مریم زندہ رہے گی۔۔ انعام رانا

پیارےخالد،
میں تم سے کبھی نہیں ملا مگر تمھیں جانتا تو ہوں۔ تمھاری مریم کو تو میں جانتا بھی نہیں۔ مگر پچھلے کچھ دنوں سے تم پہ گزری اذیت میں نے محسوس کی ہے۔ ہاں میری کوئی بیٹی نہیں ہے مگر اپنے جاگتی آنکھوں سے دیکھے خوابوں میں ہمیشہ میں نے اک بیٹی کا تصور کیا ہے، معصوم، ذہین، محنتی اور انسانیت کا درد رکھنے والی۔ تمھاری مریم بھی تو ایسی ہی تھی۔ مریم جسے میں جانتا بھی نہیں، مگر اسکے اچانک بچھڑنے کا دکھ میری روح میں اک گھاؤ بن کر لگا۔
میری دادی بہت بہادر عورت تھی خالد۔ نوجوانی میں بیوہ ہونے والی خاتون نے زمانے کا مقابلہ کرنے کیلئیے خود کو پتھر کر لیا۔ اتنا پتھر کہ اس میں انسان تلاشنا کئی بار مشکل ہو جاتا تھا۔ مگر پھر اچانک اک دن ان کا بیٹا اور میرے تایا ساٹھ سال کی عمر میں چل بسے۔ نوے سال سے زیادہ کی میری دادی، جسے نظر آنا تقریباً بند ہو چکا تھا اور اونچا سنتی تھی، رونے پیٹنے کی آوازیں سن کر خاموش رہی۔ میں جب انکے پاس پہنچا تو پوچھا “کاکا کی ہویا، اے روندے کیوں نیں؟” میں نے روتے ہوے کہا کہ بی بی جی تایا جی فوت ہو گئے۔ اسکے بعد میں نے انکی آواز فقط ایک بار سنی، انکی وفات سے اک رات پہلے۔ اگلے چالیس دن وہ خاموش رہیں۔ میرا باپ، میری پھوپھیاں انکے گلّے لگ لگ کر روتے تھے مگر وہ نا روئیں نا کچھ بولیں۔ میرا باپ جو شاید انکی سب سے پیاری اولاد تھا، انگاروں پہ لوٹتا اور انکو پکارتا تھا مگر وہ نہیں بولتی تھیں۔ ہم بریلویوں میں چالیسواں ہوتا ہے خالد۔ چالیسویں کی رات اچانک وہ اسپتال کے بستر پر پڑی اپنے بیٹے کو آوازیں دینے اور چھاتی پیٹنے لگیں۔ اس چالیسویں کی شام، وہ فوت ہو گئیں۔ پتھر بہت سخت تھا مگر پگھل گیا۔
خالد، میرا تایا تو ساٹھ سال کا تھا۔ اور میری دادی نوے سے زیادہ۔ تئیس سال کی مریم کا تصور کرتا ہوں تو دل پر چوٹ لگتی ہے۔ ابھی تو اسے بہت کچھ دیکھنا تھا۔ وہ تو تئیس سال کی عمر میں ہی انسانیت کی خدمت کی راہ پر چل نکلی تھی، ابھی تو اسے اور بہت کچھ کرنا تھا۔ جوان اولاد کی موت شاید قیامت سے بڑی قیامت ہے۔ خدا کسی کو یہ دن نا دکھائے۔ مگر یہ آزمائش تم پر آئی ہے۔ میرا یا کسی اور کا کہا کوئی جملہ تمھیں قرار نہ دے گا۔ مریم کی یاد تمھاری باقی کی تمام عمر ایک رستا زخم بن کر تمھیں ستائے گی۔ میں تو دعا اور دنیاوی چند الفاظ کے سوا تم کو کچھ بھی نہیں دے سکتا۔
مگر خالد، سوچو تو وہ فرشتہ جو مختصر وقت کیلئیے آیا کیسی بھرپور زندگی گزار گیا۔ ہم میں سے اکثر اپنی تمام عمر فقط خود کیلئیے گزار دیتے ہیں۔ مگر اس نے یہ مختصر سی زندگی دوسروں کیلئیے گزاری۔ مرنا تو سب ہی کو ہے۔ نا کل میں رہوں گا نا تم نا یہ تحریر پڑھنے والے لوگ۔ مگر افریقہ کے ان پسماندہ بچوں کی یاد میں اور انکے علم و ہنر میں مریم ہمیشہ زندہ رہے گی۔ مریم جس نے ماں مریم (ع) کی سی معصوم مسکراہٹ اور محبت کے ساتھ افریقہ کے پسماندہ بچوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا، اسکی مختصر زندگی مجھ جیسوں کی لمبی عمر سے کتنی اہم اور بہتر رہی۔
پیارے خالد، مریم کے غم کو اپنی کمزوری مت بنانا، اسے اپنی طاقت بنا لو۔ مریم کی یاد کی انرجی کو پسے ہوے، پسماندہ بچوں کی زندگیوں میں بھر دو۔ مریم کو یاد کرتے ہوے ہر ایسے قدم کے نتیجے میں ہر بچے کے چہرے پر آنی والی مسکان تمھیں مریم کی معصوم مسکراہٹ یاد کرائے گی۔ تمہارا زخم بہت کاری ہے، مگر اس پر اس سے بہتر پھاہا کچھ نہیں اور یہ فقط تم خود رکھ سکتے ہو۔ اپنی بیٹی کی محبت کو ان بے شمار بچوں میں تقسیم کر دو جن سے وہ محبت کرتی تھی۔مریم زندہ رہے گی۔۔
پس نوشت:خالد عمر انگلینڈ میں مقیم اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ آپ رائیٹر بھی ہیں۔ انکی تئیس سالہ بیٹی مریم خالد ایک ٹرین حادثہ میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ قارئین سے دعا کی درخواست ہے

انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مریم زندہ رہے گی۔۔ انعام رانا

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *