جسٹس مفتی محمدتقی عثمانی کی ادبی خدمات

جسٹس مفتی محمدتقی عثمانی کی ادبی خدمات
تحریر: مفتی محمد صادق حسین قاسمی
وقت عالمی سطح پر شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کی علمی اور دینی خدمات کی غیر معمولی مقبولیت ہے ،اہل علم اور قرآن و سنت کے ماہرین کے لئے ان کی شخصیت عقیدت و محبت کے ساتھ استناد کے لئے مرکز و مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں ، خاص کر معاشیات اور اسلامی بینکاری کے حوالہ سے ان کی خدمات تجدیدی اور انقلابی ہیں ،ابتدائی عمر سے لے کر آج تک جن کی زندگی کا بیشتر وقت قرآن وحدیث کے علوم کی تبلیغ واشاعت میں گذرااور آج بھی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ وہ دینی خدمات میں منہمک ہیں ،اورا ن کی تربیت اور افراد سازی کی خوبیوں کی بناء پر ایک بڑا طبقہ شاگردوں اور پروردوں کاپورے عالم میں پھیلا ہو اہے۔ علم وتحقیق کے دریا بہا نے والا، مسند درس پر قیمتی جواہر پارے لٹانے والا،اصلاح وتذکیر کا گراں قدر کام انجام دینے والا، نت نئے مسائل کی گتھیاں سلجھانے والا،اور ملک و بیرون ِ ملک کے لئے ہر دم پابہ رکاب رہنے والے اس مرد ِ درویش نے اردو ادب کی حسین وادیوں کی بھی سیر کی ،اپنے قلم معجز رقم سے چمن ِاردو میں نئے گل بوٹے کھلا ئے،اور اپنی البیلی ،سیدھی سادھی لیکن منفرد تحریر اور ممتاز اسلوب ِ نگارش سے ادباء اور اہل قلم سے بھی خوب داد تحسین حاصل کی ،آپ کے سفر نامے ، شخصی خاکے ، کتابی تبصرے ،اور مختلف اخبارات میں شائع ہو نے والے کالم نے آپ کی ادبی خدمات سے بھی دنیا کو نہ صرف روشناس کروایا بلکہ آپ کے طرز ِ تحریر اور رواں دواں قلم کی گلکاریو ں کا شیدائی بھی بنا یا۔
مختصر علمی و تعلیمی خدمات:
آپ کی پیدائش دیوبند یوپی کی زرخیز سرزمین میں 1943ء؁کو ہوئی ،چار سال کی عمر میں اپنے والد ماجد مفتی محمد شفیع ؒ کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئے ،والد ہی کی نگرانی میں درس ِ نظامی کی تکمیل کی ،قرآن وحدیث اور فقہ اسلامی میں مہارت حاصل کی اور ساتھ ہی 1958ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی کا امتحان امتیازی نمبرات سے پا س کیا ،کراچی یو نیورسٹی سے بی اے کیا ،1967ء میں ایل ایل بی کا امتحان دوسری پوزیشن کے ساتھ کامیاب کیا،اور ایم اے عربی میں پنجاب یو نیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ انگریزی، اردو،اور عربی تینوں زبانوں میں بیک وقت کمال پیدا کیا ، آپ کے قلم سے تینوں زبانوں میں درجنوں کتابیں منصہ شہود پر آچکی ہیں ۔ 23 سال تک پاکستان شریعہ اپلیٹ بینچ آف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہ کر خدمات انجام دینے کی سعادت بھی حاصل ہو ئی،علم حدیث میں آپ نے علامہ شبیر احمد عثمانی کی صحیح مسلم کی مایہ ناز مگر نامکمل شرح’’ فتح الملہم‘‘ کو اپنے شاہکا ر قلم اور بے مثال تحقیق کے ساتھ’’ تکملہ فتح الملہم ‘‘کے نام سے 5جلدوں میں مکمل کیا ،جسے عرب علماء نے بے مثال کارنامہ کہا،اورعلامہ یوسف القرضاوی نے اس دور کی بہترین شرح قرار دی۔ آپ تقریبا 15سال سے صحیح بخاری کا درس جامعہ دار العلوم کراچی میں دے رہے ہیں ،آپ کے درس ِ حدیث کی انفرادیت ونافعیت اہل علم کے نزدیک مسلم ہے چناں چہ بخاری کے ان اسباق کو ’’انعام الباری‘‘ کے نام سے جمع کیا گیا اور بڑی عرق ریزی اور دقت نظری کے ساتھ آپ کے شاگرد مفتی محمد انور حسین صاحب نے کتا بی شکل میں ترتیب دینا شروع کیا جس کی ابھی 6 جلدیں منظر عام پر آئی ہیں اوراہل ِ علم اور طلبا ء کی تسکین کا باعث نبی ہوئی ہیں اور بخاری کی اردو شرحات میں سب سے بے نظیر ہے، اور اس سے قبل ترمذی کے دروس کومفتی رشید اشرف سیفی صاحب نے ’’درس ِ ترمذی‘‘ کے عنوان سے ۵ جلدوں میں جمع کیا گیا جو آج ہر حدیث کے طا لب علم کی ضرورت بنی ہوئی ہے ،اس کے علاوہ عربی اور انگریزی میں آپ کی بہت ساری علمی تحقیقات اہل ِ علم کے لئے گنج گراں مایہ بنی ہوئی ہیں ، چوں کہ ہم اس تحریر میں آپ کی ادبی خدمات کے حوالہ سے گفتگو کر نا چاہتے ہیں اس لئے ان تما م سے اس وقت بحث نہیں کریں گے۔
ادبی زندگی کا آغاز:
بقول ابن الحسن عباسی کہ’’ اردو ان کے گھر کی لونڈی ہے‘‘۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے جس آنگن میں آنکھیں کھولیں وہاں ہر طرف علم و تحقیق ، شعر و ادب کا خوش گوا ر ماحول تھا ،والد ماجد مفتی ٔ اعظم ہو نے کے ساتھ خوش اسلوب شاعر بھی تھے اور بڑے بھائی زکی کیفی ادبی دنیا کی معروف وممتاز شخصیت رہی ،اسی نسبت سے آپ کے گھر ادباء و شعراء کی آمد بکثرت ہو تی ،نامور مصنفین اور قلم کار حضرات کی محفلیں بھی آراستہ ہوتی رہتی ،اسی زمانہ میں آپ نے سب سے پہلے ماہر القادری ؒصاحب کے رسالہ’’ فاران‘‘ میں ایک مضمون بھیجا جس کی بڑی پذیرائی ہوئی اور یہاں سے وقتا فوقتا ادبی موضوعات بھی آپ کے زیر قلم آنے شروع ہو ئے ،اور آپ کے ادارت میں البلاغ نکلنے سے پہلے بیشتر مضامین فاران ہی میں شائع ہو تے ،اورتقریبا بڑے ادباء سے آپ کے روابط رہے ،آغاشورش کاشمیری سے بھی آپ کی مراسلت رہی ،پروفیسر حسن عسکری سے اپنے تعلقات کو جس پیرائے میں بیان کیا انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کریں :عسکری صاحب مرحوم کے ساتھ میرے تعلقات کی کہانی بھی عجیب ہے۔ بظاہر ہم دونوں کی دنیا ایک دوسرے سے بالکل الگ تھی۔ وہ اصلا ًافسانوی ادب وشعر و تنقید کے آدمی تھے،اور میں شروع سے دین کا خشک طالب علم ،وہ ادبی تحریروں کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ،اور میں بالکل گمنام ، وہ شعر وادب سے لے کر فلسفہ و سیاست تک ہر کوچے کی خاک چھانے ہوئے ،اور میں سدا بسم اللہ کی گنبد میں گوشہ نشیں ۔ ۔ ۔ چناں چہ آج سے گیارہ سال پہلے جب وہ میرے مکان پر تشریف لائے اور اپنا نام محمد حسن عسکری بتایاتو ایک لمحے کے لئے تو ذہن اس محمد حسن عسکری کی طرف گیا جس کے تنقیدی شہ پاروں سے ادبی دنیا گونج رہی تھی۔ ۔ ۔ صاحب طرز ادیب اور صحافی مولانا عبدالماجد دریابادی سے بھی آپ کے قریبی مراسم تھے اور دریابادی آپ کے مضامین کو اپنے معروف اخبار’’صدق ِ جدید‘‘میں کئی کئی قسطوں میں شائع کرتے۔
ماہنامہ البلاغ کی ادارت:
1386ھ میں ماہنامہ البلاغ کا اجراء عمل میں آیا ،یہ آپ کی ادبی اور شا ہکار تحریروں کا اصل میدان رہا ہے،اور سالہا سال سے آپ کا قلم پوری برق رفتاری کے ساتھ علم وتحقیق اور شعر و ادب کے موتی بکھیر تا ہوا نیز قومی ،ملی اور عالمی حالات کے تجزیہ پر چل رہا ہے اور باذوق قارئین کی تسکین کا سامان بنا ہو اہے۔ اس میں آپ نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا اور اب آپ کے اداریوں کے کئی ایک مجموعے مختلف عنوانات کے ساتھ طبع ہو کر مقبول عام ہو چکے ہیں۔ اس میں آپ نے اپنے عالمی اسفار کی روداد بھی لکھنے شروع کی جو بہت جلد حلقہ ٔ قارئین میں اہمیت اور دلچسپی کی شکل اختیا ر کرچکی ،اور لوگ مسافر ِ عالم کے دل کش وجادو بیاں قلم کے ساتھ دنیاجہاں کی سیر کر نے کے لئے بے تاب رہتے ،اور بہت محظوظ ہوتے ،اس وقت البلاغ اردو، عربی اور انگریزی میں نکلتا ہے اور رسائل و مجلات کی بھیڑ میں البلاغ کا اپنا ایک منفرد علمی معیار ہے جو بلاشبہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے قلم کی دین ہے۔
سفر نامے :
مفتی محمد تقی عثمانی کی جامع علمی شخصیت کے دامن میں یہ سعادت بھی آئی ہے کہ رنگ و نور سے سجے اس جہاں کو بچشم ِ خود دیکھنے اور کار خانہ ٔعالم کا مشاہدہ کر نے کا مو قع ملا،مختلف عملی نشستوں اورفقہی اجلاسوں میں شرکت کی غرض سے پوری دنیا کی سیر کرنے ،آباد گلشنوں ،اور ویران کھنڈروں کی زیارت بھی میسر ہوئی ،مغرب ومشرق ،شمال وجنوب کے دور دراز ملکوں کا دور ہ کرنے ،عرب و عجم کے سفرکے مواقع زندگی میں بہت آئے اور آج تک علم و تحقیق کایہ شناور مستقل پابہ رکاب رہتا ہے ،بقول جگر مرادآبادی :
؎ مجھ کو کسی سے کام کیا ، میرا کہیں مقام کیا
میرا وطن ہے در سفر،میرا سفر ہے دروطن
مفتی تقی عثمانی صاحب کی قلم کی رنگینی اور دلکشی کا سب سے بڑا مظہر آپ کے سفر نامے ہیں ، جو بلاشبہ آپ کے ادبی ذوق ومزاج کی بہترین تصویر کشی کرتے ہیں ، بلکہ آپ نے اپنے سفر ناموں میں اردو ادب کی نئی روایتوں کو زندہ کیا ،اور بڑے ہی پرلطف انداز میں قارئین کو سفری ادب سے آشنا کیا ،اردو کے دامن میں کئے ایک سفر نامے ہیں ،علماء کے بھی اور ادباء کے بھی ،مصنفین کے بھی اور مؤرخین کے بھی لیکن مفتی تقی عثمانی صاحب کے سفر ناموں کا رنگ و آہنگ سب سے منفر د اور دلفریب ہے ،جس میں ادب کی حلاوت و چاشنی بھی ،اور ذوق و جذبات کو تسکین دینے والی شاعری کا امتزاج بھی ، تاریخ اور جغرافیہ ،حالات کا تجزیہ ،اور درپیش مسائل کا حل بھی موجود ہے ، آپ کے سفر نامے اگر ایک طرف تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں تو دوسری طرف اردو ادب کے حوالہ نہایت معتبر اور مستند مقام کے حامل ہیں۔ آ پ کے سفر ناموں کے تین مجموعے ’’جہانِ دیدہ‘‘’’دنیا میرے آگے ‘‘اور’’ سفر در سفر ‘‘کے نام سے نہ صرف مقبول ہیں بلکہ کئی ایڈیشن ان کے اب تک نکل چکے ہیں اور تازہ اسفار کی روداد ماہنامہ البلاغ کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ محترم مفتی محمد مجاہد علی قاسمی صاحب ( استاد مدرسہ مصباح العلوم حیدر آباد )نے سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد سے آپ کے سفرناموں پر تنقیدی جائزہ لے کر ایم فل کی ڈگری بھی حاصل کی ہے اور اب کتابی شکل میں ’’مفتی تقی عثمانی بحیثیت سفر نامہ نگار ‘‘کے نام بھی دستیاب ہے جس پر پروفیسر بیگ احساس صاحب کا نہایت وقیع مقدمہ بھی موجود ہے جس میں پروفیسر بیگ احساس نے تقی عثمانی کے سفری ادب کی بھر پور ستائش کی اورمنفرد اسلوبِ نگارش قرار دیا۔
شاعری:
آسی یہ غنیمت ہیں تیری عمر کے لمحے
وہ کام کر اب،تجھ کو جو کرنا ہے یہاں آج
یہ معنی خیز شعرکہہ کر زندگی کی اہمیت کا احسا س دلا نے والا شاعر کوئی اور نہیں بلکہ علم و تحقیق کی سنگلاخ وادیوں میں سرگرداں رہنے والے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ہیں ،تقی عثمانی صاحب نے نثر میں قیمتی شہ پاروں کوپیش کرنے ساتھ نظم میں بھی اپنے قلبی احساسات اور شو ق و جذبات کا اظہارکیا اور اسی انداز میں کیا جس اندازمیں ان کے پیش رو اکابر اور علماء نے کیا، تقی عثمانی صاحب کی شاعری قلبی سوز وگداز اور روح کے احساسات کا نام ہیں جہاں ایک محب ِحقیقی الفاظ کے پیرہن میں اپنی وارفتگی کا اظہار کرتا ہے اور اپنے سلگتے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے،تقی عثمانی صاحب کے اشعار میں الفاظ و معانی کاایک سیل رواں موجزن رہتا ہے اور محبتوں کے دریاؤں میں تلاطم برپا ہوجاتا ہے ۔ آپ کو شعری ذوق والد بزرگوار مفتی محمد شفیع صاحب کی صحبت ،برادرِمکرم زکی کیفی کی شفقت،اور مرشد ڈاکٹر عبدالحئی عارفی کے در ِ دولت سے ملا،آپ نے اس ذوق کو پروان چڑھایا اور پھرلالہ وگل کی اس سیج پر گل بوٹے کھلانا شروع کئے،تقی عثمانی صاحب کی شاعری میں نظم و غزل بھی ہے ،دعا و مناجات بھی ، حمد و نعت بھی ہے ،مرثیہ و فراق وجدائی کا غم ودرد بھی، لیکن یہ روایتی طرز پر نہیں بلکہ ایک نئے اسلوب وانداز میں ،مختلف اصناف ِسخن کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ مناجات کے دو بند ملاحظہ ہو۔
سرگشتہ ودرماندہ بے ہمت و ناکارہ وارفتہ و سر گرداں بے مایہ و بے چارہ
شیطان ستم خوردہ اس نفس کا دکھیارہ ہر سمت میں غفلت کا گھیرے ہوئے اندھیارہ
آج اپنی خطاؤں کا لادے ہوئے پشتارہ
دربار میں حاضر اک بندہ ٔ آوارہ
آیا ہوں تیرے در پر خاموش نوالے کر نیکی سے تہی دامن انبار ِ خطا لے کر
لیکن تیری چو کھٹ سے امید ِ سخا لے کر اعمال کی ظلمت میں توبہ کی ضیالے کر
کشمیر سے متعلق آپ کی ایک خوبصورت نظم ہے جس کے دوشعر پیش ِ خدمت ہیں کہ :
تو حسن کا پیکر تو رعنائی کی تصویر
ائے وادی ٔ کشمیر ائے و ا دیٔ کشمیر
مخمو ر بہاروں سے حسیں خواب کی تعبیر
تو جلوۂ گہہ نو ر جہاں نور جہاں گیر
اب چاہے تیرے ماتھے پہ آزادی کی تنویر
آپ نے اپنے والد ماجد مفتی محمد شفیع ؒکی وفات پر ایک مرثیہ کہا جس کی بہت پذیرائی بھی ہوئی اور جس نے آپ کے ذوق کی عکاسی بھی کی جس کے کچھ اشعار یہ ہیں کہ :
تھیں جن کی جھلا جھل سے چکا چو ند نگاہیں
حسرت کے کھنڈر ہیں و ہ محلات ِ شہاں آج
جن باغوں کی نکہت سے معطر تھیں فضائیں
ہے مرثیہ خواں ان پہ ببولوں کی زباں آج
دنیا تو ہے بس اک مرحلہ راہ ِ عدم کا
اور موت کے محمل میں ہے رخت دل وجاں آج
یہ ایک طویل مرثیہ ہے جس میں باپ سے بیٹے کی بے پناہ محبت کا اظہار بھی ہے اور دنیا ئے ناپیدار کی بے ثباتی کا اچھوتا پیغام بھی ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب چوں کہ نہ صرف ایک دیندار گھرانے کے فرد ہیں بلکہ محبت و معرفت اور تصوف و احسان کی دولت لٹانے والے والے عظیم خانواہ کے پروردہ ہیں اور چہار دانگ عالم میں علم و تحقیق اور فقہ و فتاوی نیز اسلاف و اکابر سے غیر معمولی تعلق رکھنے والے والد اور خاندان کے تربیت یافتہ ہیں بلکہ اس وقت آپ کی شخصیت خود علم و عمل ،تحقیق و تدقیق ،تصوف و سلوک میں مینارۂ نور کی حیثیت رکھتی ہیں اس لئے آپ کی شاعری کا بڑا حصہ مناجات پر مشتمل ہیں اور آپ کی لکھی ہوئی مناجا ت کو پورے عالم میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی،خاص کر’’ الہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کر آیا ہوں ‘‘۔ ’’محبت کیا دل کا درد سے معمور ہوجانا‘‘،’’حرم کی مقدس فضاؤں میں گم ہوں ‘‘وغیرہ کو بے پناہ قبولیت حاصل ہوئی اور عالمی شہرت یافتہ نعت خواں جنید جمشید مرحوم کی پر سوز اور وجد آفریں آواز نے اس کے حسن کو اور بھی دوبالا کردیا ،آپ کی اکثر مناجات یوٹیوب پر بھی موجود ہیں ۔ اس طرح مفتی تقی عثمانی صاحب نے ہر میدان میں اپنی خداداد صلاحتیوں کا اظہار فرماکر اپنی محبوبیت کو دل وجان میں پیوست کر دیا ،آپ کو پوری دنیا میں علم و تحقیق اور فقہ و فتاوی کے حوالہ سے خوب جانا جاتا ہے بلکہ استناد بھی کیا جاتا ہے لیکن اس مختصر تحریر میں صرف آپ کی ادبی کاوشوں کا ذکر نہایت اختصار کے ساتھ کیا گیا تاکہ ادبی دنیا بھی یہ جان پائے کہ لوگ جن مولویوں کو خشک ہو نے کا الزام دیتے ہیں یہ گوشہ نشین مولوی نمود و نمائش سے دور رہ کر کس خاموش انداز میں زبان ِ اردو کے گیسو سنوارنے میں اور اس کی حلاوت و چاشنی کو اپنی ادبیت سے نکھارنے میں لگے ہو ئے ہیں ،اور کسی داد و تحسین کے بغیر ہی اردو ادب میں اضافہ کئے جارہے ہیں ،مفتی تقی عثمانی صاحب کا علمی ،اور ادبی سفر جاری ہے ،اللہ تعالی ان کی عمر میں بر کت عطا فرمائے اور اسی طرح تشنگان علم و ادب کو فیض یاب کر تے رہے۔
(بشکریہ: مضامین ڈاٹ کام اور جناب عابد حسین، کراچی)

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *