موٹر وے بمقابلہ جی ٹی روڈ۔حسام درانی

لاہور سے جھنگ کے لیے ڈائیوو بس پر سوار ہوا جو کہ  ڈی آئی خان جا رہی تھی براستہ جھنگ، سیٹ نمبر تھا 1۔
پہلے تو دل میں وسوسہ تھا کہ    1 نمبر سیٹ تو بس ہوسٹس والی ہوتی ہے ایک کمینی سی خواہش بھی ساتھ ساتھ پروان چڑھ رہی تھی کہ  ہوسٹس کے ساتھ والی سیٹ ۔۔۔  دل بلیوں اچھل رہا تھا کہ  اچانک بیگم نے چھوٹا بیٹا مجھے پکڑاتے ہوئے  کہا کوئی مسئلہ نہیں ہوسٹس کے ساتھ میں بیٹھ جاؤں گی آپ بچے لے کر ساتھ والی سیٹوں پر بیٹھ جائیں، ایک دم حقیقی دنیا میں واپس آ گیا، اور دل کڑا کر کے جیسے ہی بس میں داخل ہوا تو ایک لڑکے نے مجھ سے ٹکٹس لیں اور نمبر دیکھتے ہوئے  کہنے لگا کہ  آپ بچوں کو دوسری سیٹوں پر بیٹھا دیں اور خود ادھر ایک نمبر والی سیٹ پر بیٹھ جائیں، مجھے ایسے محسوس ہوا کہ  جیسے جسم سے جان ہی نکل گئی ہو اور ہاتھ اور پاؤں تقریباً  کانپ رہے تھے اور ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے  ۔۔۔

اور اچانک خواب ٹوٹا جب ایک صاف ستھرا تقریبا گوری رنگت والا لڑکا میرے ساتھ  سیٹ پر بیٹھ گیا اور گاڑی کا دروازہ بند ہوا اور گاڑی نے دھیرے سے لاہور ٹرمینل سے نکل کر آہستہ آہستہ سپیڈ پکڑی اور جیسے ہی ٹول پلازہ کراس کر کے بس نے اپنی مقررہ سپیڈ سے چلنا شروع کیا تو  میرے بھی حواس اپنی جگہ آنے شروع ہوئے ۔۔۔  بیٹھے ہوئے بس ہوسٹس سے  کہا،
” It’s really a pleasant surprise for me to see a male host in a Daewoo bus first time in my life ”

اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ  جناب ڈیرہ اسماعیل خان اور کے پی کے کے ان علاقوں میں جہاں جی ٹی روڈ کے ذریعہ ہماری بس سروس چلتی ہے وہاں وہاں پر بس میں کوئی لڑکی نہیں ہوتی بلکہ مرد ہی بس میں ہوسٹ کا کام کرتے ہیں۔
اتنا کہہ کر وہ ایک مسافر کی کال پر اس کو اٹینڈ کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور میرے ذہین میں   عجیب سی آندھیاں چلنی شروع ہو گئیں کہ  موٹر وے روٹ پر خواتین اور جی ٹی روڈ پر لڑکے، اسی دوران نا جانے کہاں سے میرے دماغ میں ابرارالحق کا گانا بجنا شروع ہو گیا۔

” جی ٹی روڈ تے بریکاں لگیاں نی بلو تیری ٹور ویکھ کے
اج گڈیاں چے گڈیاں وجیاں نی بلو تیری ٹور ویکھ کے۔ “

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *