حمد۔۔محمد زبیر انجم

اے مالک دو جہاں تُو ہی ہے ہمارا
تیرے سوا تو کوئی بھی نہیں ہے سہارا
ہر ایک چیز کو تو نے ہی ہے بنایا
ہر اک خلق میں شعور زیست تو نے بسایا
پھول کھلائے ،پھل بنائے دریا تو نے بنایا
سمندر کی تہہ میں مخلوق کا رزق تو نے پہنچایا
مولا تیرے فضل کا کوئی نہیں کنارہ
اے مالک ۔۔۔۔۔
بشر کو تو نے ہی خرد سے نوازا
ہر معاملہ میں فکر آگہی سے نوازا
پھر ہوا یوں کہ انسان پستیوں میں گر گیا
اپنے ہی جال میں خود ہی پھنس گیا
الہی میرے گناہ کا کوئی نہیں کفارہ
اے مالک۔۔۔۔۔

ہوس مال و زر میں حد سے یہ گزر گیا
آیا تھا کس کام سے، کس کام میں یہ الجھ گیا
طلب دنیا میں، فکرآخرت سے یہ مُکر گیا
گئی جوانی، آیا بڑھاپا نقارہء فنا بج گیا
یارب تیری عطا کا کوئی نہیں شماره
اے مالک۔۔۔۔۔
اک امید نے ہی دل کو دیا ہے سہارا
اپنے اعمال سے کیوں کر ہو گا اپنا چھٹکارا
فقط تیری رحمت کو من نے ہے پکارا
رحیم کی صفت سے ہی ملے گا ہم کو کنارا
سدا مالک تو نے ہی کشتی کو بھنور سے نکالا
اے مالک دو جہاں تو ہی ہے ہمارا
تیرے سوا تو کوئی بھی نہیں ہے سہارا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *