امریکہ کو پاکستان کا بہترین جواب۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

امریکی وزیر خارجہ اپنے کثیر الملکی دورے کے دوران میں پاکستان بھی آئے اور انھوں نے اپنے ایک بیان میں غیر ذمہ دارانہ اور غیر سفارتی زبان استعمال کرتے ہوئے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا، جسے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے یکجان ہو کر مسترد کر دیا اور امریکہ سے مطالبہ کیا کہ اب پاکستان کے بجائے امریکہ کی باری ہے کہ وہ خطے اوردنیا کے لیے ڈو مور کرے۔یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیرخارجہ خواجہ آصف محمود ، مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہاں سے ملاقات کی۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان ‘خطے میں امن واستحکام اور گہرے معاشی تعلقات کے مواقع پیدا کرنے کے ہمارے مشترکہ اہداف کےلیےنہایت اہم ہے۔جبکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پرعزم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نتائج حاصل کیے ہیں اور امریکا کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے اور بہترین تعلقات قائم کرنے کے لیے بھی پرعزم ہیں۔وزیراعظم پاکستان نے مزیدکہا کہ امریکا یقین دہانی کرواسکتا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسٹریٹجک حصہ دار ہیں اور آج پاکستان دنیا میں دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہے۔خیال رہے کہ امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور تعلقات کی بحالی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل تصور کیا جارہا ہے۔
دریں اثنا وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان، امریکا سے معاشی امداد اور اسلحہ نہیں چاہتا بلکہ اعتماد اور عزت و وقار کے ساتھ دوستی رکھنا چاہتا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ خواجہ آصف کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے جو کوششیں کی جارہی ہیں وہ اطمینان بخش ہیں جس سے صورتحال مزید بہتر ہوجائے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک،امریکا تعلقات میں اعتماد فوری طور پر دوبارہ قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کئی سالوں سے تعلقات کے حوالے سے اتنی برف جم چکی ہے جسے پگھلنے کے لیے وقت درکار ہے۔وفاقی وزیر خارجہ نے پاکستان کے لیے امریکی رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکا کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی کے نتائج بھگتے ہیں اور ان سے آج بھی نبرد آزما ہے۔پاکستان میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے نتیجے میں 70 ہزار سے زائد جانوں کے نذرانے دیئے، کھربوں روپے کا نقصان ہوا اور پاکستان کا پر امن معاشرہ تباہ ہوگیا۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اسلام آباد، واشنگٹن کے ساتھ دوستی کے نقصانات کا ازالہ کر رہا ہے جس میں پوری پاکستانی قوم بھی متحد ہے۔پاک،امریکا تعلقات میں تناؤ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاملات دھمکی سے نہیں بلکہ صلح کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں۔
اس امر میں کلام نہیں کہ پاکستان نائن الیون کے بعد جب امریکہ کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی بنا تو پاکستان کو معاشی، سماجی اور عسکری حوالے سے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔اعدا و شمار بڑے تکلیف دہ ہیں۔ امریکہ نے حتیٰ کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے پیسے بھی ایک وقت میں روک لیے تھے۔ اس جنگ میں جو بد اعتمادی کا عنصر ہے اس کی دیگر وجوھات میں بسے ایک وجہ پاک افغان بارڈر کا طویل تر ہونا بھی ہے۔ یہ ذمہ داری نیٹو فورسز کی بھی بنتی ہے کہ وہ بارڈر کی ناکہ بندی میں پاکستانی فورسز کی ہمرکاب ہوں۔ مگر بوجہ نیٹو فورسز ایسا نہ کر سکیں، جس کے باعث پاک امریکہ تعلقات میں اس جنگ کے حوالے سے بد اعتمادی پیدا ہوئی۔حالانکہ دنیا میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو تنہا دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور الحمد اللہ پاکستان یہ جنگ جیت بھی رہا ہے۔آپریشن ضرب عضب کے بعد بالخصوص دہشت گردی کے واقعات میں نوے فی صد سے زائد کمی ہوئی ہے اور یہ کسی بھی ملک کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔

جہاں تک بات ہے کہ امریکہ پاکستان پر دہشت گرد گروہوں کی پشت بانی کا الزام عائد کرتا ہے، تو یہ صریحاً ایک لغو بات ہے۔پاکستان کے اندر طالبان اور اسی فکری رویے کے حامل قریب قریب سارے گروہ دہشت گردی کی کارروائیاں کر چکے ہیں،اور پاک فوج تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کر رہی ہے۔ اب امریکہ اگر یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان افغان طالبان کو کارروائیوں سے روکے، تو یہ امریکہ کا غلط مطالبہ ہے، افغان طالبا ن تو پاکستان کے زیر اثر ہیں اور نہ ہی پاکستان سے انھیں کسی قسم کی کو ئی مدد مل رہی ہے۔ یہ امریکی وہم ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔
بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ افغانستان کو اب بھارت، اور داعش بھی بیس کیمپ کے طور استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ دنیا کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے بجائے افغانستان میں مضبوط ہوتی داعش کے خلاف کارروائی کرے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے امریکہ کو جو ،جواب دیا گیا وہ بڑا نپا تلا اور سفارتی حدود کے اندر رہ کر دیا گیا ایک بہترین جواب ہے اور یہی امریکہ کا علاج بھی ہے۔ پاکستان امریکہ سے باہمی اعتماد اورآبرو مندانہ تعلقات کا خواہاں ہے ، نہ کہ بھیک کا۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *