تتھاگت نظم۔۔۔ 3 (قبولیت)

پیش لفظ
کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں بھی پہنچ پاؤں تو سمجھوں گا، میں سپھل ہو گیا۔ ایک گاؤں میں ایک سو لوگ بھی میری باتیں سن لیں تو میں ایک لاکھ لوگوں تک پہنچ سکوں گا۔ یہی اب میرا کام ہے ،فرض ہے ، زندگی بھر کا کرتویہ ہے۔

یہ تھا کپل وستو کے شہزادے، گوتم کا پہلا وعدہ … خود سے …اور دنیا سے۔ وہ جب اس راستے پر چلا تو چلتا ہی گیا۔اس کے ساتھ اس کا پہلا چیلا بھی تھا، جس کا نام آنند تھا۔ آنند نام کا یہ خوبرو نوجوان سانچی کے ایک متمول خاندان کا چشم و چراغ تھا، لیکن جب یہ زرد لباس پہن کر بدھ کا چیلا ہو گیا تو اپنی ساری زندگی اس نے بدھ کے دستِ راست کی طرح کاٹ دی۔

tripako tours pakistan

یہی آنند میرا ، یعنی ستیہ پال آنند کے خاندانی نام ’’آنند‘‘ کی بیخ وبُن کی ، ابویت کی، پہلی سیڑھی کا ذوی القربیٰ تھا۔ اسی کی نسب خویشی سے میرے جسم کا ہر ذرہ عبارت ہے۔

مکالمہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان نظموں کے اردو تراجم اس میں بالاقساط شائع ہو رہے ہیں۔ اردو کے غیر آگاہ قاری کے لیے یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ ’’تتھا گت‘‘، عرفِ عام میں، مہاتما بدھ کا ہی لقب تھا۔ یہ پالی زبان کا لفظ ہے جو نیپال اور ہندوستان کے درمیان ترائی کے علاقے کی بولی ہے۔ اس کا مطلب ہے۔ ’’ابھی آئے اور ابھی گئے‘‘۔ مہاتما بدھ گاؤں گاؤں گھوم کر اپنے ویا کھیان دیتے تھے۔ بولتے بولتے ایک گاؤں سے دوسرے کی طرف چلنے لگتے اور لوگوں کی بھیڑ ان کے عقب میں چلنے لگتی۔ آس پاس کے دیہات کے لوگ جب کچھ دیر سے کسی گاؤں پہنچتے تو پوچھتے کہ وہ کہاں ہیں، تو لوگ جواب دیتے۔ ’’تتھا گت‘‘، یعنی ابھی آئے تھے اور ابھی چلے گئے‘‘۔ یہی لقب ان کی ذات کے ساتھ منسوب ہو گیا۔ میں نے ’’لوک بولی‘‘ سے مستعار یہی نام اپنی نظموں کے لیے منتخب کیا۔
ستیہ پال آنند

تتھا گت نظمیں۔ نمبر تین
قبولیت
اور پھر ایسے ہوا، آنندؔ خالی ہاتھ لوٹا
اور کہا، ’’بھگوان، اس نگری میں ایسا
ایک دولتمند بھی ہے جس کو دولت سے کوئی رغبت نہیں ہے
اور سارا دھن ہمیں بھکشا میں دینا چاہتا ہے
ہم تو خالی ہاتھ لوٹے ہیں ، تتھا گت!‘‘

بدھّ بولے، ’’اس کا دینا فرض ہے، لینا تمہارا
تم تہی دستِ طلب پھیلائے، جھولی وا کیے
جب اس کے دروازے پہ جاتے ہو تو اپنا فرض سمجھو
جو بھی مل جائے، کھلے ماتھے سے لے لو
میری دریوزہ گری کی یہ حدیثِ آخری ہے!‘‘

گو مگو کی کیفیت میں تھا ابھی آنند، بولا
’’پیر و مرشد! سونا چاندی تو فقط مایا ہے، اس سے
بھکشوؤں کا کیا تعلق؟‘‘

بدھّ بولے
’’دست دریوزہ گر و درویش خالی ہے اگر اپنی انا سے
تو اسے کیا خوف مایا سے جو کل تک
دست ِ حاتم میں تھی، لیکن آج اس کی
اپنی جھولی میں پڑی ہے!
صاحبِ ثروت کی، حاتم کی سخاوت
اس کی تشہیرِ انا ہے
اور تم اپنی انا تو ختم کربیٹھے ہو، یہ تم جانتے ہو!‘‘
اس لیے جو بھی ملے ، منظور کر لو!‘‘

’’جو ملے، منظور کر لیں؟‘‘
’’ہاں، سبھی کچھ!‘‘
’’سونا چاندی اور دولت بھی، تتھا گت؟‘‘
’’ہاں ، سبھی کچھ!‘‘
’’اور بھکشا میں اگر عورت ملے تو؟‘‘

ہچکچائے، ایک لمحہ چُپ رہے، پھر ایک آہِ سرد بھر کر
زیرِ لب بولے، ’’قبولیت کی کوئی حد نہیں ہے!‘‘

Advertisements
merkit.pk

اور جب آنند کے چہرے پہ جیسے گو مگو کے رنگ ابھرے
تو کہا ۔۔۔’’یہ بات نا واجب نہیں ہے
اس لیے بھی …
دان لے کر دان دے دینا ہی بھکشو کے عمل کی
پہلی بودھِک دِیکھشا ہے۔
…………………………………
(‘‘ بودھک : منطقی : دیکھشا : آموزش کا عمل

  • merkit.pk
  • merkit.pk

ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply