں سن کر میرا ارادہ ہوا ہو گیا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ تم جلد سرمایہ داری کو سمجھ جاؤ گے۔

سرمایہ داری کو سمجھ لو گے تو یہاں چھا جاؤگے۔ پھر مجھے مشورہ دیا کہ میڈیکل کی کسی فیکلٹی کی سپیشیلیٹی میں داخلہ لے لو یعنی اس نے خود ہی مجھے کوئی اور راستہ اختیار کرنے کو کہہ دیا تھا۔ میں 1974 کے بعد اس سے مل رہا تھا۔ شاید ہم دونوں کی سوچ میں فرق آ گیا تھا۔ ایک رات کے قیام کے بعد ہی ہم دونوں میں کشیدگی سی پیدا ہو گئی تھی۔ درحقیقت ہم دونوں اپنے اپنے مزاج میں فیوڈل تھے۔ بس پھر ایسے ہوا کہ ہمارے تعلقات نہ رہے۔ اس نے عوامی جمہوری فورم نام کے رسالے کو انٹرویو دیا جس میں اس نے بہت سی باتیں وہ کیں جو میرے خیال میں درست نہیں تھیں، میں نے جواب آں غزل کے طور پر اپنی جانب سے صراحت کر دی۔ اس کو شاید مزید برا لگا، تبھی شمعون نے پھر کبھی اس کی بات مجھ سے نہیں کی۔ وہ بھی بہت سے دوسروں کی طرح خود سرمایہ داری میں ملوث ہو کر خیالات سوشلسٹ ہی رکھتا تھا۔ کل جب زاہد اسلام نے ایک پوسٹ میں صوفی مشتاق (مشتاق صوفی نہیں ) سے پوچھا کہ ” نذیر چوہدری کے بارے میں معاملہ کیا ہے” تو میں مضطرب ہو گیا۔ فوراً” زاہد اسلام کو لکھا کہ کیا ہوا ہے اسے؟ پھر شمعون کی ٹائم لائن پر گیا مگر وہاں اس بارے میں کچھ نہیں تھا۔ ایک منٹ بعد ہی شمعون کی پوسٹ ” کی بھروسہ دم دا ” سے پتہ چلا کہ فریڈ اور مارٹن کا باپ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ شمعون کے مطابق پروفیسر عزیزالدین احمد صاحب کو کسی نے اطلاع دی تھی کہ نذیر کو دل کا دورہ پڑا تھا، ہسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ جانبر نہ ہو سکا۔ جب وہ مجھے پہلی بار ملا تھا تب وہ اول جلول، لمبا تڑنگا، ایک پاؤں کو دبا کر چلنے والا نذیر چوہدری تھا جس نے کالے پلاسٹک سے بنے پرانے طرز کے فریم والی موٹے شیشوں کی عینک لگائی ہوئی تھی۔ پرانے ہوتے ہوئے مٹی لگے بوٹ پہنے ہوئے تھے۔ مسلسل سگریٹ پیتا تھا۔

بعد میں پتہ چلا تھا کہ اس طرح وہ ڈی کلاس ہو رہا تھا، ویسے وہ ذات کا چوہدری تھا، زمیندار۔ پھر جب وہ مجھے پٹس برگ میں “گرے ہاؤنڈ” کے اڈے پر لینے آیا تھا تب اس کے پاس نئی ایس یو وی تھی۔ کپڑے جوتے بہت مناسب اور مہنگے تھے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے مجھ سے کہا تھا کہ تم نہ گاڑی میں سگریٹ پیو گے نہ گھر کے اندر۔ اس نے سگریٹ چھوڑ دیے تھے کیونکہ اسے ایک بار ایمفائسیما ہو چکا تھا۔ میں نذیر کی رحلت پر بہت دکھی ہوں۔ سوچنے لگا ہوں کہ جب یاروں نے چلا ہی جانا ہوتا ہے پھر کسی روز ہم نے خود بھی تو پرخاش کیوں رکھی جائے۔ اپنی انا کو دوسرے کی انا سے کیوں متصادم کیا جائے۔ مگر کیا کیا جائے ہم روبوٹ نہیں ہیں۔ لوگ چلے جاتے ہیں تو قلق ہونے لگتا ہے۔ کچھ وقت گذر جاتا ہے تو ہم اپنے قالب میں لوٹ آتے ہیں۔ مجھے نذیر یاد آ رہا ہے، جس کے ایک ہی نظریاتی ہلے میں میں گھائل ہو گیا تھا اور اس کی ہدایت پر میں نے نشتر میڈیکل کالج کے ہوسٹل سینا ہال میں دوسری منزل پر واقع اپنے کمرے کے دروازے پر اس کا دیا گیا این ایس او ( نیشنلسٹ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ) کا بڑا سا سرخ، سیاہ اور سفید پوسٹر لگا کر نشتر میں پہلے سے موجود بائیں بازو کی طالبعلم تنظیم این ایس ایف کے مدمقابل این ایس او کی بنیاد رکھ دی تھی۔ مجھے سمجھانے کے لیے محبوب مہدی، عزیز نیازی، تنویر اور دوسرے پہنچے تھے۔ عزیز نیازی بھی مرحوم ہو چکا ہے۔ میں سدا کا ضدی اور سوشلسٹ نظریے سے عدم آگاہ، ان کی بات کہاں مانتا تھا۔ میرے کمرے میں موجود میرے دوست اور جمعیت کے ہمدرد شمعون سلیم نے ان سے بحث کی تھی، بحث کیا تھی، کچھ یاد نہیں۔

میں تنظیم بنانے کے کچھ عرصہ بعد ملتان کے قلیوں میں کام کے طالبعلم تنظیم میں غیر فعال ہو گیا تھا کیونکہ مجھے اپنے طور پر نشتر ہسپتال کے باہر موجود زرد رو بلڈ ڈونرز کی تنظیم بنانے کا شوق چرایا تھا۔ جو بن تو نہ سکی مگر خبریں اوپر ضرور پہنچ گئی تھیں۔ شمعون سلیم جمعیت سے مرتد ہو کر این ایس او میں بے حد فعال ہو گیا تھا۔ نذیر اور شمعون کی گاڑھی چھننے لگی تھی۔ تاہم میری بھی ملاقات اکثر ہوتی رہتی تھی کیونکہ وہ شمعون سے ملنے آیا کرتا تھا اور ہم اکٹھے چائے پینے بھی جاتے تھے۔ شاہد مبشر، شریف، طاہر اور کبھی کبھار علی اور اظہر بھی ساتھ مل جایا کرتے۔ پھر میں مزدوروں کے ایک جلوس میں پولیس سے بہت پٹنے کے بعد گرفتار ہو گیا تھا۔ نذیر نے ہی بتایا تھا کہ اعتزاز احسن نے پیغام بھجوایا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر مقدمہ مفت لڑیں گے۔ یہ اعتزاز احسن سے پہلی شناسائی تھی اگرچہ ان کے بڑے بھائی پروفیسر اعجاز احسن ہمارے سرجری کے استاد تھے۔ نذیر کی اعتزاز احسن سے دوستی اب تک تھی شاید۔ 2000 میں اس نے امریکہ میں اپنے گھر میں مجھے بہت خوش ہو کر بتایا تھا کہ مارٹن نے جو تب پانچ سات سال کا تھا، اعتزاز احسن سے اپنے جوتوں کے فیتے بندھوائے ہیں۔ میں میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کے بعد فوج میں چلا گیا تھا مگر نذیر ایک سال پہلے ہی چپکے سے جرمنی چلا گیا تھا۔ جہاں سے اس نے دو ایک دلچسپ خط بھی لکھے تھے۔ ایک خط میں اس نے بتایا تھا کہ جب اس نے سیاسی پناہ کے لیے درخواست دی تو ریڈ کراس کے توسط سے ایک پادری اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا اور اسے چرچ سے ملحق کسی کمرے میں ٹھہرایا تھا۔ رات کو ساتھ کھانا کھانے کے لیے مدعو کیا تھا۔ بقول اس کے جب وہ ان کے ہاں موجود تھا تو پادری کی بیٹی، اس کا دوست اور ان کا کتا بھی تھے۔ میں نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ لحم خنزیر میرے مذہب ( حالانکہ نذیر دہریہ تھا اور دہریہ رہا ) میں حرام ہے۔ میرا شراب پینے کو دل چاہ رہا تھا مگر چونکہ میزبان پادری تھا جو تقابلی مذاہب کو بھی غالبا” جانتا تھا، اس لیے میں نے جام بھرنے کا تقاضا ہی نہیں کیا تھا۔ پادری کی لڑکی ایک ہی چمچے سے خود غذا لیتی تھی، اسی چمچ سے کتے کو دے دیتی تھی اور پھر وہی چمچ بھر کر اپنے بوائے فرینڈ کے منہ میں ڈال دیتی تھی۔ میں ڈرا بیٹھا تھا کہ کہیں وہی چمچ میرے منہ میں نہ ٹھونس دے۔ نذیر مزاح پسند تھا، ممکن ہے اس نے ہمیں ہنسانے کو ایسا لکھا ہو۔ ہم سب کی طرح وہ بھی جلیبی کی مانند سیدھا تھا۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس نے فلسفہ میں ایم اے کیا ہے۔ میں نے بلاشبہ یقین کر لیا تھا۔ مگر اس کے لیے اپنا کہا جھوٹ زیادہ عرصہ چھپائے رکھنا دشوار تھا۔ حالانکہ ہماری ملاقات تقریبا” ہر دوسرے روز ہوا کرتی تھی لیکن اس میں اپنی کہی بات کی براہ راست نفی کرنے کا یارا بھی نہیں تھا۔ اس نے مجھے کاپی کے آٹھ دس صفحوں پر مشتمل ایک خط لکھا تھا کہ کس طرح اس کی فلسفہ میں ایم اے کرنے کی خواہش تھی مگر وہ نہ کر سکا تھا۔ باوجود خوشحال ہونے کے اس کے آدرش باقی رہے تھے۔ شاید گذشتہ برس اس نے فیس بک پر این ایس او کے سابق ساتھیوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا تھا۔ بائیں بازو کی تحریک سے متعلق اپنے خیالات لکھنے شروع کیے تھے۔ دوستوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بھی لکھیں۔ مگر جلد ہی جوتیوں میں دال بٹنے لگی تھی۔ ہر چوتھا شخص اپنی رہبری منوانے اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا۔

نذیر بددل ہو گیا تھا اور اس نے یہ گروپ کلوز کر دیا تھا۔ میرا کتنا دل کر رہا ہے کہ نذیر زندہ ہوتا تو میں اسے فون کرتا۔ گلے شکوے دور کرتا اور ایک بار پھر اس کے بلند بانگ قہقہے سنتا۔ نذیر بھی ظفریاب کی طرح کھل کے قہقہ لگاتا تھا۔ مگر نذیر زندہ نہیں ہے۔ وہ ہمیں چھوڑ گیا ہے، گلے شکوے دور کیے بغیر۔ ہم سب بہت سی باتوں میں بہت دیر کر دیتے ہیں۔ وہ دعا پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ وہ زمیں زاد تھا۔ چل بھائی تو بھی چلا گیا۔۔۔ بس یہی دنیا ہے، یہی زندگی۔ ٹائٹینک جہاز کی مانند جو ڈوب رہا ہوتا ہے مگر اس میں موجود لوگ موت سے آنکھیں چرائے وہ سارے عمل کر رہے ہوتے ہیں جن کا تعلق زندگی سے ہے مگر پھر ان میں سے بہت سے باقی نہیں رہتے۔ اکثر ڈوب جاتے ہیں، جو زندہ بچ رہتے ہیں وہ مرنے تک مرتے رہتے ہیں۔ تو ہمارا ٹائٹینک تھا، جو ڈوب گیا۔ ہمیں بھی جیتے جی مار گیا جیسے شمعون نے لکھا ہے ” مرنے والے اپنے پیچھے بہت سوں میں بہت کچھ مار دیتے ہیں۔ انہیں (مرنے والوں کو ، م ۔ م ) کبھی پتہ نہیں چلتا”۔

مجاہد مرزا
مجاہد مرزا
ڈاکٹر مجاہد مرزا معروف مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ وائس آف رشیا اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی "سپتنک" سے وابستہ رہے۔ سماج اور تاریخ آپکے پسندیدہ موضوع ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *