ایسا پورے وثوق کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔اسد مفتی

سیاست جو کہتی ہے سو تو کہتی ہے،اور جو نہیں کہتی سو بھی کہتی ہے۔ برصغیر میں کیا کچھ ہورہا ہے، یا ہوتا رہا ہے،اس کی ایک جھلک دکھانے کے لیے آپ کو سرحد پار لیے چلتا ہوں ۔

جے پرکاش نرائن اپنے علم اور صلاحیت کے اعتبار سے بھارت کے چوٹی کے لیڈروں میں سے تھے، ان کا کام عام طور پر مخلص اور سنجیدہ انسان سمجھ جاتا تھا۔ اور ہر طبقہ کے لوگ ان کا احترام کرتے تھے اور پٹنہ میں ان کی رہائش تھی۔ کہتے ہیں ان کے مکان کے سونے کے کمرے میں دیوار پر یہ شعرلگا ہوا ہے ۔۔۔
مالک تیری رضا رہے،اور تو ہی تو رہے
باقی نہ میں رہوں ،نہ میری آرزو رہے!

وہ اپنے دل میں سماجی اصلاح کا جذبہ رکھتے تھے، اور اپنے الفاظ میں “مکمل انقلاب” کےعلمبردار تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ بھارت کے لوگ ان کا مطلوبہ انقلاب لانے کے لیے بے قرار ہیں ، صرف اندرا گاندھی کی حکومت راستے کی رکاوٹ ہے،اندرا حکومت ختم ہوجائے تو اس کے بعد مطلوبہ سماجی نظام نہائیت آسانی سے قائم ہوجائے گا ،ان کو اپنے اس اندازہ پر اتنا یقین تھا کہ وہ اس اعلیٰ مقصد کے حصول کی خاطر فوج اور پولیس کو بغاوت پر ابھارنے کو بھی جائز سمجھنے لگے۔

اندرا گاندھی کی بعض غلطیوں نے ان کو موقع فراہم کیا کہ وہ 1977 میں اس حکومت کو ختم کرنے میں شاندار طور پرکامیاب ہو گئے۔تاہم اس ” کا خیال” کے معنی صرف یہ تھے کہ اقتدار اندرا کے ہاتھوں سے نکل کر مرار جی ڈیسائی کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ جیسے پاکستان کی 42 سیاسی پارٹیوں کے ہاتھ میں آنے کی بجائے فوج کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔

جے پرکاش نرائن کے لیے سماجی نظام کا قیام پھر بھی خیالی امید ہی بنارہا۔اقتدر کی تبدیلی کے بعد اگرچہ ذاتی طور پر جے پرکاش کا نام اتنا بلند ہوا کہ ان کو کئی خطابوں سے نوازا گیا ، تاہم اپنی تمام تر کامیابی کے باوجود اکتوبر 1979 کو وہ دنیا سے اس احساس کے ساتھ چلے گئے کہ اس کا مکمل انقلاب اپنی تمام تر دھوم کے باوجود جزوی انقلاب بھی نہ بن سکا۔

مزید یہ کہ جنتا پارٹی میں بہت جلد پھوٹ پڑ گئی، اور صرف 28 ماہ بعد ہی جنتا حکومت ٹؤٹ گئی۔اپنی محبوب جنتا پارٹی کا یہ انجام جب ان کے علم میں آیا تو کہتے ہیں کہ ان کی زبان سے نکلا “باغ اجڑ گیا”۔آخر وہ اتنے دل شکستہ ہوگئے کہ موت سے ایک دن پہلے ایک دوست نے ان کی خیریت پوچھی تو انہوں نے کہا “میں کس طرح جی رہا ہوں ،بس موت کا انتظار کررہا ہوں ، ”

جے پرکاش نرائن کا یہ واقعہ محض ایک واقعہ نہیں ،بلکہ وہ عبرت کا آئینہ ہے۔ جس میں آپ اسی قسم کی بہت سی تصویریں بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ ایک مصلح جب ظالم حکومت کو ہٹانے کے لیے زمامِ اقتدار اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو مشترک دشمنی کا جذبہ بہت سے مختلف الخیال اور بھانت بھانت عناصر کو اکٹھا کردیتا ہے۔ اس طرح کوئی بھی جماعت یا پارٹی اقلیت میں ہونے کے باوجود متحدہ محاذ میں شامل ہوکر اکثریت حاصل کرلیتی ہے۔

مگر جب ظالم حکومت ہٹ جاتی ہے تو سب کا مفاد الگ الگ ہوجاتا ہے، اور مصلح اگر طاقتور ہو تو وہ متحدہ محا زکو گھاس نہیں ڈالتا ، اور لوگ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں ۔اب مصلح چونکہ مسلح ہے اس لیے بلا شرکت غیرے اسے حکومت کرنے کا حق حاصل ہوجاتا ہے، اوراگر وہ سیاسی جماعت ہے تو اکیلی ہوکر دوبارہ اسی اقلیت کے مقام پر چلی جاتی ہے جہاں وہ متحدہ محاذ بننے سے پہلے تھی۔

یہی وجہ ہے کہ وہ “ظالم “کو ہٹا کر بھی عادل کو اقتدار کی گدی پر بٹھا نہیں پاتی۔ جے پرکاش نرائن اور ان کی قسم کے دوسرے مصلح اور مسلح افراد کی شاندار کامیابی کے بعد عبرتناک ناکامی کاسبب یہی ہے کہ سوئی کے کارخانے میں ایک لوہے کے ٹکڑے کو تقریبا!ً 20 مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے۔ تب وہ سوئی بن کر تیار ہوتی ہے۔ جس کو ایک آدمی سلائی کے کام میں استعمال کرتا ہے۔ اب اگر ایک جلد باز آدمی ہتھوڑے کی پہلی ہی ضرب سے سوئی بنا نا چاہے گا تو مطلوبہ سوئی تو نہ بنے گی، البتہ لوہے کا ٹکڑا ٹوٹ پھوٹ کر بے کار ہوجائے گا۔

ایسا ہی کچھ معاملہ ملک عزیز میں تعمیرِ ملک و قوم کی کوششوں کا ہوا ہے۔ آدھی صدی سے بھی زیادہ مدت کے پرشور ہنگاموں کے باوجود آج بھی ہمارا قافلہ اسی مقام پر ہے جہاں سے آدھی صدی پہلے چلا تھا۔بلکہ شاید کچھ اور پیچھے۔ اس کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے مصلح ،مسلح لیڈر پہلی ہی ضرب میں ایک عمدہ اور چمکدار سوئی تیار کرلینا چاہتے ہیں ، وہ 20 مرحلوں کے صبر آزما دور سے نہیں گزرنا چاہتے ،

انیسویں صدی کی چوتھائی دہائی میں برصغیر کے مسلمانوں نے دیکھا کہ مغربی قوم جو ہندوستان پر قابض ہو گئی ہے، سے چھٹکارہ حاصل کیا جائے، انہوں نے سوچا کہ لڑ بھڑ کر کسی طرح اس غیر ملکی اور اجنبی قوم کو نکال دو اور اپنے لیے الگ خطہ زمین حاصل کرلو ،تو اس کے بعد اسلام کی عظمت کا دور دوبارہ شروع ہوجائے گا ۔ اور اچھے دن آجائیں گے۔ بے شمار جانی نقصان کے بعد یہ مہم بھی کامیاب ہوگئی مگر اسلام اور مسلمان جس مغلوبیت کی حالت میں پہلے تھے وہی اب بھی باقی رہے۔

پاکستان میں جس جدید دنیا کو پیدا کرنے کے لیے علمی و عملی تیاریوں کی ضرورت تھی اس کے لیے ہمارے لیڈروں نے کچھ نہیں کیا ۔ پاکستان میں مذہبی اور سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے دیکھا کہ جو مسلم شخصیت یا پارٹی ملک پر حکومت کررہی ہے اس کے زیر حکومت بہت سی غیر اسلامی چیزیں رائج ہورہی ہیں ، انہوں نے سمجھا کہ بس اس شخص کو اتار کر پھینکو یا مار ڈالو یا اس کی جماعت کو اقتدار کی گدی سے نیچے کھینچ لو تو اس کے بعد ہر طرف نظام ِ اسلام اور نظامِ مصطفیٰ کی ہوائیں چلنے لگیں گی، مختلف اندرورنی اور بیرونی عناصر کے اشتراک سے یہ مہم کامیاب ہوگئی۔، سب سے بڑے “مخالف اسلام “کو ختم کردیا گیا۔

مگر اس کے بعد جو دوسرا یا تیسرا نظام آیا وہ بھی پہلے ہی کی طرح غیر اسلامی نظام تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت کے چلانے والے افراد ہمیشہ اپنے معاشرے اور سماج سے نکل کرآتے ہیں ، نہ کہ آسمان سے۔اور جب سماج اور معاشرہ بری طرح بگڑا ہوا ہو تو محض کسی فرد یا کسی سیاسی پارٹی کے بدلنے سے نظام نہیں بدل سکتا۔
ہر مصیبت میں جسے میں باخبر کرتا رہا
میری ہر بات کو وہ بے اثر کرتا رہا!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *