نیلمانہ(قسط5)۔۔ادریس آزاد

سارنگ کو ہوش آیا تو وہ لیبارٹری میں تھا۔ بوڑھاپروفیسراُس پرجھکاہواتھا۔ پروفیسر کے ہاتھ میں بڑاساعدسہ تھا۔ اور وہ کسی باریک سی نوک والی سوئی کی مدد سے سارنگ کے منہ میں شاید کوئی دوائی ڈال رہاتھا۔پہلے تو سارنگ کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ وہ کہاں ہے۔ لیکن کچھ دیر غور کرنے کے بعد اُسے لگا جیسے وہ اپنی انّا کے بابا کی لیبارٹری میں ہے ۔ اس نے کہانیوں میں لیبارٹری کے بارے میں ہربات سنی ہوئی تھی۔ معاً اُسے یاد آیا کہ وہ تو زخمی ہوکر گرپڑاتھا اور اس کے پر ٹوٹ گئے تھے۔ تو پھر اتنی دوردراز کے علاقے میں وہ کیسے پہنچا؟ اس نے اپنے پرپھڑپھڑانے کی کوشش کی تو یہ جان کر اسے خوشگوارحیرت ہوئی کہ اس کے زخمی پروں پر کسی لوشن کا لیپ کیاگیاتھا۔شاید اُس کے نانا اُس کا علاج کررہے تھے۔ اسے پروفیسر پر پیار آنے لگا۔ اپنے اوپر جھکے ہوئے پروفیسر کو پہچانتے ہی اسے اندازہ ہوگیا کہ زخمی ہونے کےبعد کسی نہ کسی طرح اُسے پروفیسر کی لیبارٹری تک پہچایا گیاہے تاکہ اس کا علاج کیا جاسکے۔اس کا ذہن تیزی سے کام کرنے لگا۔ آخر اُسے یہاں تک کس نے پہنچایا ہوگا؟

اس نےایک بار پھر اپنے پر پھڑپھڑائے اورپھر اپنے ایک پر کے سہارا کسی قدر اُٹھنے کی کوشش کی۔اب وہ پہلو کے بل اُٹھ کر بیٹھ گیا۔پہلو کے بل بیٹھتے ہی اس کی نظر اپنی انّا پرپڑی۔اس کی انّا اس کے ساتھ ہی کچھ فاصلے پر بے سُدھ پڑی تھی۔ پہلے تو اس نے سوچا کہ انّا سورہی ہے۔ لیکن پھر اُسے خیال آیا کہ یہ بھلا کونسا سونے کا وقت ہے؟ اچانک کسی خیال کے تحت اس کے دل کوایک دھچکا لگا اور اس کے منہ سے بے اختیار نکلا،

tripako tours pakistan

’’اوہ مائی گاڈ! تو مجھے انّا یہاں لائی ہے؟ اُف یہ کیسے ممکن ہے؟ ایک کمزور اور بوڑھی تتلی جو ٹھیک سے اُڑبھی نہ سکتی تھی آخر مجھے کیسے یہاں تک لے کر آئی ہوگی؟‘‘

توگویا اس کی انّا سونہیں رہی تھی بلکہ بے ہوش تھی یا لمبی پرواز سے تھک کر………….

اس سے آگے وہ نہ سوچ سکا۔ وہ بے سُدھ پڑی ماریہ کے جسم کو گھور گھور کردیکھنے لگا۔ اس اُمید کے ساتھ کہ شاید انّا اب ہِلے گی کہ اب ہِلے گی۔ لیکن ماریہ تھی کہ ساکت وجامد پڑی تھی۔سارنگ نے پروفیسر کی طرف دیکھ دیکھ کر چلّانا شروع کردیا،

’’میری داد ی کوبچاؤ! خدا کے لیے پروفیسر! میری انّا کو بچالو! یہ آپ کی ہی بیٹی ہے۔ یہ آپ کی ماریہ ہے۔ آپ کا بے بی ہے ‘‘

لیکن پروفیسر کو کچھ نہ سنائی دیا۔ اُس نے پلاسٹک کی ایک چھوٹی سی چمٹی کے ساتھ پہلو کے بل بیٹھے ہوئے سارنگ کو پشت سے پکڑا اور دوبارہ سیدھا کرکے لٹادیا۔ ساتھ ہی پروفیسر بُڑبڑایا،

’’نہیں بیٹا جی! اس طرح اُٹھ کر نہیں بیٹھنا۔ ورنہ آپ کے پَر پھر سے زخمی ہوجائینگے‘‘

سارنگ کو دوبارہ لٹا کر پروفیسر اپنی جانی پہچانی نیلی تتلی لُوسی کی طرف بڑھا۔ وہ خود بہت حیران تھا کہ لُوسی کس طرح یہاں تک پہنچی ہوگی۔ اوروہ بھی اپنی پشت پر ایک جوان زخمی تتلے کو اُٹھا کر؟ پروفیسر کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایسا ہوسکتاہے۔ وہ اس سے ہٹ کر دیگر امکانات پر غور کررہاتھا۔ لیکن سچ یہی تھا جو پروفیسر کی پہلی سوچ تھی۔ وہ جب لیبارٹری میں آیا تو اس نے یہی دیکھا تھا کہ بوڑھی لُوسی میز پر بے ہوش پڑی تھی اور اس کی پشت پر ایک نوجوان، زخمی تتلا بھی بے ہوش پڑاتھا۔پروفیسر نے ذہن پر زیادہ زور دینے کی بجائے لُوسی کو بچانے کی ترکیبیں سوچنا شروع کردیں۔ لیکن وہ زیادہ پُراُمید نہیں تھا۔ تتلی بہت بوڑھی ہوچکی تھی۔پروفیسر لوسی کو پہچانتاتھا۔ وہ جب بھی باغیچے میں جاتا تو دیکھتا کہ لُوسی کی نسل اپنے آپ بڑھ رہی تھی۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ لُوسی نے ویسٹ ایسٹ فالیَن فائر نسل کے تتلے کے ساتھ ملاپ کیا تھا ۔پروفیسر نے اب کبھی بھی تتلیوں پر تحقیق نہ کی تھی۔ وہ بس لیبارٹری میں آتا تو تب بھی اپنی بیٹی کی یادوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لیے آتا تھا اور اگر باغیچے میں جاتا تو تب بھی اپنی ماریہ کی یادوں میں خودکلامی کرنے جایا کرتاتھا۔

وہ میز کی دوسری طرف سے گھوم کر لُوسی کے پاس آیا۔ اس نے پلاسٹک کی ایک چھوٹی سی چمٹی کےساتھ لوسی کے جسم کو ہِلاکردیکھا۔ لُوسی کے بوڑھے بدن میں بہت ہی معمولی سی جنبش ہوئی۔پروفیسر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی،

’’بوڑھی اماّں! تم خاصی سخت جان ہو۔ میں تو سمجھا چل بسی ہوگی میری دوست!‘‘

لیکن ماریہ کچھ نہ سن رہی تھی۔ اس کی آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں اور وہ ٹکٹکی باندھے اپنے بابا کے چہرے کو تکے جارہی تھی۔ پروفیسر کو نہ جانے کیا ہوا کہ اُس نے تیزی سے عدسہ اُٹھایا اور لُوسی کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ لُوسی کی آنکھوں کی چمک ماند پڑتی جارہی تھی لیکن پھر بھی پروفیسر کو اُن میں عجب سی شناسائی محسوس ہوئی۔ وہ حیران تھا کہ آخر یہ کیا ماجراہے۔ ایک تتلی کی آنکھوں میں اسے اپنے لیے واقفیت یا شناسائی کا عنصر کیسے محسوس ہوسکتاہے؟ اس کا دل اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھالیکن وہ اپنی آنکھوں دیکھی حقیقت کو جھٹلا بھی نہیں سکتا تھا۔اس نے عدسہ اور زیادہ قریب کرکے لُوسی کی آنکھوں میں مزید گہری توجہ کے ساتھ جھانکا تو اُسے لگا کہ شاید مرتی ہوئی تتلی اُس سے کچھ کہنا چاہ رہی ہے۔وہ اس سب انہونے سے مظہرِ فطرت کو سمجھنے کی کوشش کررہاتھا کہ اسی اثنأ میں اس کی دیرینہ دوست ، نیلی تتلی لُوسی نے ایک ہلکی سی جھرجھری لی اورجان دے دی۔ لُوسی مرگئی۔نیلمانہ مرگئی۔ تتلیوں کی دنیا کی سب سے پڑھی لکھی اور دانا تتلی آخر آج اپنے خالقِ حقیقی سے جاملی تھی۔

پروفیسر کے دل کو شدید دھچکا لگا۔ جانے کیوں اسے لگا جیسے اس کی ماریہ آج مرگئی ہو۔وہ سوچنے لگا، کیا وہ پاگل ہوچکاہے؟ پروفیسر کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں اور وہ ایک ٹُک مری ہوئی لُوسی کے بوڑھے جسم کو دیکھے جارہاتھا۔

*********

ہسپتال میں اچانک شور مچ گیا۔کمرہ نمبر تئیس کی مریضہ ہوش میں آگئی۔ کومے کی مریضہ ہوش میں آگئی۔ پیشنٹ ماریہ نے آنکھیں کھول دیں۔ایک نرس دوڑتی ہوئی کافی شاپ پر بیٹھے راہیل کے پاس آئی اور انتہائی پرجوش لہجے میں اسے بتانے لگی،

’’آپ کا مریض ہوش میں آگیاہے۔ بہت بہت مبارک ہو راہیل صاحب! آپ بہت خوش نصیب انسان ہیں۔ آج تک اس شدت کے برین ہمبرج کا مریض کبھی بھی کومے سے واپس نہیں آیا۔ لیکن ماریہ صرف بارہ دن بعد ہوش میں آگئی ہے‘‘

راہیل مارے خوشی کے جیسے پاگل ہی تو ہونے والا تھا۔ اس نے کافی کا ڈسپوزیبل مگ وہیں سٹول پر چھوڑا اور سرپٹ ماریہ کے وارڈ کی طرف دوڑنے لگا۔ ماریہ کے کمرے میں پہنچا تو ٹھٹک کر رک گیا۔ماریہ سچ مچ آنکھیں کھولے بیڈ پر لیٹی تھی۔ وہ خاموش تھی لیکن اس کے دیکھنے کا انداز بتارہاتھا کہ وہ نارمل ہے۔ کیونکہ وہ سب نرسوں، ڈاکٹرز اور باقی لوگوں کو کسی ہوشمند انسان کی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ ماریہ کے چہرے پر حیرت ، خوشی اور تجسس کے ملے جلے آثارتھے لیکن وہ بے حد نحیف تھی۔ معاً اس کی نظر راہیل پر پڑی تو اس کی آنکھوں میں راہیل کے شناسائی کی لہر دکھائی دی۔ راہیل فوراً سمجھ گیا کہ ماریہ کے ہوش و حواس سچ مچ واپس لوٹ آئے ہیں۔اس نے ماریہ کی طرف دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی لیکن وہ چھلک پڑا۔ ایسا چھلکا کہ پھوٹ پھوٹ کر رودیا۔

معاً ماریہ کے کانوں میں کسی ڈاکٹر کی آوازپڑی،

’’پیشنٹ کے والدین کو خبر کردی ہے؟‘‘

’’یس سر! وہ آتے ہی ہونگے‘‘

**********

آج پندرہ دن بعد ماریہ ایک مرتبہ پھر اپنے باغیچے میں تھی۔ وہ اپنے بابا سے لُوسی کی ساری کہانی سن چکی تھی۔ لیکن اس نے ابھی تک بابا کو کچھ بھی نہ بتایا تھا۔ حالانکہ اسے ایک ایک بات یاد تھی۔ ابھی تک وہ خود کو پوری طرح سنبھال نہیں پائی تھی۔ اسے یقین ہی نہ آتاتھا کہ اس قدر انتہائی سطح کا عمررسیدہ ہوجانے اور مرجانے کے بعد وہ پھر ایک جوان لڑکی کے رُوپ میں واپس ماریہ بن کر کیسے اپنے گھر لوٹ آئی؟ وہ اگر کسی بات پر یقین کرسکتی تھی تو فقط اس بات پر کہ اس نے ایک طویل خواب دیکھاہے۔ لیکن اس کا دل نہیں مانتاتھا۔ اس پر مستزاد وہ اپنے بابا سے لُوسی اور نوجوان تتلے کی کہانی سن چکی تھی۔بابا نے بتایا کہ لُوسی مرگئی تھی لیکن وہ نوجوان تتلا ٹھیک ہوگیا تھا۔

آج باغیچے میں ماریہ سارنگ کو ہی دیکھنے آئی تھی۔موتیے کے پھولوں کی کیاری پر ’’سمیارگس اور ویسٹ ایسٹ فالین فائر کی مشترکہ نسل‘‘ کی تتلیاں پرواز کررہی تھیں۔وہ ان سب تتلیوں کو پہچانتی تھی۔ وہ ان میں سے ایک ایک کا نام جانتی تھی۔

اور پھر وہ بڑے پودے کے پاس سے گزری تو اسے اپنی شادی کا دن یاد آگیا۔ اُسے اپنا پرنس یاد آگیا جس نے ماریہ کے لیے جان پر کھیل کر آسمان کے دروازوں والی عمارت تک کا سفر کیا تھا۔ پرنس فائینی ، اُس کا شریک ِ سفر، اس کا جیون ساتھی، اس کا محبوب۔ ماریہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ اسے وقتی طور پر اپنا پوتا سارنگ بھول گیا اور اپنا محبوب شوہر یاد آنے لگا۔

اس نے کیسے خوشحالی کے دن گزارے تھے۔ ایک لمبی زندگی، اتنی لمبی کہ کوئی بھی اتنا جیتا جیتا آخر تھک جائے۔ اس تھکاوٹ میں محبوب کی جدائی کا دخل سب سے زیادہ تھا۔وہ موتیے کے بڑے پودے کے پاس ہی کھڑی رہی۔وہ ایک ایک شاخ ، ایک ایک ٹہنی، ایک ایک پھول اور ایک ایک پتے کو پہچانتی تھی۔یہاں اس کا گھر تھا۔ وہ یہاں سالہاسال رہی تھی۔اس نے شادی، غم، تہوار، رسم و رواج، لڑائی جھگڑے، دکھ درد سب کچھ یہیں کاٹاتھا۔ وہ ان تتلیوں میں سے ہرایک کی رشتے میں کچھ نہ کچھ لگتی تھی۔ اُسے اپنے ابتدائی دن یاد آنے لگے۔ شاؤزان، بزرگ وید موروان بابا وہ سب لوگ جنہوں نے شروع شروع میں اُسے سہارا دیا تھا۔

اسے اپنی شادی والے دن کی تمام تقریبات یاد آنے لگیں۔ اسے اپنا دلہنوں والا لباس اور بناؤ سنگھار یاد آیا۔ اپنی سہیلیاں یاد آئیں۔ سب کتنے خوش تھے۔ پرنس کتنا حسین لگ رہاتھا۔ وہ تھا بھی تو لاکھوں میں ایک۔ماریہ باقاعدہ رونے لگ گئی۔وہ وہیں اپنے پرانےگھر کے پاس ہی زمین پر بیٹھ گئی۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں ۔ آنسوؤں کی لڑیاں اس کے گالوں پر ٹوٹ کر بکھرچکی تھی۔معاً اسے محسوس ہوا جیسے اس کے ہاتھ کی پشت پر کچھ سرسراہٹ سی ہوئی۔ اس نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔

اُس کے ہاتھ پر سارنگ بیٹھا تھا۔سارنگ کے دونوں پروں پر پرانے زخموں کے نشانات تھے۔ اب اس کے پرٹھیک ہوچکے تھے اور وہ اُڑسکتاتھا۔ماریہ نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا اور ایک زوردار چیخ کے ساتھ اسے پکارا،

’’سارنگ! میرے بچے! اوہ مائی گاڈ‘‘

کچھ دیر بعد سارنگ نے اس کے ہاتھ پر مخصوص انداز میں پرپھڑپھڑائے۔ ماریہ بے حد جذباتی ہورہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ سارنگ اسے سن رہاہے اسی لیے اُس نے پر پھڑپھڑائے ہیں۔ وہ بھی تو اپنے بابا کی ہتھیلی پر ایسے ہی کچھ وقفے کے بعد پر پھڑپھڑاتی تھی۔ اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ سارنگ اسے نہیں پہچانتاہوگا۔ چنانچہ وہ بولتی چلی گئی،

’’میرے بچے! میرے سارنگ۔ میں تمہاری انّا ہوں، تمہاری دادی۔ میں ہی تمہیں لیبارٹری میں لے کر گئی تھی۔ لیکن میں بہت بوڑھی ہوچکی تھی اور سفر بہت لمبا تھا۔ اس لیے میں جانبرنہ ہوسکی۔لیکن بیٹا تمہاری انّا مری نہیں۔ ہیں نا؟ یادرکھنا! تمہاری انّا مری نہیں۔ ابھی زندہ ہے۔ میں ہوں ۔ میں ماریہ ہوں۔ میں روز تمہیں کہانیاں سنایا کرونگی۔ اسی طرح جس طرح پہلے سنایا کرتی تھی۔ تم کبھی اداس نہ ہونا۔ میں تمہاری شادی بھی دھوم دھام سے کرونگی۔ تم اپنی انّا کے سارنگ ہو میرے لعل! میرے شہزادے!‘‘

ماریہ بولتی جارہی تھی اور سارنگ پرپھڑپھڑاتاچلاجارہاتھا۔ دو مختلف زمان و مکاں کے درمیان مواصلات کا کائناتی نظام جاری تھا لیکن دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں تھا جو اس رابطے اور اس تعلق کی حقیقت کو پہچان سکتا۔ کوئی بھی نہیں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *