بھٹائی اور ایاز۔۔۔ نعیم الدین جمالی

آج بھٹائی کا عرس ہے.سوچا کچھ لکھوں، لیکن جہاں بھٹائی کا خیال آتا ہے وہاں ایاز کو بھولنے نہیں پاتا ـ .سندھی ادب پر پہاڑوں جتنا بلند اور آکاش جتنا عظیم احسان اگر کسی نے کیا ہے تو وہ بھٹائی اور ایاز ہیں۔دیگر شعراء بھی اپنا اپنا مقام رکھتے ہیں لیکن ان دونوں کی اڑان بہت اونچی ہے. ان کی عظمت بلند ہے۔
بھٹائی جو علامت ہے صوفیت کی،
ایاز علامت ہے انقلاب کی،
بھٹائی دعوت ہے امن وآشتی کی،
ایاز علامت ہے آزادی اور انقلاب کی،
بھٹائی علامت ہے محبت کی،
ایاز علامت ہے بغاوت کی،
بھٹائی اور ایاز سندھ کی محبت ہیں،
سندھ دھرتی بھٹائی اور ایاز پر فخر کرتی ہے، ایاز نے کہا تھا میں سندھ کو اتنا گاؤں گا کہ سندھ امر ہوجائے گا،
واقعی ایاز نے سندھ کو امر کردیا۔
بھٹائی نے اپنے سروں میں سندھ کی ثقافت کو امر کردیا، سندھ کے کرداروں کو تاریخی کردیا۔یادگار اور امٹ بنا دیا۔
مومل مارئی، سسی پنوں کو عظیم بنا دیا۔
تصوف، وحدانیت، محبت امن وآشتی، پیار والفت کا درس دیا،آج ہم بھٹائی کے سبق کوبھلا چکے ہیں. محبت سندھ سے عنقا پرندے کی طرح پرواز کرچکی ہے۔افسوس کہ بھٹائی کو اب صرف مزار کی چادر چڑھانے تک محدود کردیا  گیاہے، بھٹائی ہمیں صرف عرس کے دن یاد آتا ہے، عام دنوں میں بھٹائی کسی کو یاد نہیں آتا ـ بھٹائی جس نے سندھ کو گایا،سندھ قدیم جو جدید بنادیا۔
جس نے سندھ کے دکھ درد بتائے،
جس نے ہر گوٹھ کو بتایا،
جس نے تہذیب بتائی،
جس نے ثقافت کو اجاگر کیا،
جس نے سندھو کو دیکھا،
جس نے لہریں دیکھی،
جس نے سمندر کو سمویا،
جس نے تصوف سکھلایا،
جس نے وحدانیت اور یکتائی کا درس دیا۔
آج وہ مزار اور عرس تک محدود کردیے گئے ہیں،

شیخ ایاز نے یہی خدشہ ظاہر کیا تھا اور لکھا تھا کہ میرے اوپر مزار مت بنانا۔
کہا تھا:
“مت سوچنا تم
مجھ پر مقبرہ!
چاند تارےاور
سورج کی مشعلیں
مجھ پر روز جلتی رہیں گی
وہ مجاور کی طرح
روز مجھ پر کریں گی روشنی!
روز شفق مجھ پر ڈال کرچادر زری کی
عقیدت کا اظہار مجھ سے کرے گی
دن کو روز سورج مکھی کے ساتھ زندگی چمکتی رہے گی
رات رابیل کے پھول نچھاور کرتی رہے گی،
شبنم اس مٹی کو معطر کرتی رہے گی
میں ہوں گا وہاں
تم اس گناہگار کو
مت تولنا کسی پیر سے
بھولنا مت شاعری کو
جس نے ہزار بزرگیاں مٹا چھوڑیں
سورج تلے بادل نے جس طرح چھپا دی
سمندر میں ریت کی طرح مخفی کردی
مشعلیں جو جلادیں
جو نہ کوئی بجھا سکا
اور نہ طوفان کوئی انہیں مٹا سکا

مت سوچنا مجھ پر مقبرہ
مت سوچنا مجھ پر مقبرہ.
ایاز،وہ ایاز  کہ جس نے سندھ کے چپے چپے کو لغت بنا دیا۔جس کی شاعری وسعت کی علامت ہے۔
جس کی شاعری آزادی ہے،
جس کی شاعری مزاحمت ہے،
جس کی شاعری شعور ہے،
جس کی شاعری یکتائی ہے،
جس کی شاعری امید ہے،
جس کی شاعری محبت ہے،
جس کی شاعری آکاش ہے،
جس کی شاعری سمندر ہے،
جس کی شاعری کینجھر سے کارونجھر ہے،
جس کی شاعری تھر اور بر ہے،
جس کی شاعری انقلاب ہے،
جس کی شاعری سندھ ہے،
وہ ایاز جس کے یہ لفظ مجھے بہت یاد آتے ہیں
گرادو اس سماج کو
تکلیف دہ سامراج کو
لاؤ کوئی نیا نظام
جس کو بھلا کہے عوام
انقلاب انقلاب،
گاؤ انقلاب، گاؤ انقلاب

نعیم الدین
لکھنے پڑہنے والا ایک ادنی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *