• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • کور کمانڈرز کانفرنس، ملکی مفاد اور درپیش مشکلات۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

کور کمانڈرز کانفرنس، ملکی مفاد اور درپیش مشکلات۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

گذشتہ سے پیوستہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت205 ویں کور کمانڈر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں داخلی و خارجی معاملات و مسائل سمیت دیگر معاملات پر غور کیا گیا۔کور کمانڈرز کانفرنس میں عسکری قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی مفاد میں سیکیورٹی ادارے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔اس کانفرنس میں ملک کے اندر جاری دہشت گردی کے خلاف حالیہ آپریشنز میں پیش رفت،جیو سٹریٹجک سیکیورٹی صورتحال اور افغانستان و امریکی حکام کے درمیان حالیہ رابطوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اظہار خیال کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ آپریشنل ترقیوں کو سماجی ترقی میں حکومت کی مدد کے ذریعے مستحکم بنایا جائے گااور اسی طرح بلوچستان میں بھی سماجی اقتصادی ترقی کی کوششوں پرتوجہ بڑھائی جائے گی۔
ہمیں اس امر میں کلام نہیں کہ ملک اس وقت کئی معاملات اور مشکلات میں بیک وقت پھنسا ہوا ہے۔پارلیمان میں حکمران جماعت کی ساری قوت اس بات پر صرف ہوتی ہے کہ سابق وزیر اعظم یا ان کا خاندان اگرنہ ہوا تو خدانخواستہ پتا نہیں کیا ہو جائے گا۔ اسی طرح سینیٹ میں بھی جو بحثیں ہو رہی ہیں ان میں بھی اداروں کا کردار ہی زیر بحث آ رہا ہے۔ ہمیں اس امر میں کلام نہیں کہ پائیدار جمہوریت اور کسی بھی ملک کی خوشحالی کے لیے اداروں کا اپنی اپنی حدودو میں رہ کر کا م کرنا سماج و ملک کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ لیکن بد قسمتی یہی ہے کہ ہمارے ہاں،بلکہ تیسری دنیا کے قریب قریب تمام ممالک میں ادارے اپنی اپنی حدود سے باہر نکل آتے ہیں۔ایسا صرف اس لیے ہوتا ہے کہ پارلیمان جمہوریت کی بقا و استحکام کے بجائے افراد کو مضبوط کرنے کےحق میں قراردادیں پاس کرنا شروع کر دیتی ہے۔ہمیں اس امر کو رد نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی اورسماجی حوالے سے عدم استحکام اور تذبذب کا شکار ہے۔
سماجی و سیاسی استحکام ،معاشی استحکام کی ضمانت ہوتا ہے اور معاشی استحکام امن کی ضمانت ہواکرتا ہے۔ ریاستیں اسی طرح مختلف جزئیات اور ریاستی اداروں کے باہمی ربط سے ہی مل کر اپنی بقا کا سامان کرتی ہیں۔سابق وزیر اعظم جب پاناما سکینڈل کی زد میں آئے تو انھوں نے بجائے مستعفی ہونے کے قوم سےاور پارلیمان سے خطاب کر کے اپنے اور اپنے خاندان کے حق میں دلیلیں تراشیں۔معاملہ عدالت میں گیا اور پھر عدالتی حکم پر جے آئی ٹی بنی اور تحقیقات ہوئیں۔جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف صاحب نا اہل قرار دیے گئے ،وہ، اور ان کا خاندان اب نیب میں ریفرنسز کا سامنا کر رہا ہے۔لیکن نواز شریف صاحب نے اپنے خلاف فیصلہ آتے ہی عدلیہ اور عسکری ادارے کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ان کی ساری تقاریر اور میڈیا سے کی جانے والی گفتگو کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ میرے، اور میرے خاندان کے خلاف خفیہ ہاتھوں نے سازش کی۔سابق وزیر اعظم کے چند ہم رکاب سیاست دان بھی،یہی زبان بول رہے ہیں جبکہ ان کی صاحبزادی بھی اسی لب و لہجہ میں بات کرتی ہیں۔

یہ صورتحال نہ صرف پاکستان میں ادارہ جاتی ٹکرائو کے تاثر کو ابھارتی ہے بلکہ ملک دشمن عناصر کو بھی موقع دیتی ہے کہ وہ اپنی توپوں کو رخ پاکستان کی جانب موڑ دیں۔اگر واقعی اداروں کو اپنی اپنی حدود میں رکھنا ہے تو پہلے اس حوالے سے سماجی اور سیاسی تربیت تو کی جائے کہ سماج اور بالخصوص مقتدر افراد خود کو قانون سے ماورا سمجھنا چھوڑ دیں۔ ملک کو اس وقت کئی خطرات در پیش ہیں۔یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان کے سیاسی فیصلوں کا مرکز لندن بنا ہوا ہے۔جبکہ ملک میں جس جماعت کی حکومت ہے اسی جماعت کا نامزد کردہ وزیر اعظم اور ایک بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ ،سابق وزیر اعظم سے مشاورت کے لیے لندن چلے جاتے ہیں۔امریکہ نے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ پاکستان کو تھما دی ہے۔ یہاں اگرچہ عسکری و سیاسی قیادت نے گذشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ کو بھر پور اور زبردست جواب دیا تھا، لیکن یہ کافی نہیں۔ امریکہ افغانستان میں مزید کئی برس رکے گا، امریکہ ضرور چاہتا ہے کہ وہ بھارت کو افغانستان میں زیادہ سے زیادہ متحرک کرے تا کہ بھارتی تخریب کاریوں کے ذریعے پاکستان اور پھر خطے پر دباو بڑھا سکے۔امریکہ کی نظر فقط سی پیک پہ ہی نہیں، بلکہ وہ ایران، روس اور چین و پاکستان کے غیر اعلانیہ اتحاد کو ہدف پہ لیے ہوئے ہے۔کورکمانڈرز کانفرنس میں یقیناً اس حوالے سے غور و خوض کیا گیا ہو گا۔پاکستان کی اولین ضرورت سیاسی استحکام اور سماجی سطح پر اداروں پہ یقین ہے۔

اس وقت ہر پاکستانی امن کے لیے فوج کی طرف دیکھ رہا ہے۔بے شک دہشت گردی کے خاتمے میں فوج کا کردار کلیدی ہے۔لیکن ابھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جد و جہد ختم نہیں ہوئی بلکہ آنے والے دنوں میں، افغانستان میں قدم جماتی داعش سے بھی نمٹنا ہو گا اور اسے سرحد پار ہی روکنا ہو گا۔ اس حوالے سے روس، چین، ایران اور پاکستان کا کردار بڑا اہم ہو گا کہ خطے میں نئی امریکی گیم کا مقابلہ کیا جا سکے۔اس کے لیے پاک فوج تیار بھی ہے اور پر عزم بھی۔لیکن وہی مسئلہ، سیاسی قیادت پارلیمان کو مضبوط کرنے کے بجائے افراد اور خاندانوں کے تحفظ کو ترجیح دے رہی ہے۔سماجی ترقی کے لیے سیاسی حکومت کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ داعش و دیگر دہشت گرد گروہوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوج پر سے یہ دبائو ختم کرنا ہو گا کہ فوج حکومتیں گراتی ہے۔ملک کا مسئلہ نواز شریف صاحب یا زرداری و عمران خان صاحب کا وزیر اعظم بننا نہیں ،بلکہ ملک کا مسئلہ اس وقت بالخصوص خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے عسکری و سیاسی حالات ہیں۔ عسکری معاملات کو انشا اللہ فوج سنبھال لے گی،سیاسی معاملات کے لیے سیاسی قوتیں ایک دوسرے پہ الزام تراشیوں کے بجائے سیاسی دانش کا مظاہرہ کریں اور افراد کے بجائے پارلیمان پر اعتماد کی راہ اپنائیں، یہی جمہوریت ہے۔اسی میں ریاست کا استحکام ہے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *