• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستانی کوہ پیما اپنے ہی پہاڑوں پر ناکام کیوں؟۔۔عمران حیدر تھہیم

پاکستانی کوہ پیما اپنے ہی پہاڑوں پر ناکام کیوں؟۔۔عمران حیدر تھہیم

آج سے تقریباً دو ماہ قبل جب پاکستانی آٹھ ہزاری چوٹیوں کے۔ٹو، براڈ پِیک اورگیشربروم ون اور ٹو پر مقامی اور بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی مُہم جُوئی جاری تھی اور مَیں سوشل میڈیا پر ٹاپ لیول کے بین الاقوامی ماؤنٹین جرنلسٹس جن میں ایکسپوررز ویب اور رشین کلائمب کے صحافی، ایلن آرنیٹی اور سٹیفن نیسلر جیسے بلاگرز شامل ہیں اُنکی تحریریں اور تجزیات روزانہ کی بُنیاد پر دیکھ رہا تھا اور ان میں سے چند ایک کے ساتھ ڈائریکٹ رابطے میں بھی تھا تب مُجھے اِس بات کا ادراک ہوا کہ گو کہ اسوقت پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد بھی ان آٹھ ہزاری چوٹیوں پر نبرد آزما ہے لیکن پھر بھی ایسی کیا بات ہے کہ سب کی نظریں نیپالی شرپاؤں پر جمی ہوئی ہیں۔ آخر اُن میں ایسا کیا خاص ہے؟ آخر کیوں بین الاقوامی کوہ پیما ہمارے پہاڑوں پر ہمارے ہی لوگوں کی خدمات حاصل کرنے کی بجائے نیپال سے شرپاؤں کو لے آتے ہیں اور صرف اُنہی پر انحصار کرتے ہیں؟
اس سے قبل کہ مَیں اس اہم نقطے پر اپنی گُزارشات پیش کروں پہلے آپکو مُختصراً تمام 14 آٹھ ہزاری چوٹیوں پر کلائمبنگ سیزن کا کچھ تعارف کروا دوں تاکہ قارئین کو تسلسل کیساتھ اس سوال کا جواب جاننے اور سمجھنے میں آسانی ہو۔
دُنیا کے تمام 14 بڑے پہاڑوں پر ہر سال کلائمبنگ سیزن کا آغاز نیپال سے ہوتا ہے جو کہ وسط مارچ سے شروع ہو جاتا ہے اسے Spring Climbing Season کہتے ہیں۔ اس سیزن میں جو ٹیمیں نیپال پہنچتی ہیں وہ سب سے پہلے انّا پُورنا (Annapurna) اور دھولاگیری (Dhaulagiri) سے آغاز کرتی ہیں۔ ان دونوں چوٹیوں پر کامیاب سمٹس عموماً وسط اپریل سے لیکر 30 اپریل یا مئی کے پہلے ہفتے تک ہو جاتی ہیں۔
اس کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ پر مصروف ترین مُہمات کا آغاز ہوتا ہے۔ اور تقریباً تمام ٹیمیں وسط مئی سے لیکر 31 مئی کے درمیان سمٹس کرتی ہیں۔ اس دوران لوہٹسے (Lohtse) اور مکالو (Makalu) پر بھی اِکّا دُکّا سمٹس ہوتی ہیں جو زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو تمام 14 آٹھ ہزاری چوٹیوں کو سر کرنے کے مِشن پر ہوتے ہیں۔
جون کا آغاز ہوتے ہی نیپال کا سپرنگ کلائمبنگ سیزن ختم ہو جاتا ہے۔ اور تب تک 14 میں سے 5 چوٹیوں یعنی انّا پُورنا، دھولاگیری، مکالو، لوہٹسے اور ماؤنٹ ایورسٹ پر مُہم جُوئی بھی مُکمّل ہو جاتی ہے۔
اس کے بعد پاکستان میں Summer Climbing Season کا آغاز ہوتا ہے جو جون کے دوسرے ہفتے سے لیکر 31 جولائی یا اگست کے پہلے ہفتے تک رہتا ہے اور اسی دوران ہی پاکستان کی 5 آٹھ ہزاری چوٹیوں کے۔ٹو، نانگا پربت، براڈ پِیک، گیشربروم ون اور گیشابروم ٹو پر کامیاب سمٹس ریکارڈ ہوتی ہیں۔
اس کے بعد تیسرا سیزن یعنی Autumn Climbimg Season کا آغاز وسط ستمبر میں ہوتا ہے اور ستمبر و اکتوبر کے دوران باقی بچ جانے والی 4 آٹھ ہزاری چوٹیوں یعنی مناسلُو (Manaslu) کینچن جُنگا (Kangchenjunga)، چویُو (Cho-Oyu) اور شیشاپنگما (Shishapangma) پر کوہ پیمائی ہوتی ہے۔ اس دوران دھولاگیری پر بھی دوبارہ مُہم جُوئی ہوتی ہے۔ کیونکہ کچھ چوٹیوں کے کلائمبنگ رُوٹس ایک سے زیادہ موسموں میں قابلِ مُہم جوئی ہیں۔
سال 2017 میں نیپال کے منگما جی شرپا نے نانگاپربت پر پہلا Autumn Climbing Season متعارف کروایا تھا جس میں پاکستانی کوہ پیماؤں مُحمّد علی سدپارہ اور سرباز خان نے بھی کامیاب سمٹس کی تھیں اور مُحمّد علی سدپارہ نانگا پربت کو چوتھی بار سر کرکے اسے ہر کلائمبنگ سیزن میں سر کرنے والا دُنیا کا پہلا کوہ پیما کہلایا تھا۔
یہ تو تھا تمام 14 آٹھ ہزاری چوٹیوں کے کلائمبنگ سیزنز کا مُختصر جائزہ۔
اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب۔
اس سال نیپال کے سپرنگ سیزن کے دوران کورونا کے پھیلنے کی وجہ سے حکومتِ پاکستان نے پاکستانی کلائمبنگ سیزن کے آغاز سے قبل کچھ ایسی سخت لاک ڈاؤن اور کورنٹین ایس۔او۔پیز متعارف کروا دیں کہ جس کے سبب بڑی بڑی نیپالی کمپنیوں مثلاً سیون سمٹس ٹریکس اور امیجن نیپال وغیرہ نے اپنی مُہمات کینسل کردیں۔ کچھ دنوں بعد جب حُکّام کو تھوڑا احساس ہوا کہ اس طرح تو کلائمبنگ سیزن تقریباً آف ہو کر رہ جائے گا اور قیمتی زرِمُبادلہ ضائع ہوگا چنانچہ کورنٹین کی کچھ ایس۔او۔پیز کو نرم کیا گیا اور یُوں ایک دو بڑی کمپنیاں مثلاً پائینیئر ایڈونچر اور میڈیسن ماؤنٹینیئرنگ اپنے کلائنٹس کو لیکر پاکستان آ گئے۔ تاہم سیون سمٹس ٹریکس اور امیجن نیپال والے نہیں آئے۔ جسکا مطلب یہ تھا کہ اس بار ٹاپ لیول کے نیپالی شرپا کم آئیں گے اور کلائنٹس بھی کم ہونگے۔ چنانچہ عالمی کوہ پیمائی صحافت میں یہ بیانیہ نمُودار ہوا کہ چونکہ اس بار نیپالی زیادہ تعداد میں نہیں ہیں اور صرف کے۔ٹو پر جائیں گے لہٰذا اس بار پاکستانی کلائمبنگ کمیونٹی کے ٹورآپریٹرز، کوہ پیماؤں اور ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز کے پاس سُنہری موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیّتوں کا لوہا منوا لیں۔ تاکہ نیپالی جو کہ اپنے مُلک میں سپرنگ کلائمبنگ سیزن کا کاروبار سمیٹنے کے بعد سمر کلائمبنگ سیزن میں بھی پاکستان میں آ کر کوہ پیمائی کا قیمتی زرِمبادلہ کما کر لے جاتے ہیں وہ پاکستانی کمپنیوں کے پاس آنا شروع ہو جائے۔ اِس ضمن میں قراقرام ایکسپیڈیشنز نامی پاکستانی کمپنی کے مالک اور مشہور خاتون ایتھلیٹ ثمینہ بیگ کےبرادرِ حقیقی مرزا علی نے یہ اعلان کردیا کہ اِس بار پاکستان میں کلائمبنگ سیزن کو وہ اور اُنکی کمپنی لیڈ کرے گی۔ اس بابت ایکسپلوررز ویب نے اُن کی حوصلہ افزائی کےلیے ایک آرٹیکل بھی اُنکے حق میں شائع کردیا اور یُوں یہ اُمید پیدا ہوئی کہ اِس بار کوہ پیمائی سے زرِمُبادلہ کی کمائی کا influx نیپالیوں کی بجائے پاکستانی کمپنیوں کی طرف ہوگا جو یقیناً مُستقبل کےلیے ایک بریک تھرُو بن کر خُوش آئند ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بیانیہ بن تو گیا لیکن اُسکے بعد ہُوا کیا، یہ ایک لمبی داستان ہے۔ لیکن پھر بھی مُختصراً بیان کردیتا ہوں۔
آغاز ہوا نانگا پربت سے۔
پاکستان کے اس سال کے کلائمبنگ سیزن میں صرف 5 فارنرز کوہ پیماؤں نے نانگا پربت پر قسمت آزمائی کی لیکن وہ جون کے اندر ہی 6000 میٹر سے نیچے ہی ناکام ہو کر واپس لوٹ گئے۔ اُدھر قراقرم میں 4 آٹھ ہزاری چوٹیوں کے۔ٹو، براڈ پِیک اور گیشربروم ون اور ٹو پر مُہم جُوئی کا آغاز ایک ساتھ ہوا اور وسط جون سے ٹیمز بیس کیمپس تک پہنچنا شروع ہو گئیں جسکا سلسلہ وسط جولائی تک چلتا رہا۔ مرزا علی نے چونکہ بڑا دعویٰ کردیا تھا کہ اُسکی کمپنی کلائمبنگ سیزن کو لیڈ کرے گی لہٰذا اُس نےبراڈ پِیک پر rope fixing کےلیے اپنی کمپنی کی ٹیم میدان میں اُتاری لیکن چونکہ اُسکی کمپنی کے پاس کے۔ٹو کلائمبنگ رُوٹ پر rope fixing کی صلاحیت نہیں تھی لہٰذا اُس نے اس مقصد کےلیے اعلیٰ درجے کے انٹرنیشنل اداروں کے تربیت یافتہ دو یورپیئن ماہر ماؤنٹین گائیڈز stephan Keck اور Jordi Tosas کو rope fixing کےلیے ہائر کر لیا۔
براڈ پِیک پر تو اُس کی ٹیم نے جیسے تیسے lead climb کر ہی لی لیکن مِس مینیجمنٹ سے وہاں بھی بڑا حادثہ ہوتے ہوتے بچا جسکی نشاندہی فن لینڈ کی خاتون کوہ پیما لوٹاہنتسا اور کینیڈین کوہ پیما ڈان بووی پر مُشتمل جوڑی نے بھی کی۔ تاہم مرزا علی نے اُن واقعات کو دبا لیا اور چونکہ براڈ پِیک پر کوئی نیپالی شرپا نہیں تھا اس لیے کوتاہیاں دب بھی گئیں۔ حالانکہ اس دوران مرزا علی کا اپنا کلائنٹ ایک قطری کوہ پیما ہاتھوں پر فراسٹ بائیٹ کا بُری طرح شکار ہوا اور اب اُسے اپنے ایک ہاتھ کی اُنگلیاں قطر جا کر کٹوانا پڑ گئی ہیں۔ ایک اور مِس مینیجمنٹ کے باعث جنوبی کوریائی کوہ پیما کِم ہونگ بِن کی بھی موت واقع ہوئی اور وہ ریسکیو کی صلاحیت رکھنے والوں کی قلّت کے باعث غیر ضروری تاخیر اور بعد ازاں سٹریس اور پَینک کے ساتھ ساتھ الپائن ایکسپوژر کی وجہ سے جان سے گیا۔
براڈ پِیک کے بعد کے۔ٹو پر آ کر مرزا علی کی ناکامی کُھل کر سامنے آ گئی کیونکہ اُسکے hired ماؤنٹین گائیڈز سٹیفن اور جورڈی جب سکاٹش کوہ پیما رِک سینڈی کے ساتھ مل کر نئے رُوٹ سے کے۔ٹو سر کرنے کی کوشش میں ایوالانچ کی زد میں آگئے، رِک سینڈی کی موت ہوگئی جبکہ سٹیفن اور جورڈی زندہ بچ کر ہیلی ریسکیو ہوئے اور سکردو چلے گئے۔ یہی وہ واقعہ تھا جسکے بعد مرزا علی اور اسکی کمپنی ایکسپوز ہوگئے۔ کیونکہ انکے پاس کے۔ٹو کے رُوٹ پر، خصوصاً باٹلنَیک سیکشن پر rope fixing کی صلاحیت نہیں تھی اور ہائر کیے گئے گورے گائیڈز حادثے کے باعث مزید مُہم جُوئی جاری نہ رکھ سکے لہٰذا مرزا نے ایوالانچ ڈینجر کا بہانہ بنا کر اپنی مُہم جُوئی کینسل کردی۔ شومئی قسمت کے مرزا علی کا یہ بہانہ بھی شاید چل جاتا لیکن اُسکے مُہم جُوئی کینسل کرنے کے اعلان کے فوری بعد اگلے دو دن میں 48 کوہ پیماؤں نے کے۔ٹو کو بڑی آسانی سے سر کر لیا۔ مرزا علی اپنی، اپنی بہن ثمینہ بیگ اور اپنی کمپنی کی جگ ہنسائی کروا کر واپس آ گیا۔
اُدھر نیپالی اپنی تربیت، پروفیشنلزم اور صلاحیت کے باعث ایک بار پھر عالمی برادری کی نظر میں قابلِ تعریف ٹھہرے کیونکہ کہ اُنہوں نے 48 سمٹس کروا دی تھیں۔ وہ چاہے پائینیئر ایڈونچر کمپنی ہو یا میڈیسن ماؤنٹینیئرنگ، دونوں میں نیپالی شرپاؤں نے ہی rope fixing اور lead climbing کرکے سیفٹی کے ساتھ شوقین حضرات کو کے۔ٹو سر کروایا۔ ان میں 10 پاکستانی بھی ہیں جو بغیر کسی مُشکل کے نیپالیوں کی لگائی ہوئی فِکسڈ لائن پر کے۔ٹو سر کرکے اسوقت “قومی ہیروز” کا خطاب حاصل کرکے خُوب داد سمیٹ رہے ہیں اور بظاہر ریکارڈز کی بھرمار کر دی ہے۔ کوئی سب سے پہلا پاکستانی ہے تو کوئی سب سے کم عُمر، کوئی پورٹر کے بغیر جانے کے اعزاز اور کوئی آکسیجن کے بغیر 7500 میٹر تک چلے جانے کے “مُنفرد اعزاز” سے پُھولے نہیں سما رہا۔ ماشاء اللہ سب ” کامیابیاں” سمیٹ کر بہت خُوش ہیں بے شک حقیقت میں یہ کامیابیاں “کاسمیٹک” ہی ہوں اُس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
دُوسری طرف نیپالی شرپاؤں کی کامیابی کا یہ عالم ہے کہ امریکی کمپنی میڈیسن ماؤنٹینیئرنگ کے مالک امریکی کوہ پیما گیرٹ میڈیسن نے اپنے نیپالی شرپاؤں کے پیچھے پیچھے نہ صرف خُود تیسری بار کے۔ٹو کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا بلکہ اپنے تمام کلائنٹس کو کے۔ٹو سر کروا کر 100 فیصد کامیابی کا سہرا بھی اپنی کمپنی کے سر سجایا۔ گیرٹ میڈیسن نے 28 جولائی کی شام ایلن آرنیٹی کو ایک انٹرویو دیا اور بتلایا کہ “ہم نے نہ صرف اپنے تمام کلائنٹس کو کامیابی دلوائی بلکہ ہمارے پاس دو پاکستانی پورٹرز بھی کیمپ 4 پر تھے اور ہم نے جذبہء خیرسگالی کے تحت اُنکو بھی اجازت دے دی کہ وہ کمپنی کی بچی ہوئی آکسیجن کے سلنڈرز استعمال کرکے سمٹ کرلیں.” گویا کمپنی نے احسان کرکے بھیک میں سمٹ کی اجازت دی۔
اب ذرا آپ خُود تجزیہ کریں کہ ایک طرف نیپالی شرپا جنہوں نے فکسڈ لائن نصب کی اور اُسی پر چل کر گیرٹ میڈیسن نے خُود اور اُسکے دو ٹاپ لیول کے انٹرنیشنل کوالیفائیڈ ماؤنٹین گائیڈز ‘کینٹن کُول’ اور ‘جان گپتا’ نے سمٹ کی، اور دوسری طرف پاکستانی ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز امریکی کمپنی کے مالک کی اجازت کے بنا کیمپ 4 سے آگے نہیں جاسکتے تھے تاہم جب مالک نے خُوش ہو کر اجازت دے دی تو اُنہوں نے بھی سمٹ کر لی۔
یہ دو متضاد رویّے ہیں جو نیپالی شرپاؤں اور پاکستانی ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔ اور یہ فرق اس لیے پیدا ہوا کیونکہ نیپال کی حکومت، اُنکے ڈیپارٹمنٹ آف ٹورازم (DoT) اور شرپاؤں کی یونین نے اپنے اندر ایسی مہارت اور صلاحیت پیدا کی کہ آج اُنکے اپنے مُلک میں تو اُنکے بغیر کوہ پیمائی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ سرحد پار پاکستان میں آکر بھی کامیابیاں اور پیسہ سمیٹ رہے ہیں۔
پاکستان میں کوہ پیمائی کی تاریخ کا سب سے بڑا حادثہ سال 2008 میں کے۔ٹو پر ہوا تھا جہاں 11 کوہ پیماؤں کی موت واقع ہوئی تھی۔ اُس حادثے میں دو پاکستانی ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز جہان بیگ اور مہربان کریم بھی جاں بحق ہوئے۔ مہربان کریم کے۔ٹو سر کرنے کے بعد اُترائی پر جاں بحق ہوئے تھے۔ ہونا تو یہ چاہییے تھے کہ اس حادثے کے بعد ہمارا الپائن کلب ریسکیو کی تربیت کے اقدامات کرتا تاکہ ایسے حادثات سے بچا جاتا لیکن الپائن کلب جاگنے کی بجائے مزید سو گیا اور ایسا سویا کہ پھر 2014 تک کے۔ٹو پر کوئی پاکستانی سمٹ نہ ہوئی۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ 2008 کے حادثہ میں جب نیپالی شرپا باٹلنَیک سیکشن پر گوروں کو ریسکیو کر رہے تھے عین اُسوقت پاکستانی پورٹر جہان بیگ شولڈر سیکشن پر self arrest کی بُنیادی ریسکیو تکنیک سے نابَلَد ہونے کی بِنا پر لُڑھکتا ہوا نیچے Goodwin Austin Glacier پر جاگِرا اور یُوں ناتجربہ کاری اور عدم تربیت کی وجہ سے اس انسانی جان کا ضیاع ہوا۔ اس حادثے سے نیپالیوں نے یہ سبق سیکھا کہ اپنے شرپاؤں کی بہترین تربیت کروائی اور پھر 2012 سے کے۔ٹو پر کمرشل ایکسپیڈیشنز کی یلغار شروع ہوگئی۔ یہ نیپالیوں کی بدولت ہی ممکن ہُوا کہ 2012 سے لیکر 2021 تک کے۔ٹو پر 245 سمٹس ہو چُکی ہیں جن میں سے 90 سے زائد نیپالیوں نے کی ہیں۔ کے۔ٹو کی تاریخ میں 2012 سے قبل صرف 18 نیپالی کے۔ٹو کو سر کر پائے تھے لیکن اُسکے بعد آج کے۔ٹو پر نیپالی ہی چھائے ہوئے ہیں۔
نیپالی شرپاؤں اور پاکستانی HAP’s کے درمیان بُنیادی فرق صرف تربیت کا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر نیپالی Icefall Doctors کو Khumbu سے ہٹا دیا جائے تو شاید ماؤنٹ ایورسٹ کو ایک بین الاقوامی کوہ پیما بھی سر نہ کر پائے۔ اور آج مَیں یہ انتہائی دُکھی بات علی الاعلان کرنے پر مجبور ہوں کہ اس سال موسمِ گرما کے کلائمبنگ سیزن نے ثابت کردیا ہے کہ اگر کے۔ٹو پر نیپالی آکر fixed line لگا کر lead climb کرنا چھوڑ دیں تو بین الاقوامی تو کیا ایک پاکستانی بھی کے۔ٹو کو سر نہ کر پائے۔ یہ بات تشویشناک بھی ہے اور شرمناک بھی۔
ہمارے قومی شاعر علّامہ اقبال نے کہا تھا کہ:
“ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات۔۔۔”
رہی سہی کسر راکا پوشی نے نکال دی کہ جب وہاں تین کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرنے کی باری آئی تو ماسوائے سوشل میڈیا پر بڑھکیں مارنے کے کوئی ایک “قومی ہیرو” بھی ہمّت نہ کر سکا کہ وہ آن گراؤنڈ ریسکیو آپریشن کر سکتا اور بالآخر ہماری قومی عزّت ایک بار پھر عسکری ایوی ایشن کے ماہر پائیلٹس نے بچائی اور تینوں کوہ پیماؤں کو 6000 میٹر کی بلندی سے heli rescue کر لیا گیا۔
اب اگر ہم نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات بالخصوص گلگت۔بلتستان کے کوہ پیمائی سے وابستہ افراد کے روزگار کو بچانا ہے تو اسکا واحد حل پروفیشنلزم پر مبنی روّیہ اپنا کر بہترین تربیت یافتہ ماہر ماؤنٹین گائیڈز اور ریسکیورز پیدا کرنے میں مُضمر ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ شمشال، سدپارہ اور ہوشے گاؤں کے نوجوانوں کو مذہبی اور لسّانی رقابت سے نکال کر تربیت کے یکساں مواقع دیے جائیں۔ تینوں جگہوں پر بہترین کوہ پیماؤں کی نرسری موجود ہے۔ ہمیں بس اُن کےلیے تربیت کے مواقع پیدا کرنے ہیں۔ ورنہ تو عین ممکن ہے کہ نیپالی شرپا آئندہ شاید پاکستانی HAP’s کی خدمات کو صرف Base Camps تک ہی محدود کروا دیں گے۔
مَیں 2013 سے کہہ رہا ہوں کہ ویمن ایمپاورمنٹ کے نام پر ثمینہ بیگ کو “کاسمیٹک کامیابی” دلوائی گئی ہے کیونکہ اُسے شمشال کے شمبی خان کی بیٹی فرزانہ جبیں کی حق تلفی کرکے آگے لایا گیا جو سال 2006 میں کسی بھی چھ ہزاری چوٹی کو سر کرنے والی پہلی خاتون کوہ پیما تھیں۔ ثمینہ نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد سیون سمٹس کی فنڈنگ حاصل کرکے وہ اعزاز بھی اپنے نام کر تو لیا لیکن اپنے اندر کوہ پیمائی کی حقیقی صلاحیتیں پیدا نہ کر سکی۔
دراصل آٹھ ہزاری پہاڑ سر کر لینے کا ایک منفی پہلو بھی ہے اور اُسکا شکار غیر مُلکی کوہ پیماؤں کی نسبت ہمارے پاکستانی کوہ پیما زیادہ ہوتے ہیں اور وہ یہ کہ 8000ers سر کرنے کے بعد ہمارے پاکستانیوں کے ذہن میں یہ خنّاس اور فتور پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم تو اب ایلیٹ درجے کے کوہ پیما ہیں اور قومی ہیرو ہیں لہٰذا اب ہم دیگر کسی چھوٹے پہاڑ پر کیوں جائیں۔ جبکہ کوہ پیمائی کی اصل تربیت اور اِس ہُنر میں مہارت چھوٹے پہاڑوں پر ہی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے کوہ پیما خُودساختہ قومی ہیرو بن چُکے ہوتے ہیں لہٰذا وہ یہ بات اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔
ثمینہ بیگ نے بھی یہی کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کوہ پیمائی کی تربیت حاصل نہ کر سکیں اب وہ صرف ایک ماؤنٹین ٹورسٹ اور ایتھلیٹ ہیں تربیت یافتہ کوہ پیما نہیں۔ ہمارے میڈیا نے بھی غلط کیا کہ اُسکو شُہرت کی بُلندی پر لے جا کر اُسکی personal skill اور تربیت حاصل کرنے کے passion کو ختم کردیا۔ اب بھی یہی کچھ میڈیا 19 سالہ پاکستانی نوجوان شہروز کاشف کیساتھ کر رہا ہے۔ نتیجتاً یہ نوجوان بھی صرف نیپالیوں چھانگ داوا شرپا اور منگما جی شرپا کی کمپنیوں کا کلائنٹ بن کر رہ گیا ہے، اُنہی کی خدمات کے سہارے اب چوتھی آٹھ ہزاری چوٹی سر کرنے چلا گیا ہے جو کہ وہ کر بھی لے گا بلکہ تمام 14 چوٹیاں سر کرنے کا ریکارڈ بھی بنا لے گا لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اُس کے اندر چھانگ داوا شرپا، منگما گیابو شرپا، سانو شرپا، منگما ڈورچی شرپا، منگما ڈیوڈ شرپا اور نرمل پُورجا جیسے personal skills موجود ہیں جو کہ ایک پروفیشنل کوہ پیما کا خاصہ ہوتے ہیں؟ اس صُورت میں تو وہ ایک individual اعزاز یافتہ بن کر رہ جائے گا، اُسکی صلاحیت سے اُسکی اگلی نسل استفادہ نہیں کر سکے گی کیونکہ اُسکے پاس independent climb کرنے کی صلاحیت پیدا ہی نہیں ہونے دی جارہی اور اُسے fake heroism کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ مَیں تو سوچتا ہوں کہ کیا وہ کبھی ہمارے مُلک کا ایسا ہیرو بن سکتا ہے جیسا پولش کلائمبر ایڈم بالیکی یا قازق کلائمبر ڈینس یُوربُکو ہے؟ جو آج بھی الپائن سٹائل میں بغیر شرپا مدد کے اور بغیر مصنوعی آکسیجن کے آٹھ ہزاری چوٹیاں سر کرتے ہیں۔ ایڈم بالیکی کی صلاحیت کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ وہ کوہ پیما جس نے دو آٹھ ہزاری چوٹیاں موسمِ سرما میں پہلی بار سر کرنے کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے اور جس نے 2019 میں فرنچ خاتون کوہ پیما الزبتھ ریوول کا نانگا پربت پر ایک ایسا لازوال ریسکیو کیا تھا جو بلاشُبہ ریسکیو کے فن کی ایک معراج تھی۔ اب وہی ایڈم بالیکی اسوقت پاکستان میں شمشال کے علاقے میں موجود ہے جو وہاں محض ایک چھ ہزاری ورجن چوٹی سر کرنے آیا تھا اور دو دن قبل سر کر بھی چکا ہے۔
اسے کہتے ہیں اصل کوہ پیما۔
اگر ایڈم بالیکی پاکستانی ہوتا تو شاید وہ بھی شخصیّت پرستی کا دلدادہ ہوتا اور چاہتا کہ اُسے بس ہیرو اور پیرومُرشد کا درجہ دے دیا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں صرف سیاست نہیں بلکہ ہر میدان میں ہر شُعبے میں گاڈفادرز موجود ہیں۔
اگر گلگت۔بلتستان کے نوجوانوں کو سیاحت و کوہ پیمائی کےمیدان میں شُہرت اور روزگار دونوں بیک وقت کمانا ہیں تو اسکا واحد حل تربیت میں پوشیدہ ہے۔ اس کلیشے اور اس Taboo کو توڑنا ہوگا کہ ہمارے پاس Godgiftedصلاحیت ہے اس لیے ہمیں تربیت کی چنداں ضرورت نہیں۔
گلگت۔بلتستان کے تینوں گاؤں شمشال، سدپارہ اور ہوشے کے نوجوانوں کو اپنے علاقے کے شخصیت پرستی میں مُبتلا بُت گرانا ہونگے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے اب اپنی صلاحیت اور تربیت کے بل بوتے پر آگے آنا آسان ہے اور ویسے بھی قرآن کا فیصلہ ہے کہ
“لیس للانسان الاما سعی”
“انسان کو کچھ حاصل نہیں ہوتا مگر وہ جسکی اُس نے کوشش کی”.
چنانچہ مَیں گلگت۔بلتستان کے نوجوانوں سے گُزارش کرتا ہوں کہ مُتحد ہو کر اپنے پہاڑوں پر نیپالیوں کی اجارہ داری کو اپنی مُنظّم تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے شکست دیں۔
مُستقبل آپکا ہے، اسے محفوظ بنائیں۔
کیا آپکو معلوم ہے کہ آپ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے کےلیے مجھے بھانت بھانت کے حاسدین کی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ہر وقت مجھے کوستے ہیں تاکہ کہیں میری تحریروں کی وجہ سے آپ میں وہ صلاحیت حاصل کرنے کا جنون نہ پیدا ہوجائے جو ان گاڈ فادرز کو شکست دینے کا باعث بنے۔
لیکن مجھے اس تنقید کی ذرا برابر بھی پروا نہیں کیونکہ مَیں نے بھی تہیّہ کر رکھا ہے کہ اپنے شوق اور لگن کے بل بُوتے پر مَیں ان شاء اللہ اکیلا ہی گلگت۔بلتستان کے نوجوان کوہ پیماؤں میں شعور و آگاہی بھی پیدا کروں گا اور اپنے ہمخیال دوستوں کے ذریعے عملی اقدامات کرنے میں بھی کامیاب ہو جاؤں گا جس کی بدولت ہمارے نوجوان کوہ پیما مُکمّل تربیت یافتہ کوہ پیما، ماؤنٹین گائیڈز اور ریسکیورز بن کر ہماری سیاحت اور کوہ پیمائی کی صنعت کو اُستوار کر کے قومی ترقی اور زرِمُبادلہ کما کر دینے میں حکومتوں کی اور ریاستی اداروں کی مدد کریں گے۔ بس پہلا قدم اُٹھانے کی دیر ہے جو ہم عنقریب اُٹھائیں گے آپ لوگ تیّار رہیں۔ کیونکہ۔۔۔
شکوہء ظُلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply