پاکستانی نظریہ تکلید۔عبدالحنان ارشد

دو دن قبل خان صاحب نے تقریر کے دوران کہہ دیا کہ اللہ  نے پاکستان کو بارہ موسموں سے نوازا ہے۔ اب یہ بات سارے پاکستان نے سنی، خان صاحب کے مخالف حلقہ نے ان پر تنقید کے نشتر چلانے شروع کر دیے۔ مجھے بذاتِ خود خان صاحب کی اِس منطق کی سمجھ نہیں لگی تھی۔ اس منطق کا خان صاحب کے چاہنے والوں نے عجیب حل ڈھونڈا ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے خان صاحب نے پنجابی مہینوں والے موسموں کی بات کی ہے، جو کہ صرف کسانوں کے علم میں ہے تو کوئی اِس بات کو نہ سمجھنے والوں کو جاہل کے خطاب سے نواز رہا ہے تو کچھ محبت میں اس قدر آگے نکل گئے، کہ کہنے لگے اصل میں خان صاحب پروین شاکر کی غزل میں موجود موسموں کا ذکر فرما رہے تھے۔
اب لوگوں کے ایسے علمی  استدلال پر بندہ سر نہ پیٹے تو اور کیا کرے۔

ایسے ترک شاستر صرف خان صاحب کے حامی ہی نہیں پیش کرتے، بلکہ یہاں پر ہر سیاسی پارٹی اور مقدس اداروں کے پاس ایسی ایسی قابلیت والے بندے موجود ہیں۔ جو آنکھوں  دیکھی اور کانوں سنی تک بات کو جھٹلا دینے میں ماہر ہیں۔ ایسے لوگ دن کو رات اور رات کو دن بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ شاید اس کے لیے ہی یہ کہاوت بنی ہے “مارو  گھٹنا پھوٹے آنکھ”

یہ ہمارا قومی المیہ بن چکا ہے کہ ہم  اندھی تقلید میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ اگر کوئی ہماری پسندیدہ شخصیت، سیاسی جماعت یا ادارے پر کوئی بات کر دے تو ہم بات کا دلیل سے جواب دینے کی بجائے اُس شخص پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیتے ہیں۔

اگر عدالت عظمی کے منصف سے سوال پوچھ لیا جائے یا پھر اُن کے کسی فیصلے  پر تنقید کر دی جائے تو باجی عالیہ اور عظمٰی کی عزت کو خطرہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔اگر کبھی ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال پوچھ لیا جائے تو خود ساختہ  حمایتی ٹولہ، سوال پوچھنے وال کے مراتب کا خیال نہیں رکھا گیا۔ سوال کرتے ہوئے اس کی گردن اتنے ڈگری سے زیادہ اٹھی  ہوئی تھی، یا اس کی آواز مقررہ فریکوئنسی سے زیادہ تھی، اس سے ملکی  سلامت کو خطرہ ہو سکتا ہے، بلکہ آپ کی اس حرکت سے سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ جو کہ غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

آج ہم کہتے تو ہیں یہاں سب کو آزادی ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی چاہتے ہیں بولنے والا ہماری تہ کردہ آزادی کی حد میں ہی رہ کر بات کرے۔خدارہ ایسے کسی کے بولنے پر، سوچنے پر، تنقید کرنے پر، قدغن لگانا شروع کر دیں  گے   تو یہ معاشرہ ترقی کرنے کی بجائے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر تباہ و برباد ہو جائے گا۔

یا  ہم شخصی آزادی کا راغ ہی نہ الاپیں  بلکہ لوگوں کے سوچنے پر اور سمجھنے پر پابندی لگا دیں۔ کیوں کہ سوچنے سمجھنے سے لوگ فرمانبردار نہیں رہتے۔دوسری طرف ہم مخالفت میں بھی اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ تنقید کرتے ہوئے  بھی گالی گلوچ سے  پرہیز نہیں کرتے۔ مخالفت کیجئے، آپ کا حق ہے لیکن اخلاقیات کا دامن نہ  چھوڑیں۔ ایسا کرنے سے اور کچھ ہو نہ ہو لیکن آپ  اپنی تربیت پر خؤد سوال کھڑا کردیتے ہیں!

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
طالب علم جو کے لکھنے کی ادنی سی کوشش کر رہا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *