سپیس اور ٹائم(5)۔۔وہارا امباکر

بیسویں صدی کے اوائل نے یکجائی کی کئی کوششیں دیکھیں۔ کچھ کامیاب ہوئی، زیادہ ناکام رہیں۔ اس دور کی تاریخ آج کی کوششوں پر بھی کچھ روشنی ڈال سکتی ہے۔
نیوٹن سے آئن سٹائن تک ایک تصور سب پر حاوی تھا۔ “دنیا مادے کے سوال کچھ نہیں”۔ الیکٹریسیٹی اور میگنٹزم بھی مادے کے ہی پرتو ہیں۔ ایتھر پر سٹریس ہیں۔ لیکن یہ والی خوبصورت تصویر اس وقت روند دی گئی جب سپیشل تھیوری آف ریلیٹیویٹی کی فتح ہوئی۔ کیونکہ اگر حرکت اور رفتار کا اپنا تصور بے معنی تھا تو ایتھر صرف فکشن تھا۔
“اگر فیلڈ مادے کے نہیں بنے تو شاید فیلڈ ہی فنڈامینٹل ہیں۔ مادہ فیلڈز سے بنا ہو گا؟”۔
اس آئیڈیا نے اپنے سپورٹر جمع کرنا شروع کر دئے لیکن ابھی اسرار باقی تھے۔ مثال کے طور پر، دو الگ قسم کے فیلڈ تھے۔ گریویٹیشنل اور الیکٹرومیگنیٹک۔ یہ دو کیوں ہیں؟ ایک کیوں نہیں؟ کیا یکجائی کی کہانی ختم ہو گئی؟ یکجائی کی آرزو میں نئے خیالات آنے لگے۔ فزسسٹ ان کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ نئی تلاش شروع ہوئی جس کو اب یونیفائیڈ فیلڈ تھیوری کی تلاش کہا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئن سٹائن الیکٹرومیگنٹزم کو سپیشل تھیوری آف ریلیٹیویٹی سے اکٹھا کر چکے تھے۔ اب نیوٹن کی تھیوری آف گریویٹی کو ریلیٹیویٹی سے اکٹھا کرنے کی کوشش تھی۔ اس میں کامیابی ہو گئی۔ اور یہ معمولی کامیابی نہیں تھی۔ یہ یکجائی آج فزکس کی کور تھیوری ہے۔
اسی دوران، فن لینڈ کے نورڈسٹروم ایک اور زاویے سے کوشش کر رہے تھے۔ 1914 میں انہوں نے معلوم کیا کہ گریویٹی اور الیکٹرومیگنٹزم سے ملایا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے سپیس میں ایک اضافی ڈائمنشن کی ضرورت پڑے گی۔ انہوں نے اس پر مساوات لکھیں جو دنیا کو سپیس کو چار ڈائمنشنز سے بیان کرتی تھی اور اس میں سے گریویٹی برآمد ہو گئی۔ ایک اضافی ڈائمنشن سے گریویٹی اور الیکٹرومیگنٹزم ایک ہو گئے اور یہ آئن سٹائن کی ریلیٹیویٹی سے بھی انتہائی پرفیکٹ مطابقت رکھتے تھے!
لیکن یہ نئی ڈائمنشن کہاں پر تھی؟ سپیس میں تو یہ نہیں ہے۔ کیا تھیوری غلط نہیں تھی؟ اس مسئلے سے بچنے کے لئے اس کو بہت چھوٹا سا دائرہ بنا دیا گیا، جس کو ڈیٹکٹ نہیں کیا جا سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئن سٹائن ایک بالکل ہی الگ راستے پر تھے۔ انہوں نے نئی طرح سے سوال پوچھنا شروع کر دئے تھے۔ 1907 میں انہوں نے خود سے دوسری قسم کی حرکات کے بارے میں سوال کئے۔ ایکسلریٹ ہونے والی حرکت کیا ہے؟ اس میں رفتار یا سمت بدلتی ہے۔ کیا یونیفارم حرکت اور ایکسلریٹ ہونے والی حرکت کو یکجا کیا جا سکتا ہے؟
پہلی نظر میں یہ سوال غلط لگتا ہے۔ یونیفارم حرکت کو ہم محسوس نہیں کر سکتے جبکہ ایکسلریشن کو کیا جا سکتا ہے۔ اور یہاں پر آئن سٹائن کو سب سے غیرمعمولی بصیرت ملی۔ وہ اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ “ایکسلریشن کے اثرات اور گریویٹی میں کوئی فرق نہیں!”۔ ایک لفٹ میں خاتون کھڑی ہیں۔ ان کو ایک فورس کا احساس ہو رہا ہے جو ان کو نیچے فرش کی طرف کھینچ رہی ہے۔ یہ زمین کی کشش ہے۔ اب اگر یہ لفٹ اوپر جانا شروع ہوئی تو ان کا احساس صرف یہ ہو گا کہ فرش کی طرف کھینچے جانے کے احساس میں اضافہ ہو جائے گا۔ فرض کیا جائے کہ لفٹ ساکن ہی ہے لیکن گریویٹی کچھ دیر کے لئے زیادہ ہو جائے؟ ان کو بالکل ویسا ہی محسوس ہو گا جیسا لفٹ اوپر جاتے وقت ہوا تھا۔
دوسری طرف اگر لفٹ کی تار ٹوٹ جائے اور یہ نیچے گرنے لگے؟ اس صورت میں یہ خاتون خود کو بے وزن محسوس کریں گی۔ ویسے ہی جیسے مدار میں خلاباز کرتے ہیں۔ گرتی ہوئی لفٹ کی ایکسلریشن گریویٹی کا اثر ختم کر دے گی۔
آئن سٹائن نے اندازہ کیا کہ چھت سے نیچے گرنے والے کو گرتے وقت گریویٹی کا کوئی اثر محسوس نہیں ہو گا۔ آئن سٹائن نے اس کو اپنی زندگی میں آنے والا سب سے خوش قسمت خیال کہا ہے۔ اس سے انہوں نے اصول بنا لیا جو equivalence کا اصول ہے۔ گریویٹی اور ایکسلریشن کا اثر ایک ہی ہے۔
آئن سٹائن ہر قسم کی حرکت کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یونیفارم حرکت اور ساکن ہونے میں فرق نہیں۔ ایکسلریشن اور گریویٹیشنل فیلڈ کی موجودگی میں ساکن ہونے میں کوئی فرق نہیں۔
اور اس خیال کے بڑے نتائج تھے۔ نہ صرف تصوراتی طور پر بلکہ تجربات بھی۔ گریویٹیشنل فیلڈ میں گھڑی سست پڑ جائے گی (جس کی بعد میں تصدیق ہو گئی)۔ 1911 میں آئن سٹائن نے پیشگوئی کی کہ گریویٹیشنل فیلڈ میں روشنی خم کھا جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کامیاب خیال کی طرح یہاں پر بھی ایک سے زیادہ یکجائیاں کی جا رہی تھیں۔ دو قسم کی حرکات اکٹھی ہو گئی تھیں۔ یونیفارم حرکت اور ایکسلریشن کی وضاحت ایک ہی طریقے سے ہو گئی۔ ایکسلریشن کے اثرات گریویٹی سے اکٹھے ہو گئے۔
لیکن نیا پرنسپل مکمل تھیوری نہیں تھا۔ اس تھیوری کی فارمولیشن آئن سٹائن کی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ اور انہیں اس پر دس سال لگے۔ کیوں؟ اس خاص انسائیٹ سے پہلے تصور کیا جاتا تھا کہ دنیا میں دو طرح کی الگ چیزیں ہیں۔ ایک وہ جو سپیس میں رہتی ہیں۔ دوسرا خود سپیس۔
آئن سٹائن نے اپنی تھیوری میں ان کو ایک ہی کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ہمارے پاس دو الگ راستوں سے آنے والی دو باربط اور اچھی تھیوریاں موجود تھیں۔ دونوں میں نیچر کی تصویر ایک دوسرے سے بڑی مختلف تھی۔ سوال صرف اتنا تھا کہ کونسی درست ہے؟
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *